گریڈ 22؍ کی ’’لوُٹ سیل‘‘

جس وقت حکومت کورونا وائرس سے درپیش بڑے خطرے سے نمٹںے میں مصروف ہے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے درخواست کی ہے کہ اعلیٰ سطح کے بورڈ کا اجلاس طلب کیا جائے تاکہ سویلین بیوروکریسی میں 22؍ گریڈ کے عہدوں پر ترقی دی جا سکے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ذرائع نے توقع ظاہر کی ہے کہ طاقتور سلیکشن بورڈ کا اجلاس رواں ہفتے منعقد کیا جا سکتا ہے۔ جو افسران اپنے ترقی کے منتظر ہیں وہ اس تذبذب میں مبتلا ہیں کہ میرٹ اور کارکردگی کی جیت ہوگی یا پھر سویلین بیوروکریسی میں اعلیٰ سطح پر ہونے والی ترقیوں کے معروضی عمل کا فیصلہ ’’رائے‘‘ کے ذریعے کیا جائے گا۔ پروموشن بورڈ کے اجلاس کی صدارت وزیراعظم کریں گے جبکہ دیگر ارکان میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور اسٹیبلشمنٹ ارباب شہزاد، وزیراعظم کے مشیر برائے سول سروسز اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین، کابینہ سیکریٹری اور سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ شامل ہیں۔ اعلیٰ سطح کے اس اجلاس میں وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری بھی شرکت کریں گے۔ 22؍ گریڈ پر ترقیاں خصوصی طور پر وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار ہوتی ہیں اور وہ جب چاہیں کسی طے شدہ عمل کے بغیر ہی 21؍ گریڈ کے افسران کو 22؍ گریڈ میں ترقی دے سکتے ہیں۔ 2012ء میں جب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک ہی مرتبہ میں 56؍ افسران کو گریڈ 22؍ میں ترقی دی تھی تو اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان نے اس معاملے کا نوٹس لیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس کیس کا جامع فیصلہ سناتے ہوئے ان ترقیوں کو کالعدم قرار دیا تھا اور ان کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں گریڈ 22؍ کی ’’لوُٹ سیل‘‘ قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا تھا کہ 21؍ گریڈ کے کسی بھی افسر کو اس وقت تک ترقی نہیں دی جا سکتی جب تک کہ وہ 21؍ گریڈ میں دو سال تک خدمات انجام نہیں دیتا۔ سپریم کورٹ نے یہ شرط اس لیے عائد کی تھی کیونکہ اس وقت کے وزیراعظم نے ایسے افسران کو بھی 21؍ گریڈ سے 22؍ میں ترقی دیدی تھی جنہیں 21؍ گریڈ چند ہفتے قبل ہی ملا تھا۔ بیوروکریسی میں اعلیٰ سطح پر ترقی کے معاملے میں کوئی نظام طے نہ ہونے اور وزیراعظم کی جانب سے بلا روک ٹوک اختیار استعمال کرنے پر سپریم کورٹ کی جانب سے سخت سوالات اٹھائے جانے کے بعد اعلیٰ سطح کا پروموشن بورڈ تشکیل دیا گیا تھا۔ تاہم، نومبر 2019ء میں ہائی لیول پروموشن بورڈ کے اجلاس میں ہونے والی مشاورت میں سرکاری ملازمین نے سنگین تحفظات کا اظہار کیا تھا، ان کی رائے تھی کہ موجودہ حکومت نے کئی ایسے لوگوں کو 22؍ گریڈ مین ترقی دی ہے جن کے معاملے میں میرٹ کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ کے آخری اجلاس میں پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروسز (پی اے ایس) کے 11؍ افسران کو گریڈ 22؍ میں ترقی دی۔ تاہم، پی اے ایس گروپ کے 40؍ فیصد افسران ایسے تھے جن کے کیسز ماضی میں کئی مرتبہ ملتوی کیے جا چکے تھے۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ کچھ کیسز ایسے ہیں جن میں بورڈ کے ارکان نے ایسے افسران کی ترقی کیخلاف رائے پیش کی جنہیں موجودہ اور ساتھ ہی سابق وزرائے اعظم نے بورڈ کے گزشتہ اجلاسوں میں ترقی کیلئے غیر موزوں قرار دیا تھا۔ تاہم، دیگر ارکان کی رائے مسترد کرتے ہوئے پی اے ایس گروپ کے چار ایسے افسران کو گریڈ 22؍ میں ترقی دی گئی جنہیں ماضی میں متعدد مرتبہ معطل کیا جا چکا تھا۔ عجیب بات ہے کہ افسران کو گریڈ 22؍ میں ترقی تو دیدی گئی لیکن انہیں وفاقی سیکریٹری کے عہدے کیلئے موزوں نہیں سمجھا گیا۔ ایک باخبر افسر، جسے اس پورے معاملے کا علم ہے، نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سطح کے بورڈز پر سینئر افسران کا اعتماد بورڈ کے گزشتہ اجلاسوں میں اختیار کردہ رویوں کی وجہ سے کم ہو چکا ہے کیونکہ ان اجلاسوں میں میرٹ کے برعکس فیصلے کیے گئے۔ آخری بورڈ میں 1990ء اور 1991ء بیچ کے افسران کے ناموں پر ترقی دینے کیلئے غور کیا گیا لیکن 1986ء بیچ کے ایک افسر اور 1987ء بیچ کے ایک افسر اور 1989ء بیچ کے ایک افسر کو کلیئر کر دیا۔ عمومی ایسے اعلیٰ سطح کے بورڈ کا اجلاس سال میں دو مرتبہ ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بورڈ کے گزشتہ اجلاس میں ایسے افسران کو بھی ترقی دی گئی جنہیں بالترتیب چار، چھ حتیٰ کہ آٹھ بورڈ اجلاسوں میں نظرانداز کر دیا گیا تھا، ان بورڈز میں سے دو اجلاسوں کی صدارت موجودہ وزیراعظم نے کی تھی۔ ایک افسر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈر ہے کہ وزیراعظم ’’مردہ شجر‘‘ کو ترقی دیتے رہیں گے، یہ صورتحال اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران کی حوصلہ شکنی کرتی ہے کیونکہ انہیں ایسے ہی چھوڑ دیا جاتا ہے کیونکہ محدود نشستوں پر یہ پرانے لوگ بیٹھ جاتے ہیں-اسلام آباد (انصار عباسی)