فرانزک رپورٹ – ہوشربا انکشافات – درجنوں شوگر ملیں کسی مالی چوکیدار یا ڈرائیور کے نام کی نکل سکتی ہیں۔ 30 سے زائد شوگر ملیں بھی کسی ایک ہی شخصیت کی نکل سکتی ہیں

اکستان میں سال 2008 میں جب چینی کی قیمت 45 روپے کلو تھی تو کسانوں سے شوگر ملیں گنا 180 روپے من کے حساب سے خرید رہی تھیں۔ اب چینی کی موجودہ قیمت 85 روپے کلو ہے تو بھی کسانوں سے گنا 190 روپے فی من کے حساب سے ہی خریدا جارہا ہے۔گنے کی خریداری کے بعد شوگر ملوں میں چینی بنانے کا پراسس شروع ہوتا ہے اور ہمیشہ ملکی ضرورت سے زائد چینی بنائی جاتی ہے پھر بھی سال میں کئی بار چینی کی قلت سے قیمتیں بڑھ جاتی ہیں بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق چینی کو مارکیٹ میں جانے سے قبل ملوں کے اندر ہی اغوا کر لیا جاتا ہے جس سے چینی کی مصنوعی قلت پیدا ہوتی ہے۔ چینی بحران کی جو موجودہ رپورٹ سامنے آئی ہے اس میں بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ چینی کا بحران خودساختہ تھا جس سے متعدد سیاسی خاندانوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔پاکستان میں کورونا کے بعد اس وقت دوسری بڑی خبر ایف آئی اے کی چینی پر سبسڈی رپورٹ ہے جس کے حتمی فیصلے کے لیے فرانزک رپورٹ کے انتظار نے 25 اپریل تک تجسس کی ایک ہلچل قائم کر دی ہے۔ فرانزک رپورٹ 25 اپریل کو وزیراعظم کے سامنے آن بورڈ ہو گی اس سے قبل ہی کچھ کرشماتی پنڈٹ ڈھکے چھپے الفاظ میں اظہار کر رہے ہیں کہ فرانزک رپورٹ بھی تیار ہو چکی ہے۔ایف آئی اے کی پہلی رپورٹ چینی کی سبسڈی کی انکوائری پر مشتمل تھی جس میں چینی پر اربوں روپے کی سبسڈی دینا اور لینا سامنے آیا ہے۔اب فرانزک رپورٹ میں تمام ثبوتوں کے ساتھ یہ بتایا جاہے گا کہ سبسڈی میں کون سی پارٹی کہاں تک شامل ہے۔ اور سبسڈی کس نے دی۔۔؟ کیوں دی۔۔؟ اور کیسے دی۔ ؟ سبسڈی کی فرانزک رپورٹ سنسنی خیز انکشافات پر مبنی ہوسکتی ہے جس میں پانامہ لیک کے والیم کی طرح ایک ایک فائل پر دئیے جانے والے احکامات ،دستخط شدہ چیک اور سبسڈی دینے اور رقم وصول کرنے والوں کے دستخطوں کے ثبوت مہیا کیے جاسکتے۔ ہیں فرانزک رپورٹ ایک مکمل آڈٹ کی طرز پر ہوگی جس میں اکثریت ن لیگ کے لوگوں کی متوقع ہے اس کی زد میں شوگر ملز مالکان سے زیادہ سرکاری عہدے دار اور آفیسرز آجائیں گے جس میں زیادہ تر ایف بی آر ، ایف ای سی پی اور محکمہ کسٹم کے بہت سے سابقہ اور موجودہ افسران کا نام آسکتا ہے جو جو بھی سرکاری عہدے دار فرانزک رپورٹ میں نشاندہی پر آگئے وہ اپنے عہدوں سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔اب تک چینی کی سبسڈی انکوائری رپورٹ پر کوئی کارروائی اس لیے سامنے نہیں آسکی کہ اس کے بعد ملوث لوگ عدالتوں میں چلے جاتے لیکن فرانزک رپورٹ کو چیلنج نہیں کیا جا سکے گا کیونکہ اس کا ایک مکمل پراسس ہوتا ہے۔ فرانزک رپورٹ اپنی تکمیل کے بعد قانون کے مطابق نیب کو بھجوائی جائے گی جہاں اس کا باقاعدہ ریفرنس تیار ہوگا اور چارج شیٹ لگے گی جس میں گرفتاریاں بھی ممکن ہیں۔ جس طرح پہلے اربوں روپے کے جعلی بنک اکائونٹ سامنے آئے تھے بالکل اسی طرح سے اب فرانزک رپورٹ سے ایسے ہوشربا انکشافات کی توقع ہے کہ درجنوں شوگر ملیں کسی مالی چوکیدار یا ڈرائیور کے نام کی نکل سکتی ہیں۔ 30 سے زائد شوگر ملیں بھی کسی ایک ہی شخصیت کی نکل سکتی ہیں۔ اگر کسی کے نام پر دوہزار ایکڑ زرعی رقبہ ہے تو اسی کا چار ہزار ایکڑ کسی اور نام پر بھی ہوسکتا ہے۔ سیاسی پنڈت 25 اپریل کے بعد بڑے سیاسی بھونچال کی پشین گوئیاں کر رہے ہیں لیکن یہ بھونچال فرانزک رپورٹ میں ملوث لوگوں کے لیے ہی ثابت ہوگا کیونکہ حکومت بھی شاید اس بڑے طوفان سے پہلے اپنے بند باندھ چکی ہے جس کی پہلی کڑی فرانزک رپورٹ ہے۔ شطرنج کے کھلاڑیوں نے شطرنج کے خانوں میں چاول کی جگہ چینی تو رکھ دی تھی لیکن یہ بھول گئے کہ پہلے وقتوں کے بادشاہوں کے ریاضی دان ریاضی کے جدید اصولوں سے نابلد تھے اب تو سٹیٹ کے قانون سے دریا کے پانی کی پیمائش بھی ہو جاتی ہے اب معیشت کے بابے ایک ایک دانہ اور ایک ایک خانہ گن کر حساب لگا لیتے ہیں کہ شطرنج کی اس بساط کا پیٹ کیسے بھرا جاہے گا کہاں سے کتنے دانے اٹھائی جائیں گے اور کہاں کتنے لگائے جائیں گے۔ کہتے ہیں کینیوں کے باغ میں کچھ لڑکے بلااجازت کینو توڑنے لگے مالک نے آکر دیکھا تو پریشان ہوگیا کہ تمام لڑکے بڑے گھروں کے تھے آخر اس نے ایک کو پکڑ لیا کہ دوسرا تو ملک صاحب کا بیٹا ہے لیکن تم نے کیوں توڑے اسی طرح سے ایک ایک کو خوب رگڑنے کے بعد آخر میں ملک صاحب کو بھی رگڑ دیا کہ باقیوں نے جو پانچ پانچ کینو توڑے تھے تم نے اکٹھے بیس کیوں توڑ لیے-Tanvir-Sahir-Nawaiwaqt-