فیصلہ اچھا مگر شرح سود 5 فیصد پر لائی جائے، افتخار علی ملک، ایس ایم منیر

کراچی : یونائٹیڈ بزنس گروپ(یو بی جی)کے رہنمائوں اور سابق صدور ایف پی سی سی آئی ایس ایم منیر،افتخار علی ملک،زبیرطفیل،مرکزی ترجمان یو بی جی گلزار فیروز، سندھ زون کے چیئرمین خالدتواب نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود کو11فیصد سے کم کرکے9فیصد کرنے کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے شرح سود میں مزید کمی کا مطالبہ کردیا ہے۔ یو بی جی کے سرپرست اعلیٰ،سابق صدر ایف پی سی سی آئی ایس ایم منیر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا یہ اچھا فیصلہ ضرور ہے مگر یہ شرح سود5فیصد تک کی جائے،دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک شرح سود کو صفر فیصد پر لائے ہیں تو پاکستان میں بھی اسے زیادہ سے زیادہ5فیصد پرلایا جائے،9فیصد شرح سود کئے جانے سے بھی ایکسپورٹ مشکل سے ہی ہو گی اس لئے فوری طور پر ہمارا اسٹیٹ بینک سے مطالبہ ہے کہ مارک اپ کی شرح کو زیادہ سے زیادہ5فیصد پر لایا جائے۔ایس ایم منیر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کورونا وائرس سے مقابلے کیلئے بہت محنت کررہے ہیں اور غریبوں میں اربوں روپے تقسیم کررہے ہیں تاکہ وہ مشکل حالات میں اپنی گزربسر کرسکیں ،ہم سب کو ایک قوم ہوکرکورونا وائرس سے مقابلے کی جدوجہد جاری رکھنی ہے ۔چیئرمین یونائٹیڈ بزنس گروپ اور نامزد صدر سارک چیمبر افتخار علی ملک نے کہا کہ عارضی’’ ری فنانس اسکیم فار پیمنٹ آف ویجز اینڈ سیلریز ٹو دی ورکرز اینڈ ایمپلائز آف بزنس کنسرنس‘‘حکومت کا ایک بہترین فیصلہ تھا اور اب شرح مارک اپ میں مزید2فیصد کمی کا بھی ہم خیرمقدم کرتے ہیں۔

مگر دنیا کے جوحالات ہیں اور ایکسپورٹ ختم ہوکر رہ گئی ہے ایسے میں اسٹیٹ بینک کو شرح سود صفر فیصد کرنی چاہیئے۔افتخار ملک نے کہا کہ اکنامی کو متحرک کرنے کے لیے مارک اپ کی شرح کو کم کرکے5تا6فیصدفیصد تک لانے کی ضرورت تھی، کئی ممالک نے اپنی معیشتوںکو سنبھالا دینے کے لیے اہم ترین اقدامات کیے ہیں تاکہ کرونا کی وبا کے باعث متاثر ہونے والے کاروباروں کی بحالی ممکن ہوسکے ، اس وقت پاکستان کے کاروباری افراد کو بھی ایسے ہی اقدامات کی ضرورت ہے تاہم حکومت کورونا وائرس کی وبا سے مقابلے کی بھرپور کوششیں کررہی ہے اور ہم حکومت کے ساتھ ہیں مگر اس وقت ضرورت یہ تھی کہ مارک اپ کی شرح میں آخری حد تک کمی کی جائے تاکہ ایکسپورٹ ہوں اور ایکسپورٹرز کونئے آرڈرز مل سکیں۔یو بی جی کے سیکریٹری جنرل اور سابق صدر ایف پی سی سی آئی زبیرطفیل نے کہا کہ مرکزی بینک کا شرح سود کم کرنے کا اچھا فیصلہ ہے ، تاجربرادری کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ شرح سود کوسنگل ڈیجٹ ہونا چاہیئے ،اگرچہ ہم نے5سے6ماہ قبل حکومت سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ شرح سود کو 9فیصد پرلایا جائے مگر اس وقت کورونا وائرس کا وجود نہ تھالیکن آج کے لحاظ سے شرح سود کو5فیصد ہونا چاہیئے کیونکہ9 فیصد کی شرح پر ایکسپورٹ نہیں ہوسکے گی نہ ہی برآمدی سامان کی لاگت پورہ ہوپائے گی۔زبیر طفیل نے مزید کہا کہ حکومت نے انڈسٹریز کھولنے کیلئے جو ایس او پیزدی ہیں ان پر عملدرآمد کرنا چاہیئے کیونکہ اس میں ہم سب کا یکساں فائدہ ہے۔ یو بی جی کے چیئرمین سندھ زون خالدتواب اور مرکزی ترجمان گلزارفیروزنے کہا کہ فیصلہ تاخیر سے کیا گیا مگر اب تو شرح سود5فیصد ہونی چاہیئے کیونکہ دنیا میں تو شرح سود صفر اور ایک فیصد تک کردی گئی ہے،حکومت یہ سوچے کہ شرح سود میں کمی سے صنعت،کاروبار اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کا بوجھ بھی کم ہو