وہ ’باغی‘ پہلے سے زیادہ پُرعزم

کتنے بے خبر ہوتے ہیں یہ شکاری۔ تاریخ کے شعور سے کتنے عاری۔

نہیں جانتے کہ جیلیں، گرفتاریاں تو انسان کے اعصاب کو مزید طاقت ور بنا دیتی ہیں۔ انہیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ حوالات میں قید تنہائی سے گزرنے والا اپنے من میں ڈوب کر سراغِ زندگی پا لیتا ہے۔ بھٹی سے گزر کر کندن بن جاتا ہے اور جب ایک روز حوالات کی سلاخیں ٹوٹتی ہیں۔ زنداں کے در کھلتے ہیں تو وہ ’باغی‘ پہلے سے زیادہ پُرعزم اور ارادوں کے دھنی بن جاتے ہیں۔

وہ شکاری جو بھی ہیں۔ تاریخ کے شناور اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ کون ہیں۔ بہت ہی غافل اور غبی ہیں۔ 12مارچ کو انہوں نے جس میر شکیل الرحمٰن کو تہ دام کیا تھا۔ اب جب بھی وہ آزاد ہوگا تو وہ 12مارچ والے میر شکیل الرحمٰن سے کہیں زیادہ مضبوط، کہیں زیادہ پختہ ذہن اور کہیں زیادہ روشن خیال ہوگا۔

وہ شکاری سوچتے ہوں گے کہ دنیا کو اپنے ہلاکت خیز شکنجے میں جکڑنے والی وبا کے دنوں میں اس قیدی کے اعصاب جلد جواب دے جائیں گے۔ اور اپنی اپنی ابتلائوں میں گھرے محنت کش، وکلا، علما، طلبہ، اساتذہ اور دانشور سلاخوں کے اس طرف جنگ جیو نیوز کے ایڈیٹر انچیف کو بھول جائیں گے۔ ان کی یہ خام خیالی تھی اور ہے۔ یہ درست ہے کہ موجودہ مخصوص حالات کے باعث اس احتجاج کا دائرہ محدود رکھا جا رہا ہے مگر اب ان شعبوں میں یہ احساس شدت اختیار کر رہا ہے کہ ایک فرد کی شہری آزادیاں سلب کرلی گئی ہیں۔ اس کے اظہار کو بیڑیاں پہنا دی گئی ہیں۔ اس کی سوچ پر پہرے بٹھا دیے گئے ہیں۔ ہم تو اپنے گھروں کی چند روزہ محصوری سے پریشان ہیں۔ حالانکہ اپنے گھر میں ہیں جب جی چاہے، اپنے پرانے کاغذات چھانٹنے بیٹھ جاتے ہیں۔ پرانی تصویروں میں اپنے ماہ و سال کی رنگینیاں ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ کتابیں ہمیں بلاتی رہتی ہیں۔ ان کی دنیا میں کھو جاتے ہیں لیکن سوچیں کہ نیب کی حراست میں۔ مختصر سے حوالاتی کمرے میں ہمارے میر شکیل الرحمٰن کس طرح وقت گزارتے ہوں گے۔ وہاں تو یہ وسعتیں، یہ سہولتیں، یہ کتابیں، یہ دستاویزات، یہ تصویریں بھی نہیں ہیں۔ سیاسی لیڈروں، کارکنوں، ہم جیسے عادی مجرموں کو تو ایسی کال کوٹھڑیوں میں دن رات گزارنے کی مشق ہوتی ہے۔

ایک مہینے سے زیادہ ہو گیا ہے۔ بڑے بڑے قانون دان انہیں رہا کروانے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ سارے قوانین سر پٹخ رہے ہیں۔ ماضی کی ساری نظیریں شرمسار ہیں۔ بے چارے ماہرین تو قوانین کا ہی سہارا لے سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اوّل تو مقدمہ ہی نہیں بنتا۔ یہ معاملہ نیب کی دست اندازی کے قابل ہی نہیں تھا۔ غلط بنیادوں پر بننے والے مقدمے میں ضمانت ہو سکتی ہے۔ پھر بار بار یقین دلایا جارہا ہے کہ جب ’’ملزم‘‘ کی ضرورت ہوگی وہ سوالات کے جوابات دینے کے لیے حاضر ہو جائے گا۔

تاریخ کے صفحات بتاتے ہیں کہ ایسے ’’ملزموں‘‘ سے سوالات کے جوابات نہیں، کچھ اور جواب درکار ہوتا ہے۔ انگریز کی جیلیں گواہی دیتی ہیں۔ کوٹ لکھپت۔ منٹگمری۔ سکھر۔ مچھ۔ کراچی سینٹرل جیل کی بیرکیں ایسی داستانیں سناتی ہیں۔

وکلا یہ بھی دلیل دیتے ہیں کہ ضمانت پر رہائی کی صورت میں ’’ملزم‘‘ کے گواہوں پر اثر انداز ہونے کا خدشہ نہیں ہے۔ کیونکہ اس مقدمے میں گواہ سارے سرکاری ملازم ہیں۔ جنہیں ہمیشہ اپنی ملازمت عزیز ہوتی ہے۔ صداقت نہیں۔

نامساعد حالات، 200سے زیادہ ملکوں میں پھیلتی وبا کے سہمے ہوئے دنوں میں جنگ۔ جیو کے کارکن، عہدیدار، کالم نویس اپنے طور پر احتجاج کر رہے ہیں۔ ایک سینئر صحافی ازہر منیر نے بھوک ہڑتال بھی کر رکھی ہے۔ ان کارکنوں کو انتظامیہ سے شکایتیں بھی ہیں، گلے بھی۔ لیکن یہ وہ لوگ ہیں کہ جب کسی دوسرے کے حق پر ڈاکا ڈالا جا رہا ہو اس کے ضمیر کی آزادی کچلی جا رہی ہو تو گلے شکوے بھول کر میدان میں آ جاتے ہیں۔

سیاسی جماعتیں، علما، وکلا، سماجی رہنما، اساتذہ سب اس ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ لیکن میڈیا مالکان کی اپنی بااثر۔ طاقت ور برادری خاموش ہے۔ جب پرائیویٹ سیکٹر میں صرف اخبارات ہوتے تھے، ٹی وی چینل نہیں تھے تو کسی ہم عصر ایڈیٹر کی گرفتاری پر سخت ترین مارشل لا کے دنوں میں بھی آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی سراپا احتجاج بن جاتی تھی۔ ایک روز اخبارات کی ہڑتال بھی کی جاتی تھی۔ سب سیاہ پٹیاں بھی باندھتے تھے۔ اے پی این ایس کے اعلیٰ ترین وفد مملکت اور حکومت کے سربراہوں سے بھی ملتے تھے۔ وزیر اطلاعات کو بھی سمجھاتے تھے۔ احتجاج کی خبریں سب اخبارات شائع کرتے تھے۔

اب بھی برادری موجود ہے۔ بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑی اور بااثر۔ لیکن برادری والا جذبہ اتحاد اور روایات نہیں ہیں۔ ہمدردی میں کوئی بول نہ کوئی ادارتی شذرہ۔ بلکہ بعض معاصر چینل تو حق نمک ادا کرتے ہوئے ایسی خبریں بھی دے رہے ہیں جیسے یہ مقدمہ بالکل جائز ہے۔ جرم تو اس سے بھی بڑا ہے۔ بین الاقوامی تنظیمیں احتجاج کر رہی ہیں۔ اسے بھی دوسرے اخبارات شائع اور چینل نشر نہیں کر رہے ہیں۔

کورونا وائرس نے پوری دُنیا کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ امیر ترین ملکوں کی معیشت لڑکھڑا رہی ہے۔ پاکستان بھی انتہائی دگرگوں حالات سے گزر رہا ہے، ایسے میں مستقبل کی فکر کرنی چاہئے۔ آئندہ چار پانچ سال بلکہ اس سے بھی زیادہ سنگین بحرانوں سے گزریں گے۔ ایسے میں میر شکیل الرحمٰن کو ایک بے بنیاد مقدمے میں گرفتار رکھ کر ملک کے ایک بڑے گروپ کو ملکی تعمیر کی منصوبہ بندی میں شرکت سے روکا جا رہا ہے۔ اب ایسے مقدموں اور ان انتقامی کارروائیوں سے ماورا ہوکر اجتماعی مستقبل کی فکر وقت کا تقاضا ہے
Mehmood-Sham-Jang