کوروناکا خوف دنیا پر قائم ، برطانوی پروفیسر کا بھی ویکسین نومبرمیں لانے کا دعویٰ

کوروناوائرس نے ترقی یافتہ ممالک کو بھی بے بس کردیا، کوروناوائرس سے دنیابھرمیں مجموعی طور پر 1لاکھ 65 ہزار اموات ہوچکی ہیں جبکہ 24 لاکھ سے زائد افراد متاثرہوچکے ہیں۔چھ لاکھ چوبیس ہزارسے زائد افراد کورونا سے صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔تاہم کئی ماہ بعد بھی مہلک وائرس کی ویکسین نہ بنائی جاسکی ، آسٹریلیااور دیگرممالک کے ماہرین کے بعد برطانوی پروفیسرسرجان بیل نے دعوی کیا ہے کہ کورونا کی ویکسین نومبرتک تیار کرلی جائے گی۔ٹرائلز کیلئے حکومتی اجازت درکار ہے۔ٹرائلز اگست تک ہوسکتے ہیںدوسری جانب برطانوی حکومت کو مقامی میڈیا خوب تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔میڈیا رپورٹس میں کہا جارہاہے۔
حکومت نے کوروناسے نمٹنے کیلئے اہم 38روز ضائع کردیے۔ حکومت بریگزٹ میں مصروف رہی ،کورونا پر توجہ نہیں دی گئی۔ وزیراعظم بورس جانسن نے کوروناوبا کے بے قابو ہونے کی ماہرین کی وارننگ پرغور نہیں کیا۔ بورس جانسن نے کورونا پرہونے والے اجلاس میں شرکت بھی نہیں کی۔ ہیلتھ ٹریڈ ایسوسی ایشن کی طبی آلات کی فراہمی کی پیشکش کو دوماہ تک نظرانداز رکھاگیا۔ ملک میں طبی آلات کی کمی کے باوجود چین سامان برآمد کیا گیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک کروڑ فیس ماسک اور دیگر حفاظتی سامان پر مشتمل چینی طیارہ گلاسگوپہنچا ہے۔ ادھر لیبر لیڈر سرکئیر کہتے ہیں حکومت نے لاک ڈاؤن میں سست روی کا مظاہر ہ کیا۔ترجمان ٹین ڈاؤننگ نے بیان پر فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا۔حکومت کورونا کو مات دینے کیلئے دن رات کام کررہی ہے۔وزیرتعلیم گیون ولیمسن کہتے ہیں۔وبا سے نمٹنے میں طلبا کا اہم کردار ہے۔لیکن سکول کھلنے کی حتمی تاریخ نہیں بتائی جاسکتی۔دوسری طرف سپین میں جاری لاک ڈاؤن میں چھ مئی تک توسیع کردی گئی ہے۔اٹلی میں بھی لاک ڈاؤن ساتویں ہفتے میں داخل ہوگیا۔جبکہ جرمنی میں پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے۔فرانس میں پہلے سے حالات بہترہورہے ہیں۔ ہالینڈ میں بھی اموات میں کمی دیکھی گئی۔
ترکی میں کوروناوائرس کا وار تیز ہوگیاہے۔ملک میں کوروناوائرس کےمریضوں کی تعداد ایران سے بھی زیادہ ہوچکی ہے۔ ترک حکومت نے کوروناکیخلاف جنگ جیتنے کیلئے اقدامات تیزکردیے۔ائیرپورٹ پر کوروناکے مریضوں کیلئے ہسپتال کی تعمیرشروع کردی گئی ہے۔

Courtesy Gnn Urdu