دودن میں ہماری شنوائی نہیں ہوئی توکپڑے کے تاجر سپرہائی وئے کے درمیان تادم بھوک ہڑتال پر بیٹھ جائیں گے

دودن میں ہماری شنوائی نہیں ہوئی توکپڑے کے تاجر سپرہائی وئے کے درمیان تادم بھوک ہڑتال پر بیٹھ جائیں گے گل وردک
کراچی (اسٹا ف رپوٹر )عالمی وبا میں ہم اپنے ملک کے ساتھ دفاعی اداروں ،عدلیہ اور سیاسی حکام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں ان خیالات کا اظہار سہراب کے گوٹھ میں کپڑے کے کارونار سے وابستہ تاجروں کو درپیش مسائل کے حوالے سے تاجر رہنما گل وردک نے اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہ ہم نے 25روز قبل وزیر اعلی سندھ صاحب کو پیغام دیا کہ ہمارے سہراب گوٹھ کے کپڑے کے کرائے دار دکاندار بہت نازک صورت حال سے دوچار ہیں اور 421کرایہ دار دکانوں کی لسٹ بشمول سیلز میںلسٹ اور ہفتہ وار بازار کی لسٹ جو کہ روزانہ کی بنیاد پر محنت ومزدوری کرکے اپنے اہل عیال کے ضروریات زندگی کا بندو بست کرتے تھے اب ان کے گھروں میں چولہے بجھ گئے ہیں دکانوں کے کرائے ان پر چڑھے جارہے ہیں اور سیلز مینزتنخواہوں کا تقاضہ کررہے ہیں اس ضمن میں صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے مجھ سے فون پر رابطہ کیا دو روز کی یقین دہانی کرائی کہ آپ کی میٹنگ وزیر اعلی سندھ سے کرائی جائے گی ،اس بعد کمشنر کراچی چار روز بعد فون آیا انہوں نے بھی یقین دہانی کرائی کہ آپ کو وفد کی صورت میں بلائیں گئے ۔اور آپ کے مسائل کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اس بعد نے صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ سے رابطہ کیا پر انہوں نے فون نہیں اٹھایا ۔میں اس موقع پر واضح کردو کہ صوبے بھر میں کپڑے کے کارونا سے وابستہ تاجر سب زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں پر ہماری داد رسی کرنے والا کوئی نہیں ہے افسوس ہوتا ہے حکمرانوں کی پالیسیوں پر جہاں پلمبر کا کام کرنے والے کو اجازت پر سینیٹری کی دکانیں بند ہیں ہم حکومت کو واضح کرتے ہیں اگردو روز میں ہمارے مسائل پر توجہ نہ دی گئی تو ہم سپر ہائی وے کے درمیان میں بیٹھ کر تادم بھوک ہڑتال کریں گئے گھر میں بھوک سے مرنے سے بہتر ہے کہ ہم سڑکوں پر بھوت ہڑتال کرتے ہوئے مرجائیں ۔ہم سفید پوش کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے ہیں نہ ہی راشن کے لیئے لائنیں لگا سکتے ہیں ۔اس موقع پر تاج آکا خیل نے کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومت ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش بند کردیں ان کی اس لڑائی میں تاجر پس رہے ہیں دکانیں کھولنے کی اجازت دیں ایسوپی پر عمل درآمد ہم کریں گے ۔ہمیں صورت حال کا اندازہ پر مگر کب تک کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں گی ۔