چٹی شیخاں سے پنجاب یونیورسٹی لاء کالج تک

یادوں کے جھروکوں سے
(۱)

چٹی شیخاں سے پنجاب یونیورسٹی لاء کالج تک

عابد حسین قریشی

31 دسمبر 2019 اس لحاظ سے میرے لیے قابل ذکر رہا کہ اس روز 6 جولائی 1982 سے جوڈیشل سروس کا ہونے والا آغاز بخیر و خوبی اود باعزّت طریقہ سے اختتام پزیر ہوا۔ دوست احباب نے سوشل میڈیا پر جس طرح سے اپنے جزبات کا اظہار کیا میں شاید اس خراج تحسین کا مستحق نہ تھا۔ یہ سب اللہ تعالٰی کا کرم اور بے پایاں عنایات اور میرے والدین کی دُعایئں تھیں کہ یہ تقریباً 38 سال پر محیط طویل اور کٹھن سفر سول جج سے شروع ہو کر سیشن جج تک اختتام پزیر ہوا۔ اور اپنے پیچھے بے شمار خوشگوار یادیں چھوڑ گیا۔ گذزشتہ تقریباً آٹھ دس سالوں سے بہت سے دوست اور کولیگ اور خصوصاً بڑے ہی عزیز دوست اور بھائی سردار طاہر صابر عرصہ دراز سے اور چھوٹے بھائی امجد نذیر مسلسل تقاضا کرتے رہے کہ میں اپنی طویل اور دلچسپ یاد داشتوں کو ضبط تحریر میں لاؤں۔ تاکہ نوجوان جوڈیشل افسران اور شعبہ قانون سے منسلک دیگر لوگوں کے لیے کچھ رہنمائی اور ماضی سے واقفیت کا سامان ہو سکے۔ لہٰذا یہ بندہ ناچیز اس طرع کی حرکت کا ارتکاب کرنے کی ادنٰی سی سعی کر رہا ہے۔

اپنا آبائی علاقہ سیالکوٹ شہر سے تقریباً پانچ کلو میٹر مغرب کی طرف ایک تاریخی اور قدیمی قصبہ چٹی شیخاں ہے۔ کئی تاریخی حوالوں کی روشنی میں خصوصی طور پر مختلف کتابوں جن میں “ جواہر فریدی”، “ اولاد گنج شکر”، “ تاج العارفین” ، “تاریخ سیالکوٹ”، اور “ سیالکوٹ گزییٹر” کے مطابق یہاں بابا فرید گنج شکر کی اولاد آباد ہے۔ جو قریشی، فاروقی اور چشتی کے ناموں سے پہچانی جاتی ہے۔ مختصراً تاریخ اس طرح ہے کہ آج سے تقریباً ساڑھے چار سو سال پہلے بابا فرید گنج شکرؒ کے پڑ پوتے حضرت بدر الدین سلیمان چشتی بہاولنگر کی تحصیل چشتیاں سے کشمیر میں سیر و سیاحت کے لیے تشریف لائے۔ چٹی شیخاں اس وقت ایک آباد قصبہ تھا اور کشمیر کے ملحقہ راستے میں پڑتا تھا۔ بابا جی نے یہاں قیام کیا اور یہیں پر شادی کی۔ اپنے عزیز و اقارب کو چشتیاں اور پاک پتن سے بلوا کر یہاں آباد کیا۔ اس طرح ایک نسل انکی یہاں آباد ہو گئی۔ چٹی شیخاں مغلیہ دور میں ایک سٹیٹ(ریاست) تھی۔ اور میرے آبا میں سے ساتویں پشت میں نواب رضا فاروقی قریشی اسکے حاکم تھے۔ یہ وہی نواب رضا ہیں جنہوں نے رسول نگر وزیرآباد کے زمیندار چوہدری پیر محمّد کے ساتھ مل کر سکھوں کے قبضہ میں آئے ہوئے خاندان اہل بیت کے تبرکات/نوادرات ایک زرِ کثیر ادا کر سکھوں سے واگزار کرائے جن تبرکات میں نعلین اور آئینہ مبارک حضور سرور عالم ﷺ و جبہ شریف مولا علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت امام حسن ؓاور امام حسین ؓ کے ہاتھوں سے لکھی ہوئی دو عدد چوبی تختیاں جن پر تحریر ایسی کہ نظر ٹھہرنے نہ پائے اور دو تین مزید تبرکات۔سیالکوٹ گزییٹر نے جو انگریز نے 1920 میں شائع کرایا اسکے صفحہ نمبر 47 پر بھی ان تبرکات کا زکر ہے۔ یہ وہی تبرکات ہیں جن کا کثیر حصّہ اس وقت بادشاہی مسجد لاہور میں محفوظ ہے۔

بہرحال اس خاندانی پس منظر میں ایک ایسے قصبہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا جو علاقہ میں مغلوں کے زمانے میں تعلیم کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ رسالہ “بول نماز” کے مصّنف کے مطابق مغلوں کے دور میں چٹی شیخاں ایک وسدا نگر اور علاقہ میں تعلیم کا مرکز تھا۔ مشہور پنجابی شاعر حافظ برخودار رانجھا تخت ہزارہ بہلوال سے یہاں تعلیم کے لیے تشریف لائے اور یہیں مدفون ہیں۔ 1864 میں سیالکوٹ شہر کے باہر جن تین دیہات میں پرائمری سکول بناے گئے سمبڑیال اور کوٹلی لوہاراں کے بعد چٹی شیخاں بھی ان میں شامل تھا۔

والد محترم مڈل سکول کے ہیڈ ماسٹر اور گاؤں کے نمبردار بھی تھے۔ میرے دادا محمّد سرور قریشی نمبردار علاقہ کی ایک ہر دل عزیز شخصیت تھے جنہیں لوگوں میں تعلیم عام کرنے کا جنون تھا۔ پڑ دادا میاں محمّد حسین قریشی فاروقی کو انگریز سرکار کی طرف سے “ سفید پوش “ کے خطاب کے ساتھ دو مربع اراضی تحصیل کمالیہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں الاٹ ہوئی۔

چٹی شیخاں میں گزرے خوبصورت وقت کا ذکر والی بال کا ذکر کیے بغیر تشنہ رہے گا۔ کالج کے ذمانہ میں ہاکی کھیلتے کھیلتے اپنے گاؤں کی ہاکی ٹیم سے بغاوت کرتے ہوئے مرحوم دوست خالد چشتی سے مل کر والی بال کی گیم 1975 میں شروع کر دی۔ بس دیکھتے ہی دیکھتے لوگ کرکٹ اور ہاکی چھوڑ کر والی بال گراؤنڈ میں آنا شروع ہو گئے۔ چٹی شیخاں والی بال کی وہ قومی نرسری ہے جس نے گزشتہ 45 سال کے دوران تقریباً ہر قومی ٹیم میں کھلاڑی دیے ہیں۔ اور یہ منفرد اعزاز بھی ہمارے گاؤں کے پاس ہے کہ قومی ٹیم کے تین کپتان ڈی۔ایس۔ پی مظہر فرید قریشی ، کرنل قیصر مصطٰفے اور سب انسپکٹر پولیس ذمان بٹ ہمارے گاؤں نے پیدا کیے۔ اور حکومت پنجاب نے حال ہی میں ایک خوبصورت والی بال سٹیڈیم ہمارے کوچ سلیم بٹ مرحوم کے نام سے منسوب کرتے ہوئے یہاں تعمیر کرایا ہے۔ دیگر اُس وقت کے نمایاں کھلاڑیوں میں عزیز از جان دوست اور کلاس فیلو کریم جان جو آجکل کینڈا مقیم ہیں۔ معروف دانشور اور کئی کتابوں کے مصنف طارق شان بٹ، خالد چشتی مرحوم، سلیم بٹ مرحوم، باؤ جعفر رضا، نصرت بٹ، جاوید قریشی اور یہ خاکسار شامل تھے۔ مجھے بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی لا کالج اور پنجاب یونیورسٹی والی بال ٹیموں کی قیادت کا اعزاز بھی ملا۔ اور میں پنجاب یونیورسٹی والی بال کی اس ٹیم کا کپتان تھا جس نے 1979 میں پہلی مرتبہ نیشنل لیول کے والی بال ٹورنامنٹ میں شرکت کی۔

مزید تفصیلات میں جائے بغیر سیالکوٹ سے گریجوایشن کرنے کے بعد 1978 میں پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں داخلہ لیا۔ اس وقت یونیورسٹی لاء کالج ہی پنجاب میں واحد مسلّمہ ادارہ قانون کی تعلیم کے لیے معروف تھا۔ لاء کالج میں داخلہ کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔ اپنا کوئی ارادہ سرے سے لاء کرنے کا تھا ہی نہیں۔ گھر سے میں ایم۔ اے۔ انگلش کرنے کی نیت سے داخلہ فارم جمع کرانے کے لیے پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس لاہور پہنچا۔ مولا علی کرم اللہ وجہہ کا قول مبارک ہے “ کہ میں نے اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے اپنے رب کو پہچانا” کچھ اسطرح کا معاملہ اپنے ساتھ بھی ہوا۔ میں ایم۔اے۔ انگریزی میں داخلہ فارم جمع کرانے والی لائن میں کھڑا تھا کہ اچانک میاں محمّد آصف جن کا تعلق سیالکوٹ سے ہی تھا اور اس وقت واجبی سی واقفیت بوجہ تقریری مقابلوں میں بطور مقرّر ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے کی وجہ سے ہی تھی بعد ازاں بڑے اچھے اور مخلص دوست ثابت ہوئے اور دو تین سال قبل بطور ایڈیشنل آئی۔ جی پولیس ریٹائر ہوئے۔ وہ وہاں نمودار ہوئے۔ میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے انگلش ڈیپارٹمنٹ داخلہ والی لائن سے باہر نکالا اور بڑی اپنائیت سے میرا ہاتھ پکڑ کر کر سڑک کراس کرتے ہوئے یونیورسٹی لاء کالج جو انارکلی بازار کے ساتھ واقع ہوتا تھا وہاں لے گئے اور کہا کہ آپ کو ایل۔ایل۔بی کرنا چاہیے۔ میں نے بھی آگے سے کوئی بحث نہ کی۔ اور نیا فارم داخلہ لیکر لاء کالج میں جمع کرا دیا۔ دو تین روز بعد میرٹ لسٹ کے مطابق ہم دونوں کا داخلہ یونیورسٹی لاء کالج میں ہو چکا تھا۔ اور وہ بھی سیکشن “اے” میں جو بوجہ سہولت مخلوط تعلیم لاء کالج میں بڑا معتبر سیکشن سمجھا جتا تھا۔ آج تک یہ بات سمجھ نہیں آ سکی کہ اس روز میاں آصف کو کس نے بھیجا۔ بہت ساری شناسائی نہ ہوتے ہوئے کس طرح مجھے وہ لاء کالج تک لے گئے۔اور ایک نئے کیرئیر کا آغاز ہوا۔ یہ سب میرے اللہ کی مہربانیاں ہیں۔ اور میرا یہ پختہ یقین ہے کہ بہت ساری باتوں کے قبل از وقت تعیّن ہونے کے ساتھ ساتھ قدرت کی طرف سے پیشوں کا تعیّن بھی پہلے سے ہو چکا ہوتا ہے۔ اس میں شاید ہمارا اختیار واجبی سا ہوتا ہے۔ قدرت نے آپ سے کس شعبہ میں اور کہاں کام لینا ہے اسکا فیصلہ اس نے پہلے سے ہی کر رکھا ہوتا ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہوتا تو ہمارے عہد کے تمام طالب علم ڈاکٹر ہوتے کہ ڈاکٹری اس دور میں ترجیح اول تھی۔

(جاری ہے)