اس کھیل کی ترکیب یہ تھی کہ جمہوری نظام کو سیاستدانوں کے ذریعے ایسا بدنام کیا جائے کہ لوگ جمہوریت سے نفرت کرنے لگ جائیں

مہنگائی مافیا کیخلاف جو رپورٹس منظر عام پر آگئی تھیں وہ کورونا کی برکت سے اب غائب ہو رہی ہیں۔ کورونا نے البتہ ملکی نظام اور سیاسی و مذہبی قیادت کو بیچ چوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اب ہر کھوکھلا پن اس لئے ظاہر ہو رہا ہے کہ آزادی کے بعد برسر اقتدار آنے والی ہر حکومت نے ملکی نظام پر شخصی و گروہی اقتدار کو ترجیح دی۔ وقتاً فوقتاً اسٹیٹس کو کے جاری نظام میں خامیاں ظاہر بھی ہوتی رہیں مگر شاطرانہ طور پر انہیں عام نہیں ہونے دیا گیا، لیکن کورونا نے جیسے سب عیاں کر دیا ہو۔ حالت یہ ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں او پی ڈی سمیت تمام شعبے کورونا کے نام پر بند کر دیے گئے، اس طرح سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں روز سینکڑوں غریب علاج نہ ہونے کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر مر رہے ہیں۔ سفاکی کا عالم مگر یہ ہے کہ حکمران طبقات اس حوالے سے پراسرار خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ پاکستانی حکمران دیگر ممالک کے لاک ڈائون کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے لیکن اس سوال کا جواب اُن کے پاس نہیں کہ کیا دیگر ممالک نے بھی پاکستان کی طرح ایک کورونا کیلئے دیگر بیماریوں کے علاج بند کر دیے ہیں اور یہ کہ کیا دیگر ممالک میں بھی مفلوک الحال لوگ پاکستان کی طرح خوراک کیلئے پولیس کی گولیاں کھا رہےہیں؟ آج کا کڑوا سچ یہ ہے کہ ملکی نظام اس قدر بوسیدہ ہو چکا ہے کہ صرف ایک وبا نے اسے ایسا مفلوج کرکے رکھ دیا ہے کہ وہ دیگر مسائل کے حل کے قابل ہی نہیں رہا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ قیام پاکستان کے بعد رعایا کو آزادی کے ثمرات منتقل کرنے کیلئے حکمت عملی ترتیب دی جاتی لیکن ہوا اس برعکس، وہ لوگ جن کا جنگ آزادی میں کوئی حصہ ہی نہ تھا وہ ملکی وسائل کے مالک و مختار بن گئے اور قومی خزانے کو لوٹنے کا آغاز کیا، پھر یہ سلسلہ چل نکلا اور سول و غیر سول حکمران طبقات میں طریقہ واردات کے ماسوا کوئی فرق نظر نہیں آیا۔ اصول پرست سیاستدان ہر موڑ پر اس امر کی نشاندہی کرتے رہے کہ ملک کی معاشی جڑیں کھوکھلی کی جا رہی ہیں لیکن ان آوازوں کو غداری سمیت مختلف الزامات لگا کر بے اثر کر دیا جاتا رہا۔ آزادی کے بعد سے اسٹیٹس کو کی حامی فوجی وسول بیورو کریسی نے ایسے سیاست دانوں کی پذیرائی کی یا انہیں تخلیق کیا جو کسی مستحکم نظام کیلئے ثمربار کوششوں کے بجائے محض دکھاوے کے اقدامات کے ذریعے عوام کو یہ باور کرا سکیں کہ ملک درست ڈگر پر ہے، اس کیلئے ذرائع ابلاغ کے مخصوص حصے اور بعض مذہبی عناصر کو بھی غیر محسوس انداز میں بروئے کار لایا جاتا رہا۔ اقتدار پر گرفت رکھنے کے اس کھیل کی ترکیب یہ تھی کہ جمہوری نظام کو سیاستدانوں کے ذریعے ایسا بدنام کیا جائے کہ لوگ جمہوریت سے نفرت کرنے لگ جائیں۔ اس کیلئے قومی وسائل لوٹنے کے ہر عمل سے چشم پوشی اختیار کی گئی۔ لہٰذا برسر اقتدار آنے والے ہر حکمران نے نظام کے استحکام کے بجائے ذاتی، گروہی و جماعتی مفاد پر توجہ دی، سو نتیجہ یہ ہے کہ یہ سیاسی مافیا اب اس قدر دیدہ دلیر ہو چکاہے کہ موجودہ وبا میں بھی عوام کے منہ سے آخری نوالہ چھیننے کیلئے متحرک ہے۔ عوامی مسائل سے بیگانگی یوں عام ہو چکی ہے کہ کورونا ازخود نوٹس سماعت کے دوران جسٹس قاضی امین کو بھی کہنا پڑا ’’لوگ بھوک سے تلملا رہے ہیں، کھانا نہ ملا تو خانہ جنگی ہوگی، ہم انارکی کی جانب بڑھ رہے ہیں، کورونا سے ہمارے سیاسی نظام کو بھی خطرہ ہے‘‘۔ اخباری رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے ’’وفاقی و صوبائی حکومتیں اپنے اپنے راستے اختیار کیے ہوئے ہیں، سندھ میں لوگ سڑکوں پر ہیں اور کہہ رہے ہیں حکومت نے ایک ٹکا بھی نہیں دیا، کیا کرپٹ عناصر کو لیڈ کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟‘‘ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ لاکھوں لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں جن کا ڈیٹا حکومت کے پاس نہیں ہے۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ کہاں اور کس کو راشن فراہم کیا گیا ہے، سندھ پولیس تو جے ڈی سی والوں کو لوٹ رہی ہے، 10روپے کی چیز دے کر چار وزیر تصویر بنانے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

دوسری طرف اس وبا میں مذہبی طبقے کا حال یہ ہے کہ ماسوائے آزاد منش مفتی منیب الرحمٰن کے، کوئی مولوی اپنے موقف پر قائم نہ رہ سکا، کل جو حکومتی اقدامات کو جائز ثابت کرنے کیلئے شرعی جواز لا رہے تھے وہ آج خود اپنے فتوئوں کے برعکس عمل پذیر ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ خداوند کریم ہی ہمارے حال پر رحم کرے وگرنہ سیاسی و مذہبی قیادت کے قول و فعل میں تضاد اور ملکی نظام کا جو نقشہ مشہود ہے، اس میں حضرت اقبال کے اس شعر کے ماسوا کیا کہا جا سکتا ہے کہ؎

خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں

کہ درویشی بھی عیاری ہے، سلطانی بھی عیاری
Ajmal-Khattaj-Kassar-Jang