گندم اسکینڈل میں چند ذمہ دار قرار، چند سزا سے بچ گئے

گندم اسکینڈل میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے باعث چند سیاسی اور بیروکریٹک شخصیات کو تو ہٹا دیا گیا ہے یا ان کو سائیڈ لائن کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے لیکن ان میں سے زیادہ تر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جنہیں نتائج نے ذمہ دار قرار دیا تھا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے عوام کے سامنے لائی گئی انکوائری رپورٹ کے دوروز بعد پنجاب کے وزیر فوڈ سمیع اللہ چوہدری نے 6 اپریل کو اپنا استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ محکمہ فوڈ میں اصلاحات متعارف نہ کرانے کے حوالے سے گزشتہ چند روز سے ان کے خلاف بے بنیاد الزاما ت لگائے جارہے ہیں۔

عین اسی وقت سابق پنجاب فوڈ سیکریٹری نسیم صدیق جو ڈیرہ غازی خان کے کمشنر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے، نے اپنی سائیڈلائننگ کا انتخاب کیا۔

انہوں نے اس معاملے پر جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا۔ رپورٹ میں بحیثیت فوڈ سیکریٹری ظفر نصر اللہ کو اب ایڈیشنل چیف سیکریٹری مقرر کردیا گیا ہے۔ ایف آئی اے رپورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف محکمہ فوڈ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنے کیلئے بہت مواد ہے جس سے آٹے کا شدید بحران پیدا ہوگیا تھا۔

وفاقی سطح پر فوڈ سیکریٹری ڈاکٹر ہاشم پوپلزئی کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ تاہم صاحبزادہ محبوب سلطان جو گندم یا آٹا بحران کے وقت وزیر فوڈ تھے، وہ مرکزی کابینہ میں بحیثیت وزیر برائے اسٹیٹس اینڈ فرنٹیئر ریجنز کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

خیبر پختونخوا (کے پی) میں صوبائی وزیر فوڈ قلندر لودھی نے یہی قلمدان رکھا ہوا ہے۔ فوڈ ڈائریکٹر سعادت حسین کو ہٹا دیا گیا ہے۔ ایک عہدیدار نے دی نیوز کو وضاحت کی کہ انکوائری رپورٹ خود کسی کے خلاف باضابطہ ایف آئی آر نہیں اور کوئی تحقیقاتی ایجنسی یعنی ایف آئی اے، قومی احتساب بیورو (نیب) یا اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ کے پاس ان نتائج پر کارروائی کرنے کے اختیارات ہیں اور حکومت سے کسی ہدایات کی ضرورت نہیں۔

تاہم حکام اس رپورٹ کو مزید کارروائی اور انکوائری کیلئے کسی بھی ایجنسی کے حوالے کرسکتے ہیں
اسلام آباد (طارق بٹ)jang