پاکستان میں کورونا سے مرنیوالوں کی تعداد میں یکدم تیزی

پاکستان میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کے لحاظ سے ہولناک دن ثابت ہوا، وائرس سے مرنے والوں کی تعداد میں تیزی آئی ہے۔

اتوار کو مہلک وائرس کورونا نے مزید 24افراد کی جان لے لی، جس کے بعد ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 169ہوگئی، اتوارکو 670 نئے کیسزکے بعد مریضوں کی تعداد 8411 ہوگئی۔ خیبرپختونخوا میں 10، سندھ میں 8 اور پنجاب میں 6 افراد جاں بحق ہوئے۔

ملک بھر میں صحت یاب مریضوں کی تعداد 1868 ہوگئی ہے۔ ملک میں گزشتہ 24 گھنٹے میں مہلک وائرس سے ہلاکتیں خیبرپختونخوا، سندھ اور پنجاب میں رپورٹ ہوئیں۔

خیبرپختونخوا کے وزیر صحت تیمور خان جھگڑا نے ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں مزید 10 افراد مہلک وائرس کا شکار بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور اور سوات میں 4، 4 جبکہ مردان اور ایبٹ آباد میں ایک ایک ہلاکت ہوئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ صوبے میں مہلک وائرس سے اموات 60 تک جاپہنچی ہے جو اب تک ملک کے کسی بھی صوبے میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس سے مزید 8 افراد کا انتقال ہوا ہے جسکے بعد صوبے میں جاں بحق افراد کی تعداد 56 ہوگئی ہے۔

صوبہ سندھ مہلک وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں میں دوسرے نمبر پر ہے۔ صوبہ سندھ میں مزید 8 افراد مہلک وائرس کے باعث جان کی بازی ہارگئے ہیں جسکی تصدیق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی کی۔ مزید ہلاکتوں کے بعد صوبے میں کورونا سے جاں بحق افراد کی تعداد 56 ہو گئی ہے۔

سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 182 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 2537 ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 33 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں جسکے بعد صحت یاب افراد کی تعداد 625 ہوگئی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی صوبے میں کورونا وائرس سے مزید 4 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ پنجاب میں رات گئے کورونا کے مزید دو مریض جاں بحق ہوگئے۔

ملک میں مزید 24 افراد کے جاں بحق ہونے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 169 تک جاپہنچی ہے جس میں سے خیبرپختونخوا میں 60، سندھ میں 56، پنجاب میں 43، بلوچستان میں 5، گلگت میں 3 اور اسلام آباد میں 2 افراد کا انتقال ہوا ہے۔

پنجاب میں اتوار کو مزید 4 افراد کورونا کا شکار ہوئے جسکے بعد صوبے میں اموات کی تعداد 43 تک جاپہنچی ہے جبکہ مزید 357 کیسز کی تصدیق کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 3822 ہوگئی۔

ترجمان پرونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق صوبے میں اب تک کورونا سے 702 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں کورونا کے 62 نئے کیسز اور 10 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں جسکے بعد صوبے میں مریضوں کی تعداد 1137 اور اموات کی مجموعی تعداد 60 تک پہنچ گئی ہے۔

محکمہ صحت کے پی کے مطابق صوبے میں کورونا سے متاثرہ 226 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔ بلوچستان میں اتوار کو مزید 56 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جسکے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد 432 ہوگئی ہے۔

صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آج 270 رپورٹس موصول ہوئیں جن میں سے 56 افراد میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کا تعلق کوئٹہ، مستونگ، جعفر آباد، چمن اور سبی سے ہے۔

بلوچستان میں اب تک کورونا سے 5 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور 142 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ اسلام آباد میں میں مزید 8 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد اسلام آباد میں مریضوں کی تعداد 171 ہو گئی ہے جب کہ شہر اقتدار میں کورونا سے اب تک 2 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ایک 72 سالہ ڈاکٹر جاں بحق ہوگیا ہے جو اسلام آباد میں دوسری ہلاکت ہے۔ گلگت بلتستان میں اتوار کو مزید 6 افراد میں مہلک وائرس کی تصدیق ہوئی جسکے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 263 ہو گئی جبکہ اب تک 194 افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

گلگت میں زیر علاج افراد کی مجموعی تعداد 66 رہ گئی ہے اور صحت یابی کا تناسب 73 فیصد سے زائد ہے۔گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے 3 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

آزاد کشمیر میں بھی اتوار کو ایک شخص میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی جس کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 49 ہوگئی۔ آزاد کشمیر میں اب تک مہلک وائرس سے 9 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں جبکہ 40 افراد زیرعلاج ہیں۔

دریں اثناء وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف نے کہا کہ ʼمختلف علاقوں میں 47 مریض اس وقت تشویشناک حالت میں وینٹی لیٹرز پر ہیں، ہلاکتیں مزید بڑھ سکتیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ʼپاکستان میں اموات کی شرح 1.9 فیصد ہے جبکہ باقی دنیا میں یہ شرح 6.9 فیصد ہے اور اس طرح وائرس نے پاکستان کو اس طرح متاثر نہیں کیا اور اموات کی شرح دنیا سے کافی حد تک کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ʼجو لوگ اس وبا سے چل بسے ہیں ان میں سے 80 فیصد کسی اور بیماری میں بھی مبتلا تھے اور مکمل طور پر صحت مند نہیں تھے تاہم صرف 20 فیصد ایسے تھے جنہیں کوئی اور بیماری لاحق نہیں تھی۔