پاکستان کے ایٹم بم کا ڈیزائن امریکی صدر تک کیسے پہنچا ؟کتاب شاپنگ فار بمبز Shopping for bombs میں انکشافات

دنیا بھر میں پاکستان کے ایٹم بم کے ڈیزائن اور صلاحیت حاصل کرنے کے معاملے پر بہت بحث ہو چکی ہے یا پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے تو پوری دنیا کی توجہ پاکستان کی طرف تھی ۔
پاکستان کے ایٹم بم کا ڈیزائن امریکی صدر تک کیسے پہنچا یہ بات پاکستان کے وزیراعظم کے لیے بھی حیران کن تھی ۔
مشہور کتاب شاپنگ فار بمبز Shopping for bombs میں انکشافات کیے گئے ہیں ۔
اسی کتاب کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اور اک پلٹنے والے ایک سینئر صحافی اور کالم نویس محمد بلال نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کتاب انکشاف کرتی ہے کہ 1989 میں جب پاکستان کی وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو امریکہ کے دورے پر تشریف لے گئیں اور وہ اعلی حکام سے ملاقات ہوئی تو امریکی صدر نے پاکستان کے ایٹم بم کا ڈیزائن ان کے سامنے رکھ دیا ۔یہ ڈیزائن دیکھ کر بےنظیربھٹو حیران رہ گئی بعد ازاں معلوم ہوا کہ یہ ڈیزائن ایک فوجی افسر نے امریکہ کو بیچ کر پیسے کما لیے تھے ۔
یاد رہے کہ بینظیر بھٹو کو پہلے دور حکومت میں صدر غلام اسحاق خان نے مختلف الزامات لگا کر حکومت برطرف کردی تھی تب بےنظیر بھٹو کو ایٹمی پروگرام کے حوالے سے سکیورٹی رسک بھی کہا جاتا رہا لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی اور بعدازاں جنرل حمید گل نے بھی ٹی وی پر گواہی دی کہ بے نظیر بھٹو اور فوج کا موقف نیوکلیئر پروگرام پر ایک جیسا تھا اور بے نظیر کی ذمہ داری میں خود لیتا ہوں اور ان کو اس معاملے میں بیل آؤٹ کرتا ہوں ۔
صحافی اظہر سہیل کی کتاب ایجنسیوں کی حکومت میں بھی 12 اگست 1991 کی ایک میٹنگ کا حوالہ ہے کے اسلام آباد ایئرپورٹ پر میاں زاہد سرفراز نے چند صحافیوں کو تھوڑی دیر میں بڑی خوشخبری سنانے کی بات کی تھی اس سے پہلے وہ ایک اہم پیغام لیکر لاہور میں بے نظیر بھٹو سے ملے تھے وہاں خواجہ عبدالرحیم اور حاکمین خان کے ہمراہ گئے تھے اور ان کا یہ خیال تھا کہ استعفوں کا جو بیگو بھر کر لائے ہیں اس کو کھولتے ہیں نواز شریف کا کھیل ختم ہو جائے گا اسلام آباد ایئرپورٹ سے و سید غلام مصطفی جتوئی کے گھر پر پہنچے لیکن وہ اکنل سرور چیمہ موجود تھے یہ اس وقت کی بات ہے جب مرزا اسلم بیگ کی ریٹائرمنٹ سر پر آ پہنچی تھی اور جنرل آصف نواز نے آرمی چیف کی حیثیت سے کمان سنبھالنے والے تھے ۔ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت سے تمغا جمہوریت سینے پر سجانے والے جنرل مرزا اسلم بیگ مارشل لا لگائے بغیر ہی ریٹائر ہو گئے ۔