امیتابھ سے ایک ملاقات

وہ ہمارے آگے آگے ڈگ بھرتا جا رہا تھا۔ طویل قامت، دبلا پتلا، عام سا پاجامہ قمیض پہنے، عام سا آدمی۔ لیکن کچھ تو تھا کہ نزدیک سے گزرنے والا ہر شخص پہلی اتفاقی نظر کے بعد چونک کے دوباره دیکھتا، چہرے پہ مسکراہٹ پھیل جاتی اور ہاتھ ہلا دیتا۔ جواباً طویل قامت کا سر خم ہوتا، لیکن چلنے کی رفتار سست نہ پڑتی۔

ہم ہانپتے کانپتے ایک ہاتھ میں بیگ، دوسرے میں لیپ ٹاپ سنبھالے اس کے پیچھے پیچھے چلے جا رہے تھے۔ اس طویل راہداری میں اس سے پہلے اور ہمارے بعد کوئی اور نہیں تھا۔

یہ لندن کا ہیتھرو ائرپورٹ تھا!

اس صبح طویل سفر کے خیال سے ہی ہماری طبعیت کچھ نڈھال تھی سو جہاز میں سوار ہونے کے اعلانات پہ زیادہ دھیان نہ دے سکے۔ سٹار بکس کی کافی پیتے، کروسنٹ کھاتے ہم کتاب پڑھنے میں مگن تھے۔ چونکے تب جب یہ اعلان ہوا کہ جہاز کا دروازہ بند ہونے کو ہے۔ ہاتھوں کے توتے اڑ گئے اور سامان پکڑ کے گیٹ کی طرف دوڑ لگا دی۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب جہازی راہداریاں بہت عام نہیں تھیں سو کبھی کبھی عمارت سے باہر نکل کے بس پہ بیٹھ کے جہاز تک پہنچنا پڑتا تھا۔ ہم ایک ایسی ہی راہداری میں تیز تیز چلتے جا رہے تھے جس کے دروازے کے پاس بس ہماری منتظر تھی۔ اور اسی راہداری میں وہ شخص ہم سے آگے چل رہاتھا۔ ہم دونوں بس میں سوار ہونے والے آخری مسافر تھے۔

جونہی ہم بس میں چڑھے ، دروازہ بند ہوا اور بس چل پڑی۔ اس ہڑبونگ میں بھی ہمیں محسوس ہوا کہ اس مسافر کے سوار ہوتے ہی بس کے سب مسافروں نے اسے گردن گھما کے دیکھا ہے۔ زیادہ تر مسافر ایشیائی تھے۔ ہمارے آگے چلنے والا مسافر ہمارے سامنے کھڑا تھا اور اب اس کا رخ ہماری طرف تھا۔ ایک ہاتھ سے سامان سنبھالتے اور دوسرے ہاتھ سے بس کے ہینڈل کا سہارا لیتے جونہی ہماری نظر اس کے چہرے کی طرف اٹھی، بے ساخته طور پہ ہمارے منہ سے چیخ نکل گئی اور ہمارا بیگ ہاتھ سے گر پڑا۔

فلم دیکھنے کا مرض ہمیں بہت بچپن سے لاحق ہوا۔ گھر میں سینما جانے کا رواج تو نہیں تھا لیکن ٹی وی پہ ہر اتوار کی صبح دکھائی جانے والی فلم کو دیکھنے کے صف اول کےامیدوار ہم ہی ہوتے۔ یوں اس زمانے میں ٹی وی پہ دکھائی جانے والی کوئی فلم بھی ہماری نظر سے نہ بچی۔ ان دنوں انڈین فلم وی سی آر پہ دیکھی جاتی تھی۔ کچھ گھنٹوں کے لئے وی سی آر کراۓ پہ لایا جاتا اور دو یا تین فلمیں اکھٹی دیکھ لی جاتیں۔ ہمارے گھر تو یہ ناممکنات میں سے تھا لیکن محلے میں کئی سہیلیوں کے گھر پر مہینے میں ایک بار اس شو کا اہتمام ضرور کیا جاتا۔

ہماری شوقین مزاجی کسی سے ڈھکی چھپی ہوئی نہیں تھی، سو ادھر انتظام ہوتا اُدھر بلاوہ آ جاتا۔ اماں ابا کے ماتھے کے بل کچھ گہرے ہو جاتے لیکن ہمارے مزاج شناس بھی تھے سو کچھ نہ کہتے۔

اس دور کی ریاضت کا ثمر ہے کہ اداکاروں کےمکالمے ہوں یا کرداروں کے نام، ذہن سے محو ہوتے ہی نہیں۔ آپریشن تھیٹر میں ہماری پشپا نامی نرس جھینپ جاتی ہے جب ہم راجیش کھنہ کے انداز میں اسے کہتے ہیں “پشپا”۔ کبھی آپریشن کے دوران بسنت نامی نرس کو بسنتی کہتے ہوئے اوزار طلب کرتے ہیں اور کبھی “میں اور میری تنہائی” کا ورد شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارے انڈین ساتھی گزرے برسوں کے انڈین سنیما کے متعلق ہماری یادداشت پہ خوب حیران ہوتے ہیں۔

اور بس میں حیرت سے ہم گنگ تھے کہ کیا سامنے کھڑا شخص حقیقت تھا یا واہمہ؟

” کیا آپ امیتابھ بچن ہیں؟ شعلے، زنجیر اور سلسلہ والے امیتابھ؟” ہم نے ہکلاتے ہوۓ پوچھا،

وہ ہماری حماقت پہ مسکرایا اور سر اثبات میں ہلا دیا، شاید یہ سوچتے ہوئے کہ ان کھسکی ہوئی خاتون کو کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا۔

جانتے ہوۓ کہ وقت کم ہے، ہم نے اگلے دو منٹ میں کچھ شرماتے، کچھ ہکلاتے امیتابھ بچن کو اپنی کیس ہسٹری سناتے ہوئے بتا دیا کہ کیسے اس کی ساری فلمیں ہمیں ازبر ہیں، پاکستان میں اسے کتنا پسند کیا جاتا ہے، اس کی اداکاری وقت کے ساتھ ساتھ کیسے بدلی ہے، اور ہمارے بیٹے حیدر کو اس کی فلم “پا ” کتنی پسند ہے۔

وہ بہت متانت اور سکون سے ہمارے ہر جملے کے بعد شکریہ کہتا اور سر ہلا دیتا۔

” مجھے آپ کے ساتھ تصویر کھنچوانی ہے اور آٹوگراف بھی”

“ضرور”

سیلفی کا زمانہ نہیں تھا اور مشکل یہ تھی کہ ہمارے زنبیل نما بیگ میں کیمرہ خدا جانے کہاں دفن تھا کہ چلتی بس میں مل کے ہی نہ دیتا تھا۔ ہم باتوں کے ساتھ ساتھ بیگ ٹٹولنے میں بری طرح مشغول تھے کہ بس رک گئی۔ جہاز کی سیڑھی سامنے تھی، مسافروں نے بس سے اتر کے جہاز پہ سوار ہونا شروع کردیا اور کیمرہ ابھی بھی ہاتھ میں نہیں آیا تھا۔

امیتابھ نے ہماری روہانسی شکل دیکھ کے تسلی دیتے ہوئے کہا، کوئی بات نہیں آپ جہاز میں تصویر کھنچوا لیجیے گا۔

ایک بات جو ہم دونوں کو یاد نہ رہی کہ امیتابھ بزنس کلاس کے مسافر تھے اور ہم اکانومی کے۔ اس مشکل کا ادراک تو جہاز میں بیٹھ کے ہوا، جب برطانوی ائر ہوسٹس نے ہمیں بزنس کلاس کا رخ کرنے سے روک دیا۔ اب ہم خود کو کوسے چلے جارہے ہیں کہ کاش کیمرہ گلے میں لٹکا لیا ہوتا تو یوں لب بام تک پہنچی کمند کو دیکھ کے آہیں نہ بھر رہے ہوتے۔

ہم بھی کہاں ہمت ہارنے والے تھے، آخر محلے میں ماہانہ وی سی آر کی محفلوں کے تربیت یافتہ تھے۔ ہم نے ائر ہوسٹس سے کہا کہ وہ بگ بی تک ہمارا پیغام پہنچا دے کہ ہم کیمرہ ڈھونڈھ چکے ہیں اور اب منتظر ہیں۔ بگ بی کو بھی اپنے وعدے کا لحاظ تھا سو تھوڑی ہی دیر میں ہم اگلے کیبن میں پہنچ چکے تھے جہاں ہمیں ڈاکٹر کاظمی کے نام سے آٹو گراف بھی ملا اور تصویر بھی کھنچی۔

آنے والے دنوں میں یہ داستان ہمارے انڈین ساتھیوں کو بہت بھائی اور ہم ہسپتال میں بگ بی فیم کے نام سے مشہور ہوئے۔ ہم سے بار بار سنا گیا کہ امیتابھ بات کرنے میں کیسے تھے ؟

کچھ لوگوں کو ہمارا پرجوش رویہ بچگانہ لگا لیکن ہم تو ایک ہی بات جانتے تھے کہ ہمارے بچپنے کی بسائی ہوئی دنیا جن یادوں کے گرد گھومتی ہے اس کا ایک اہم کردار اور ہماری زندگی کے کچھ لمحات ایک دوسرے سے ٹکرا گئے تھے۔ اور اسی بہانے ہم نے ان گزرے برسوں میں جھانک کے اس کم عمر ، الہڑ اور زندگی سے بھرپور لڑکی کو دوبارہ سے دیکھ لیا تھا جو فلم اور کتاب کی رسیا تھی اور لطف لینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی تھی۔

ہمارا کہنا یہ ہے کہ اگر ایسا موقع کبھی آپ کو بھی میسر ہو تو زندگی کے موجودہ مقام اور حیثیت سے شرمائیے گا نہیں۔ لمحہ موجود سے کچھ دقیقے چرا کے گزرے ہوئے زمانے میں قدم ضرور رکھیے گا۔ یقین کیجیے آنے والا وقت سہل ہو جائے گا جب ماضی کے جھروکوں سے یادوں کی بارات اترے گی اور ایک دبی دبی سی مسکان تھکن زدہ چہرے کو زندگی بخشے گی
Dr-Tahira-Kazmi