حسن نثار کے بیٹوں نے باپ کی اصلیت بتا دی ۔پورے لاہور میں شور مچ گیا

خود کو صحافی کی بجائے رائٹر قرار دینے والے پاکستان کے نامور کالم نویس اور ٹی وی پر بے لاگ تجزیہ پیش کرنے والے دانشور حسن نثار کے اپنے بیٹوں نے ان کی زندگی کے وہ پہلو اور حقائق عوام کے سامنے پیش کر دیے ہیں جن کے بارے میں اس سے پہلے کوئی نہیں جانتا تھا ۔بے شک حسن نثار اپنی تلخ اور سچی باتوں کی وجہ سے ملک اور بیرون ملک بہت بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو پسند ہیں اور ان کے پڑھنے والے اور ان کی باتیں سننے والے بے شمار لوگ ہیں جس انداز سے وہ معاشرے کی کمزوریوں حامیوں برائیوں کی نشاندہی اور احاطہ کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ کیا غلط ہو رہا ہے اور کون لوگ غلط کر رہے ہیں اور کس طریقے سے صحیح چیزیں ہوسکتی ہیں اور وہ معاشرے کے منفی تلخ مگر سچے پہلوؤں پر کڑھتے نظر آتے ہیں اسی وجہ سے انہیں پسند کیا جاتا ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ سچا اور کھرا انسان ہے ۔
لیکن ان کے اپنے جوان بچوں نے جو خود بچوں والے ہیں پہلی مرتبہ ایسی باتیں کردی ہیں جو اس سے پہلے کبھی منظر عام پر نہیں آئی تھیں۔
یونیورسٹی کے طالب علموں کو لیکچر دیتے ہوئے حسن نثار کہا کرتے تھے کہ میرے والد بہت سخت طبیعت کے تھے ڈسپلین سخت تھا بہت پڑھے لکھے انسان تھے اس زمانے میں بزرگوں کے سامنے اگر آپ بغیر ٹوپی پہنے چلے جائیں تو سخت برا منایا جاتا تھا محلے کے بزرگ ہیں ایسے نوجوانوں کے سر میں خاک ڈال دیتے تھے لیکن لاہور شہر کافی تبدیل ہوچکا ہے آج کا باپ اور آج کے بیٹے بھی تبدیل ہوچکے ہیں جنریشن گیپ کیا ہوتا ہے دراصل کمیونیکیشن گیپ کو جنریشن گیپ کہتے ہیں لیکن میں نے ہاتھ اٹھانا تو دور کی بات کبھی اپنے بچوں سے اونچی آواز میں بات بھی نہیں کی کیونکہ بچوں کو اب آہستہ آہستہ اپنے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کراتے ہیں اور بچہ بھی آپ سے اعتماد کے ساتھ بات کرتا ہے جب انوائرمنٹ بدلتا ہے تو رویہ بھی بدل جاتے ہیں والدین بچوں کی بہتری چاہتے ہیں اس لیے ان کی روح تو کرتے ہیں لیکن بہتر ہے کہ آم و تفہیم سے معاملات کو طے کر لیا جائے میرے والد مجھے سول سرونٹ بنانا چاہتے تھے میں نے کہا میں نہ کسی کا سر ویٹ ہوسکتا ہو نہ کسی کا باعث بن سکتا ہوں اور یہ میری طبیعت کے خلاف ہے کہ ہر دو سال بعد ٹرانسفر لیٹر پکڑو اور خانہ بدوشی کی زندگی گزارو ں۔
ایک طرف حسن نثار کی یہ باتیں تھیں دوسری طرف ان کی جوان اولاد نے بتایا ہے کہ اونچی آواز میں ڈانٹنا تو دور کی بات حسن نثار اپنے بچوں کو باقاعدہ مارا پیٹا کرتے تھے چھوٹے بچوں کو مارتے تھے تششدد کرتے تھے ٹھیک ٹھاک تشدد کرتے تھے وہ اپنی بیوی کو بھی مارتے تھے تششدد کرتے تھے گھر میں شراب پی کر آتے تھے غلیظ گالیاں بکتے تھے ۔گھر کا ماحول حسن نثار نے خود خراب کر رکھا تھا ۔
حسن نثار نے دو شادیاں کیں ۔پہلی بیوی سے ان کا مزاج نہیں ملا تین بچوں کے بعد علیحدگی ہوگئی اور وہ خاتون اب دنیا میں نہیں ۔پہلی بیوی کی اولاد اب خود بچوں والی ہے لیکن بڑی بیوی کے بیٹوں کی حالت اچھی نہیں ہے وہ کرائے کے مکان میں رہتے ہیں اور زندگی میں جدوجہد کر رہے ہیں ایک بیٹا انتہائی قرضہ میں ڈوبا ہوا ہے اور اس کی ویڈیو منظرعام پر آئی کے میری مالی مدد کی جائے اس نے اپنے والد سے مالی مدد کی درخواست بھی کی کچھ عرصہ قبل وہ دوبئی میں قرضدار ہو گیا تھا ۔
5 جولائی النصرکی اون کو پیدا ہونے والے حسن نثار کی پہلی شادی انیس سو پچھتر میں ہوئیں جہاں ان کے تین بیٹے ہیں جن میں دو جڑواں ہیں۔ ان کی پہلی بیوی سیدہ ہاشمی ایک شاعرہ تھی حسن نثار کا کہنا ہے کہ ان سے مزاج نہیں مل سکتا ضیاء الحق کے دور میں جب ان کے خلاف لکھا تو پیٹ دو سال جیل میں رہنے کے بعد واپس آیا نوکری نہیں تھی حالات خراب تھے ۔
1967 میں جب یونیورسٹی میں تھا تو اس وقت فلم کا بڑا گلیمر تھا میں خود کو جنرلسٹ نہیں کہتا بلکہ رائٹر کہتا ہوں دھنک میگزین سے میں نے لکھنا شروع کیا تھا کہ فلم انڈسٹری تک میرا راستہ بن سکے لیکن وہ یونیورسٹی میرے لئے نہیں تھی وہ بھاری پتھر تھا جسے چوم کر چھوڑ آیا حسن نثار کا کہنا ہے کہ قوموں کو عزت اور ذلت ان کی پرفارمنس سے ملتی ہے مسلمان جب اللہ اور سیرت نبوی کے احکامات سے دور ہوتے چلےگئے تو زوال کا شکار ہوتے چلے گئے ۔
دوسری طرف حسن نثار کے بچے کہتے ہیں کہ حسن نثار لوگوں کو تو اچھی اچھی باتیں بتاتے ہیں لیکن خود ان پر عمل نہیں کرتے ان کے ایک بیٹے کونین نے بتایا کہ والد صاحب ہماری والدہ پر بہت زیادہ تشدد کرتے تھے بچوں کو بھی مارتے تھے جب والدہ سے علیحدگی کے بعد ہم بچے والد کے ساتھ رہے تو ہم پر بہت زیادہ سختی کی گئی بہت غلیظ گالیاں دیتے تھے مارتے تھے بچوں کو اتنا ذکر دیا کہ ایک بیٹا نارمل ہی نہیں رہا اگر حسن نثار اچھے انسان ہیں تو پھر عورت پر تشدد کیوں کرتے رہے بچوں پر بھی تشدد کیوں کیا جب باپ شام کو شراب پی کر کرائے گا اور بارہ سال کے بیٹے کو مارے گا پیٹے گا تو وہ بیٹا کیا کرے گا ۔
حسن نثار خود کہتے تھے کہ کیکر بوئے ہیں تو کانٹے ہی ااگنے ہیں انگور نہیں آنے ۔
پہلی بیوی کی اولاد کا کہنا ہے کہ ہماری ماں کھاتے پیتے گھرانے سے تھی اللہ ان کو جنت نصیب کرے ۔
پہلی بیوی کی اولاد کے ساتھ حسن نثار کا سلوک ویسا نہیں تھا جیسا دوسری شادی کے بعد دوسری بیوی کی اولاد سے کر رہے ہیں دوسری بیوی کی اولاد کو بڑے لاڈ پیار سے پال رہے ہیں یقینی طور پر ان کے اندر بھی کشمکش ضرور ہو رہی ہوگی کہ انہوں نے پہلی بیوی کی اولاد کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جو کچھ بھی کمایا ہے دنیا میں ہی رہ جائے گا ایک دن قبر میں جائیں گے تو سب حساب ہو جائے گا ۔
بیٹے نے بتایا کہ جس دن دادی فوت ہوئیں تو میں گیا تھا قبر میں اتارنے ۔میرے اپنے چار بچے ہیں میں بچوں کو ساتھ لے کر گیا تھا ۔
سوشل میڈیا پر مختلف ویڈیوز چل رہی ہیں جن میں حسن نثار کی پہلی بیوی کے جوان بچوں کی زندگی کے حالات اور باپ کے بارے میں ان کے تاثرات بہت تلخ انداز میں بتائے گئے ہیں یہ سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں کہ اربپتی حسن نثار کے بیٹے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیوں ہیں ؟آخر ایسا کیا ہوا ہے کیوں ہوا ہے حسن نثار نے اپنے ہی بیٹوں کو بے دخل کیوں کردیا ۔بڑا بیٹا کونین ہے پھر شہ پور امام حسن ہے ۔پھر اظفر ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق حسن نثار نے 1996 پچانوے میں ایک نیا پروگرام شروع کرنے کے لئے ایک لڑکی شازیہ کا انتخاب کیا کہ وہ ان کے ساتھ ویڈیو انٹرویوز کرے گی وہ پروگرام تو کامیاب نہ ہوا البتہ گھر آباد ہو گیا دوسری شادی کے بعد بھی نہ حسن نثار کے تین بچے ہیں ۔
حسن نثار کی پہلی بیوی کی اولاد کو شکایت ہے کہ حسن نثار نے اپنے بچوں پر اس وقت توجہ نہیں دی اور تعلیم پر خرچہ نہیں کیا اب وہ بہت مالدار ہوگئے ہیں تو ان کے انداز بدل گئے ہیں ۔
سیاسی مبصرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ سیاستدانوں کی زندگی پر اعتراضات اٹھانے والے حسن نثار اپنی زندگی کے معاملات کو گھر میں ہی بہتر کرلیں تو بہتر ہے یہ اچھا نہیں ہے جس طریقے سے ان کے خاندان اور ان کی زندگی کے بارے میں ان کے اپنے بیٹے دنیا کو بتا رہے ہیں حسن نثار کو اپنے بچوں کو بلاکر معاملے کو ختم کرنا چاہیے اور بچوں کو بھی اپنے خاندان اور گھر کی باتیں بیچ چوراہے پر نہیں کرنی چاہیے ۔یاد رہے کہ حسن نثار طویل عرصے سے ایک کالم چرائے گئے نام سے لکھتے رہے اور اسی نام سے ٹی وی پروگرام بھی کیا ۔اس کے بعد وہ پروگرام میرے مطابق میں سیاسی کمینٹری کرنے لگے ۔ایک زمانے میں وہ بھٹو کے زبردست شیدائی تھے اور ضیاء الحق کے دور میں گرفتار ہوئے تھے اسلئے ضیاءالحق کے سخت خلاف رہے انہوں نے مختلف ادوار میں مختلف سیاسی شخصیات کے حق اور خلاف لکھنے میں شہرت حاصل کی انہوں نے عمران خان کی بھی زبردست حمایت کی پھر ان سے ناراض بھی ہوئے اور عمران خان کے گھر پر بھی گئے ۔

Salik-Majeed-for-jeeveypakistan.com