سیاست نہ کریں، مئی مشکل، لوگ بھوک سے سڑکوں پر آگئے تو لاک ڈاؤن کا فائدہ نہیں ہوگا، عمران خان

وزیر اعظم عمران خان نے کہاہےکہ سیاست نہ کریں، مئی مشکل ، لوگ بھوک سے سڑکوں پر آگئےتو لاک ڈائون کا فائدہ نہیں ہوگا،لوگوں کو بیروزگاری و بھوک سے بچانے کیلئے تعمیراتی شعبہ کھولا،رواں ماہ کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔

تمام تیاری مکمل ہے، 15سے 20مئی تک کیسز میں اضافہ اور اسپتالوں پر دباؤ بڑھے گا،کورونا کیسز چھپائیں گے تو کیا کورونا ختم ہوجائے گا؟پولیس عوام کو ڈنڈے مارنے کے بجائے لاک ڈاؤن سے متعلق سمجھائے ،رمضان المبارک میں احتیاط کی ضرورت ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ 20مئی تک ملک میں کورونا کیسز میں اضافے کا خدشہ ہے۔

کورونا پر سیاست بند کردیں،ہم کورونا کیسز چھپائیں گے تو کیا کورونا ختم ہوجائے گا؟ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر اور وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر بھی موجود تھے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھاکہ کورونا سے جو صورتحال ہے، اس کی پہلے مثال نہیں ملتی، پہلے یہ اندازہ تھا کہ 25 اپریل تک 50 ہزار مریض ہوں گے لیکن اس ماہ ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی کیوں کہ تمام تیاری مکمل ہے۔

وزیراعظم نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اندازہ ہے کہ 15 سے 20 مئی تک کیس بڑھیں گے اور اسپتالوں پر دباؤ میں بھی اضافہ ہوگا تاہم اگلے مہینے تک ہم کورونا سے لڑنے کیلئے مزید تیاری کرلیں گے۔

اس وقت کورونا وائرس سے متعلق پاکستان میں حالات بہتر ہیں، 13 مارچ تک 8 لاکھ لوگوں کی ایئرپورٹ پراسکریننگ کی گئی، بروقت اقدامات سے ایک بھی کورونا کیس چین سے نہیں آیا۔

لاک ڈاؤن کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن میں یہ سوچنا چاہیے کہ اس سے غریب پر کیا اثر ہوگا؟ اس وقت لاک ڈاؤن میں کمزور طبقے کی فکر ہورہی ہے، سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مزدور رجسٹرڈ نہیں ہیں اورڈر ہے کہ لوگ بھوک سے سڑکوں پرآگئے تو لاک ڈاؤن کا فائدہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو بیروزگاری اور بھوک سے بچانے کیلئے تعمیراتی شعبہ کھولا، مجھے خطرہ کورونا سے نہیں بلکہ خطرہ اس بات کا ہے کہ لاک ڈاؤن میں لوگوں کا کیا ہوگا۔

لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر گرفتار افراد سے متعلق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پولیس سے کہنا چاہتا ہوں کہ لاک ڈاؤن ڈنڈے سے صحیح نہیں ہوگا بلکہ پولیس عوام کو ڈنڈے مارنے کے بجائے لاک ڈاؤن سے متعلق سمجھائے۔

رمضان المبارک کے دوران مساجد میں عبادات پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صدر مملکت نے علماء سے ملاقات کی اور اس میں کافی چیزیں طے ہوئیں ہیں، کورونا وائرس سے بچنے کیلئے رمضان المبارک میں احتیاط کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے ذخیرہ اندوزوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جبکہ آرڈیننس کے ذریعے اسمگلرز کے خلاف بھی سخت کارروائی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزوں اور اسمگلرز کو خبردار کرتا ہوں کہ اب سخت کارروائی ہوگی

Courtesy Jang