سیاسی اور کاروباری مخالفین کے خلاف سوشل میڈیا ٹرینڈ چلوانا پاکستان میں زبردست بزنس بن چکا ہے

یہ کام دنیا کے دیگر حصوں میں بھی ہو رہا ہوگا لیکن پاکستان میں یہ کام اس وقت اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے سوشل میڈیا پر اپنے سیاسی اور کاروباری مخالفین کو نیچا دکھانے کے لئے ان کے خلاف ٹرینڈ سیٹ کروایا جاتا ہے اور بد تمیزی کی انتہا کر دی جاتی ہے سیاسی طور پر غلیظ اور گھٹیا زبان اور اخلاقیات سے گرے ہوئے جملے استعمال کیے جاتے ہیں انتہائی بے ہودہ الفاظ لکھے جاتے ہیں شرمناک حد تک فضول پوسٹ بناکر مخالفین کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے اور اس کام کے پیچھے بھاری سرمایہ کاری کی جاتی ہے باقاعدہ سوشل میڈیا ٹیمیں اور رنز بنائے گئے ہیں سیاسی جماعتیں اور کاروباری حریف ان کاموں میں پیش پیش ہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مہارت رکھنے والے نوجوان ایسے کاموں میں اپنی صلاحیتیں دکھا رہے ہیں اکثر لوگ اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے کسی کو بھی کسی بھی انداز سے ٹارگٹ کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں پروفیشنل ایڈورٹائزنگ ایجنسیاں اور امیج میکنگ کے نام پر کام کرنے والی پرائیویٹ چھوٹی بڑی کمپنیاں بھی ایسا کام کر رہی ہیں کسی گروپ یا انفرادی طور پر بھی یہ کام ہو رہے ہیں حیران کن بات ہے کہ قومی ادارے حکمران اور اپوزیشن کی شخصیات سرکردہ سیاستدان صحافی وکیل اداکار بزنسمین کھلاڑی یہاں تک کہ معززججوں کے حوالے سے بھی توہین آمیز اور انتہائی شرمناک ٹرینڈ بنائے جا چکے ہیں یہ شکایات اعلی عدلیہ تک بھی پہنچی ہیں اور اب حال ہی میں حکومت نے اس حوالے سے ایکشن لینے کا عزم ظاہر کیا ہے ۔
پاکستان کے ایک سینئر صحافی رؤف کلاسرا کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ گستاخی کرنے والے صحافیوں کو سزا دینے اور سبق سکھانے کے لئے مالدار لوگوں نے ایسے سوشل میڈیا ایکسپرٹس کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں جو ان کے مخالفین پر دھاوا بول دیتے ہیں اور سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا کرتے ہیں مخالفین کو چپ کرانے بد نام کرانے ٹارگٹ کرانے دھمکانے اور خاندانی مسائل پیدا کرنے کے لیے اس طرح کے کام کیے جاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ مجھ سمیت کتنے ہیں صحافی ہیں جن کی بعض اچھی اچھی رپورٹنگ اور کالموں کے بعد ان کے خلاف منظم انداز سے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ سیٹ کیے گئے اور ان کو ہر طرح کی گالیاں دیں گی اور تو اور پچھلے دنوں حرامی صحافی کا ایک ٹرینڈ بھی چلایا گیا اب حکومت کے سوچنے کا کام ہے اور متعلقہ اداروں کو ایکشن لینا چاہیے کہ ایسا کون کر رہا ہے اور کس کے کہنے پر کر رہا ہے مشہور صحافی ارشد شریف کے خلاف بھی پچھلے دنوں ایک ٹرین چلایا گیا رؤف کلاسرہ کہتے ہیں ہم دیکھ چکے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان سے لے کر حزب اختلاف کے بڑے لیڈرز بلاول اور مریم اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف بھی ٹرینڈ چل چکے ہیں اب تو حد ہی ہوگئی ہے کہ معزز ججوں کے حوالے سے بھی ٹرینڈ چل چکے ہیں دیگر اداروں اور سرکاری شخصیات بشمول میڈیا مالکان بزنس ٹائیکون اس کے بارے میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے