پاکستانی امریکن پریس ایسوسی ایشن کے زیراہتمام کورونا وائرس کی وبا کے دوران امریکہ میں مقیم صحافیوں کو درپیش چیلنجز

پاکستانی امریکن پریس ایسوسی ایشن کے زیراہتمام کورونا وائرس کی وبا کے دوران امریکہ میں مقیم صحافیوں کو درپیش چیلنجز اور ان چیلنجز کے دوران ہی اپنے صحافتی فرائض منصبی کی ادائیگی کرنے جیسے اہم موضوع پر ایک ویب نار کا انعقاد کیا گیا جس میں امریکہ بھر میں مقیم پاکستانی نژاد امریکی صحافیوں نے بھرپور شرکت کی اور صحافیوں کو اس وبا کے دوران کن مشکلات کا سامنا ہے اس بارے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے تفصیل سے اظہار خیال کیا، اس ویب نار کا آغاز پاکستانی امریکن پریس ایسوسی ایشن کے صدر خرم شہزاد نے افتتاحی کلمات سے کیا اور ویب نار کے موضوع اور اہمیت پر روشنی ڈالی، جبکہ یوسف چودھری اور مریم صبیع نے نظامت کے فرائض ادا کرتے ہوئے پروگرام کو آگے بڑھایا، ویب نار میں شریک صحافیوں کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے دوران پاکستانی نژاد صحافی جان ہتھیلی پر رکھ کر مبنی بر حقائق خبروں کو پیش کررہے ہیں، اور درست خبر کو درست زاویے سے ہی پیش کیا جاتا ہے، خبر کا جاننا عوام کا حق ہے اور ان حالات میں جب ہر طرف افواہوں کا بازار بھی گرم ہو اور وبا کے باعث جان جانے کا خطرہ سر پر لٹکتی تلوار کی مانند ہو، تو ایسے میں عوام تک درست انفارمیشن پہنچانا کس قدر دشوار کام ہوتا ہے یہ وہی جانتا ہے جو اس مرحلے سے گزر رہا ہوتا ہے، شرکا کا کہنا تھا کہ  امریکہ میں مقیم ایک صحافی کو صحافتی فرائض کی انجام دہی کے دوران ہی کورونا کا مرض لاحق ہوگیا، لیکن انہوں نے اپنے فرض کو خوب نبھایا اور الحمد للہ اب وہ روبہ صحت ہیں، شرکا نے اس موقع پر صحافیوں کے اس کردار کو بھی سراہا جوکہ وہ مستحق اور سفید پوش کمیونٹی کے افراد کو ادویات اور راشن کی فراہمی کےلئے ادا کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ اپنے فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ مخلوق خدا کی خدمت بلاشبہ بہت اجر کا کام ہے اور صحافی اس میدان میں بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے، ویب نار میں پاکستانی امریکن پریس ایسوسی ایشن کی نائب صدر نوزیرہ اعظم نے اس وبا کے دوران شہید ہونے والوں کے درجات کی بلندی کےلئے دعا کروائی، ویب نار میں شرکت کرنے والوں میں  جیو نیوز و روزنامہ جنگ کے ٹیکساس میں کارسپانڈنٹ راجہ زاہد خانزادہ، دنیا نیوز نیویارک کے بیوروچیف معاوذ صدیقی، نیا دور  نیو یارک کے سینئر کارسپانڈنٹ رضا رومی،  ہم نیوز کے ورجینیا میں کارسپانڈنٹ جمال بلوچ، وائس آف امریکہ واشنگٹن کے کارسپانڈنٹ ثاقب الاسلام، واشنگٹن ڈی سی سے فری لانس صحافی عزیز احمد،  سما ٹی وی کے شکاگو میں کارسپانڈنٹ یاسر فیروز سالا، بول نیوز کے ٹیکساس میں کارسپانڈنٹ کامران جیلانی، ڈیلی ٹائمز کی پینسلوانیا میں کارسپانڈنٹ مریم صبیح، اے آر وائی کے ٹیکساس میں کارسپانڈنٹ غضنفر ہاشمی، وی او ایس اے ٹی وی کے نیو یارک میں کارسپانڈنٹ  فہیم میاں، آواز نیوز پیپر کے نیو یارک میں کارسپانڈنٹ محمد فرخ،  سیون نیوز کے کارسپانڈنٹ  نوریز میاں، اردو نیوز کے نیویارک میں کارسپانڈنٹ محسن ظہیر، آواز نیوزپیپر نیوجرسی کے کارسپانڈنٹ عامر بیگ، دی فنانشل ڈیلی واشنگٹن کی کارسپانڈنٹ نوزیرہ اعظم، وی او ایس اے  ٹی وی کیلی دورنیا کے کارسپانڈنٹ ریحان خان، دنیا نیوز کیلی فورنیا کے کارسپانڈنٹ عظمت گل، دنیا نیوز ٹیکساس کے کارسپانڈنٹ  رانا نوید، وی او ایس اے ٹیکساس کے کارسپانڈنٹ عامر رحمان خان، این ڈی ٹی وی ٹیکساس کے کارسپانڈنٹ مدیحہ منظور، آواز نیوپیپر  پینسلوانیا کے قاضی نوید،چینل 5  واشنگٹن کے کارسپانڈنٹ مقیم احمد، فلوریڈا سے شمیم بانو، اردو ٹائمز میری لینڈ سے فضل خالق اور کینیڈا سے سعود ظفر شامل تھے