کابل انتظامیہ نے گھٹنے ٹیک دیئے …..

امریکا کی حاشیہ بردار کابل انتظامیہ نے گھٹنے ٹیک دیئے …..   قادر خان یوسف زئی کے قلم سے
دوحہ مذاکرات معاہدے کے بعد قیدیوں کے تبادلے کی شق پر عمل درآمد نہ ہونے سے افغانستان میں امن کے اہم مرحلے بین الافغان مذاکرات تعطل کا شکار ہوا۔ دوسری جانب افغان طالبان نے معاہدے کے عمل درآمد نہ ہونے پر اپنے سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دوحہ معاہدے منسوخ ہونے کے امکانات ظاہر کردیئے تھے، جس کا واضح مطلب، افغانستان میں غیر ملکی افواج کی واپسی میں تاخیر کے ساتھ، جنگ کے نئے دور کا آغاز ہوتا، امریکا اس مرحلے پر مزید کسی نئی مہم جوئی کا متحمل نہیں ہونا چاہتاکیونکہ کرونا وبا نے امریکا میں تباہی مچائی اور امریکی معیشت کو بدترین مشکلات کا سامنا ہے، ان حالات میں امریکا کے لئے ممکن نہیں تھا کہ وہ کابل انتظامیہ کی ہٹ دھرمیوں پر خاموش رہ سکے، امریکا پہلے ہی کابل انتظامیہ کو دی جانے والی ایک ارب ڈالر کی امداد روکنے کی دھمکی دے چکا ہے اور امریکی انتظامیہ، کابل انتظامیہ میں سیاسی بحران و معاہدے کے برخلاف اقدامات سے سخت نالاں تھی۔ بعض عناصر قیدیوں کی رہائی/تبادلے کو کابل انتظامیہ کا داخلی معاملہ قرار دے رہے ہیں، یہ جواز انتہائی مضحکہ خیز ہے کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ کابل انتظامیہ امریکا کی حاشیہ بردار حکومت ہے،امریکا کی مرضی کے بغیر کابل انتظامیہ کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ افغان طالبان امریکا کی جانب سے معاہدے پر دستخط کے بعد عمل درآمد نہ کروائے جانے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔   افغان طالبان نے تحفظات کے بعد امریکی انتظامیہ (امریکی جنرل سکاٹ ملر) نے افغان طالبان کے سیاسی رہنماؤں سے دوحہ میں ملاقات کرکے معاہدے پر عمل درآمد پر عمل درآمد کے لئے یقین دہانی کرائی۔ پاکستانی حکام سے زلمے خلیل زاد کی اہم ملاقات ہوئی۔ کابل حکام نے افغان طالبان کے قیدیوں کی رہائی پر عمل درآمد شروع کردیا ہے، جس میں ابتدائی طور پر300افغان طالبان کے بدلے30افغان سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کا تک تبادلہ ہوا۔ افغان طالبان نے معاہدے پر دستخط کے بعد غیر ملکی افواج پر حملے بند کرچکے ہیں، جس کی تصدیق امریکی اعلیٰ حکام اپنے بیانات میں کیا کہ افغان طالبان معاہدے کے مطابق عمل پیرا ہیں، تاہم اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ افغان طالبان، افغان سیکورٹی فورسز پر بھی ماضی کی بانسبت شدید حملے نہیں کررہی تاکہ افغانستان میں امن کی فضا برقرار رکھنے کے لئے ماحول بنایا جاسکے، لیکن دوسری جانب کابل انتظامیہ معاہدے کے مطابق قیدیوں کے تبادلے میں حائل رکاؤٹیں پیدا کیں تو دوسری جانب عام شہری علاقوں میں حملے بھی کئے۔ افغان طالبان ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ حملوں اور غیر فوجی علاقوں میں رات میں کیے جانے والے چھاپوں کے بارے میں خاصی سنجیدہ گفتگو ہوئی ہے۔ایک حالیہ بیان میں امریکی فوج کے مطابق کہا گیا کہ معاہدے کے تحت افغان فورسز پر حملے کی صورت میں ان کی سلامتی اور دفاع کے لیے غیر ملکی فوجیں کارروائی کر سکتی ہیں۔اس معاہدے میں افغان طالبان کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ امریکی زیر قیادت غیر ملکی فوجوں پر حملہ نہیں کریں گے۔ معاہدے کے تحت اگر پُر تشدد کاروائیاں نہ ہوئی تو غیر ملکی افواج کا جولائی 2021  تک بتدریج انخلاء کیا جائے گا۔اس مشروط انخلا کی شرط یہ ہے کہ طالبان اپنے مختلف دھڑوں کے ساتھ مل کر افغانستان میں پائیدار امن قائم کر یں گے۔ افغانستان میں ستمبر میں ہونے والے متنازع صدارتی انتخابات میں سیاسی عد م استحکام کی باعث بے یقینی کی فضا پائی جاتی ہے۔ کابل انتظامیہ جزوی طور پر افغان طالبان کے قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ شروع کردیا ہے، افغان طالبان دوحہ معاہدے کے مطابق چھ ہزار قیدیوں کی رہائی/تبادلے پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ کررہے ہیں۔ افغان طالبان کی تکنیکی ٹیم کابل میں قیام پذیر رہی، لیکن کابل حکام نے افغان طالبان کی مہیا فہرست کے مطابق ابتدائی مرحلے میں افغان کمانڈرز کی رہائی سے انکار کردیا، معاملات الجھنے کے سب افغان طالبان کی فنی ٹیم واپس آگئی اور امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ دستخط شدہ معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنائے، بصورت دیگر معاہدہ ختم /منسوخ کیا جاسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق کابل انتظامیہ افغان طالبان کے قیدیوں کو حلف لے کر رہا کرنے کی شرط رکھی ، جب کہ افغان طالبان نے غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ۔ دوحہ معاہدے پر دستخط کے بعد امریکا و کابل انتظامیہ کی جانب سے اُس وقت معاہدے کی وعدہ خلافی سامنے آئی جب  معاہدے پر دستخط کے چند دنوں بعد ہی صوبہ ہلمند کے ضلع نہر سراج میں افغان طالبان پر اس وقت حملہ کیا جب جنگ ختم ہونے کے بعد افغان طالبان واپس جارہے تھے۔اس واقعے کے بعد امریکہ اور کابل انتظامیہ نے ملک کے مختلف حصوں میں افغان طالبان اور عام شہریوں متعدد حملوں کی زد میں آئے جس سے عام شہریوں کو بھاری جانی و مالی نقصان ہوا۔ قندوز کے ضلع دشت ارچی اور امام صاحب، بغلان، فاریاب، ہلمند، زابل، روزگان، بدخشان، بلخ، قندہار، غزنی، کاپیسا، پکتیکا اور دیگر صوبوں میں حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کی بمباریوں، ڈرون اور راکٹ حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں شہری شہید اور زخمی ہوگئے، ان کے مکانات تباہ اور ان کی املاک تباہ ہوگئے امارت اسلامیہ نے بارہا کہا ہے کہ”کابل انتظامیہ کے حکام میں معاملات حل کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، اس سلسلے میں امریکہ کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کرے، قیدیوں کی رہائی جو دوحہ معاہدہ کی تعمیل اور تکمیل کا پہلا قدم ہے، اور امریکہ نے وعدہ بھی کیا ہے، وہ غیر جانبدار نہ رہے، اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ مستقبل کے اقدامات کی راہ ہموار ہوسکے۔امریکیوں جنھوں نے متعدد بار میدان جنگ میں اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے اور کابل حکام کی درخواست پر ڈرون حملے اور بمباریاں کی ہیں، کیا وہ کابل حکام کو یہ نہیں بتاسکتے ہیں کہ وہ قیدیوں کی راہ میں رکاوٹیں پیدا نہ کریں۔ہم جانتے ہیں کہ اگر آج امریکہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے اور اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار نہ کرے اور وعدہ پورہ کرنے سے اپنی حیثیت کو برقرار رکھے تو مختصر عرصے میں قیدیوں کا تبادلہ بھی ہوگا اور ساتھ ہی بین الافغان مذاکرات کے لئے بھی معاہدے کے مطابق راہ ہموار ہو جائے گی۔لیکن افسوس کہ وہاں پر ڈرامائی انداز سے رکاوٹیں پیدا کی جاتی ہیں اور ہر بار نئے مطالبات پیش کئے جاتے ہیں۔ امارت اسلامیہ کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے نمائندہ وفد کو اس طرح کے اجلاسوں میں شرکت سے منع کرے کیوں کہ وہاں جان بوجھ کر رکاوٹ پیدا کی جاتی ہے۔اس سلسلے میں ہم واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ اس تمام تر صورتحال کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے، خدا نخواستہ اگر کرونا سے قیدیوں کو نقصان ہوا، بین الافغان مذاکرات میں تاخیر ہوئی یا امن کوششوں کو سبوتاژ کیا گیا تو اس کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی کیوں کہ اس نے کابل انتظامیہ کو غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار نہ کرنے اور غیر سنجیدہ اقدامات سے باز رہنے سے نہیں روکا۔“ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ کابل انتظامیہ، امریکا سے اپنے معاملات کو طے کرے، کیونکہ افغان طالبان کا معاہدہ، کابل انتظامیہ کے ساتھ نہیں ہوا، بلکہ امریکا کے ساتھ ہوا ہے۔ اسی طرح امریکا، افغان طالبان کے ساتھ کئے گئے معاہدے پر کابل انتظامیہ کے تحفظات کو دور کرائے اور اُن ضمانتوں کا تبادلہ کرے، جس کی وجہ سے امارات اسلامیہ اور امریکا کے درمیان دوحہ معاہدے پر دستخط ہوئے۔ اقوام متحدہ نے معاہدے کی توثیق کی اور عالمی برادری نے امن پیش رفت کو سراہا و حوصلہ افرائی کی۔ ان حالات میں کابل انتظامیہ، بھارت کی گود میں بیٹھ کر افغان امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش نہ کرے تو یہ افغان عوام کے حق میں بہتر ہوگا، چھ ہزار قیدیوں کے تبادلے کا جو فارمولا دونوں فریقین کے درمیان طے پایا گیا ہے، اس میں کابل انتظامیہ رخنہ ڈالنے کے بجائے امریکی حکومت کی ضمانت پر یقین رکھے، اگر امریکا کے ساتھ کابل انتظامیہ ایک صفحے پر نہیں ہیں تو امریکا کی حمایت سے دستبرداری کا اعلان کرکے افغان طالبان کے روبرو ہوجائے اور اپنی رٹ کو منوائے۔ ایک جانب کابل انتظامیہ امریکا کی حاشیہ بردار بھی بنے اور دوسری جانب امریکی امداد کے لئے تو سر تسلیم خم کرے لیکن امن کے لئے اقوا م متحدہ کے توثیق شدہ معاہدے سے روگردانی کرے تو ایسے عوامل کو مضحکہ خیز اور افغان امن کے مخالف تصور کیا جائے گا۔ افغان انٹرا ڈائیلاگ جلد ازجلد شروع کئے جانا افغانستان کے لئے اہم ہے کیونکہ افغان عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہے۔