عابدہ اقبال آزاد کی آٹھ ویں برسی

عابدہ اقبال آزاد کی آٹھ ویں برسی ۔۔

معر وف شاعرہ، مصنفہ، افسانہ نگار و کالم نگار عابدہ اقبال آزاد کی آٹھ ویں برسی آج خاموشی سے منائی جا رہی ہے ۔موجودہ وبائی صورتحال کے سبب تمام ادبی سرگرمیاں معطل رہنے کے وجہ سے ادبی تنظیموں کے جانب سے کسی بھی تقریب کا انعقاد نہیں کیا گیا ۔ جبکہ تنظیم برائے فن اور تخلیق مماسلات اسرار کے جانب سے عابدہ اقبال آزاد اور شاعر اسرار حسین شاکی” میموریل بہارایوارڈز”کی تقریبات منسوخ کر نے کا بھی اعلان سامنے آیاہے
عابدہ اقبال اپریل 2012کو جہان فانی سے کوچ کر گئیں۔ ا ن کی بے وقت وفات سے احلقہ ادب ایک منفرد لب و لہجہ کی شاعرہ سے محروم ہو گیا۔
عابدہ اقبال بنگلادیش کے مشہور تاجرغلام ربانی کی بیٹی اور کراچی کے معروف advertising executive اقبال آزادسیدکی اہلیہ تھیں۔ انہوں نے ڈھاکا سے MBBS کی ڈگری حاصل کی مگر پیشہ وارانہ طور پہ اس شعبہ کو نہیں اپنا یا بلکہ صحافت کو ترجیح دی۔ عابدہ زندگی اور انسانیت کی شاعرہ تھیں۔بنگال کے موسم ان کی شاعری میں نمایاں ہیں۔ان کی منفرد شاعری کی کتاب “آسمان” نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ عابدہ اقبال ازاد کی شاعری اور تحریر کا بنیادی فیچر ظلم و نا انصافی کے خلاف انسانیت کے حق میں اظہار احتجاج تھا ۔ عابدہ نے عام اور معاشی لحاظ سے محروم طبقے سے وابستہ لوگوں کی زندگی کو اپنے تخلیق کا موضوع بنایا۔انہونے اپنے تحریر میں معاشی طور پر پسے ہوئے طبقے اور مفاد نسواں کے لئے آواز بلند کی اور انکے حق میں احتجاج کیا۔ وہ بنیادی طور پر امن اورمںتوازن سیاست کے حق میں تھیں۔ عابدہ مساوات پریقین رکھتی تھیں۔وہ معاشرے کے ہر اس محاذ پر مقابلہ کرنے کو تیار تھیں جس سے عام طبقے کے ساتھ نا انصافی ، ظلم اور تشدد کا رنگ جھلکتا تھا۔ عابدہ اقبال اپنے کرنٹ افیر کے تجزیاتی کالم “”آ ئینہ اور چہرے”” کے نام سے لکھتی تھیں جو بے حد پسند کئے جاتے تھے۔ انہوں نے مختلف اخبارات کےلئے کالم لکھے۔ عابدہ اقبال اپنی تحریر کے سادہ اسٹائل اور ادبی خدمات کے وجہ سے قارئین کو ہمیشہ یاد رہیں گی۔