یہ وہ نیا پاکستان نہیں ہے جس کے خواب دکھائے گئے تھے، نئے پاکستان میں ذوالقرنین علی خان جیسے لاعلم چیئرمین کی گنجائش نہیں

گذشتہ روز سائرن میں ایک ہزار ٹن کھجوروں کے ٹینڈر پر بات کی گئی۔ کالم میں اس حوالے سے بنیادی سوالات اْٹھائے گئے۔ گذشتہ روز ایک نجی چینل پر اس حوالے سے رات دس بجے پروگرام میں چیئرمین یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن ذوالقرنین خان ٹیلی فون پر خیالات کا اظہار فرما رہے تھے۔ ان کے جوابات سن کر ہم سمجھ گئے کہ یہ بربادی بے سبب نہیں ہے، یہ مصیبتیں اور بدانتظامی بلاوجہ نہیں ہے۔ مہنگائی اور عام آدمی کی تکلیف کے پیچھے حکومتی شخصیات کی سستی اور معاملات پر عدم توجہ سب سے بڑی وجہ ہے۔
ذوالقرنین خان فرما رہے تھے کہ وہ خود دو ماہ بعد وطن واپس آئے ہیں، وہ فرما رہے تھے کہ اس ٹینڈر کے بارے انہیں کوئی علم نہیں ہے، وہ فرما رہے تھے کہ ملک میں کھجور کی کمی کے باعث امپورٹڈ کی گنجائش رکھی گئی ہے، وہ فرما رہے تھے کہ آپریشنز کے بارے میں ایم ڈی زیادہ بہتر بتا سکتا ہے، وہ فرما رہے تھے کہ ہر چیز کا مجھے علم نہیں ہوتا، وہ فرما رہے تھے کہ اب وزیراعظم یہ تو نہیں جانتا ہو گا کہ کس محلے میں پانی آ رہا ہے اور کس میں نہیں، وہ فرما رہے تھے کہ پاکستان میں الزام لگانا بہت آسان ہے، وہ فرما رہے تھے کہ اب میں فون پر کیا سمجھاؤں، وہ یہ واضح طور پر بتانے میں ناکام رہے کہ سعودیہ میں کھجوروں اور پیکجنگ کمپنی سے انکا کیا تعلق ہے، وہ یہ بھی فرما رہے تھے کہ بعض اوقات امپورٹڈ کھجور مقامی کھجوروں سے سستی پڑتی ہیں، وہ یہ فرما رہے تھے کہ اس ٹینڈر کی تاریخیں غلط ہیں کھجوریں پندرہ اپریل تک یوٹیلٹی سٹورز میں موجود ہونی چاہییں، وہ فرما رہے تھے کہ کرسٹل پیکنگ کا مطلب ہے کہ چیز کو واضح طور پر دیکھا جا سکے، وہ فرما رہے تھے یہ معاملہ میرے علم میں لانے کا شکریہ، وہ فرما رہے تھے کہ اس ٹینڈر بارے پوچھوں گا، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ النوات کھجوریں تو یورپ اور امریکہ میں کھجوریں سپلائی کرتی ہے یوٹیلٹی سٹورز تو اتنی مہنگی کھجوریں خرید ہی نہیں سکتا۔
اس کے علاوہ بھی انہوں نے کئی باتیں کی ہیں۔

ذوالقرنین خان کو سننے کے بعد یہ یقین ہو چلا ہے کہ وہ اپنے عہدے کے ساتھ کتنے مخلص ہیں اور اپنے کام میں کتنی دلچسپی لیتے ہیں۔ ایک ایسا چیئرمین جس کے علم میں لائے بغیر کروڑوں روپے کی ایک ہزار ٹن کھجوروں کی خریداری کا ٹینڈر دے دیا جائے اور چیئرمین دو یا تین ماہ دفتر ہی نہ جائے، کیا اس دوران وہ اپنے دفتر سے مکمل طور پر لاتعلق رہے، اگر وہ لاتعلق رہے اور ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہے تو کیا ایک اہم عہدے پر رہنے کے تقاضوں پر پورا اترتے ہیں۔ اگر وہ خود کھجوروں اور پیکجنگ کا کاروبار کرتے ہیں تو پھر یہ واضح طور پر مفادات کا تصادم ہے، اگر ایک ایسا شخص جو خود کھجوروں کے کاروبار سے منسلک ہو اور وہ یوٹیلٹی سٹورز کا چیئرمین بھی ہو اسے تو وقت سے بہت پہلے کھجوروں کی مقامی منڈی سے خریداری کر کے پیسے بچانے اور عوام کو مکمل طور پر سہولت فراہم کرنے کی حکمت عملی ترتیب دینا چاہیے تھی اس کے بجائے ان کے دور میں کھجوروں کی درآمد کے منصوبے بن رہے ہیں، یہ کیسی عوام دوستی ہے، یہ کیسی تبدیلی ہے اور یہ کیسی عوامی خدمت ہے جہاں عوام کے پیسے کو اتنے برے طریقے سے لٹایا جا رہا ہے۔ یہ تو ایک ٹینڈر ہے جو ہم عوام کے سامنے لے آئے اللہ جانے کتنے ہی ایسے ٹینڈرز سرکاری اداروں میں ہو رہے ہوں گے جن کے بارے ذمہ دار افراد کچھ جانتے ہی نہ ہوں گے یا پھر وہ کچھ جاننا ہی نہیں چاہتے ہوں گے یا پھر وہ سب کچھ جانتے ہوں گے اور سب کچھ ان کی مرضی سے ہو رہا ہو گا لیکن یہ کہنا سب سے آسان ہے کہ میرے علم میں نہیں ہے لیکن وہ یہ جانتے ہیں کہ مقامی منڈی میں کھجوروں کی کمی ہے اس وجہ سے درآمد کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
یوٹیلٹی سٹورز کبھی عوام کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔ حکومت اس شعبے پر پیسہ لٹا رہی ہے اور اس کا نتیجہ صفر ہے۔

وزیراعظم پاکستان کا سارا زور یوٹیلیٹی سٹورز اور راشن کارڈ جیسے منصوبوں پر ہے کروڑوں کی آبادی اور ڈیجیٹل ورلڈ میں ایسے منصوبوں کے صرف خواب ہی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اتنے بڑے پیمانے پر سبسڈی کے بعد بھی بڑی تعداد حقیقی سہولت سے محروم ہے۔ وزیراعظم اور انکی معاشی ٹیم جب تک یہ نہیں سمجھے گی کہ یوٹیلیٹی سٹورز کی افادیت کتنی ہے اور اس کے بجائے دیگر شعبوں میں اتنی سبسڈی سے کتنے بہتر نتائج لیے جا سکتے ہیں اس وقت تک بہتری کی کوئی امید نہیں ہے۔ ایک طرف کروڑوں روپے کے ایسے ٹینڈرز ہو رہے جن کے بارے چیئرمین یوٹیلیٹی سٹورز ہی لاعلم ہیں تو دوسری طرف حکومت یوٹیلیٹی سٹورز کو سبسڈی پر سبسڈی دیے جا رہی ہے۔ یہ عوام کے پیسوں پر لوٹ مار کے مترادف ہے، یہ قومی خزانے کا ضیاع ہو رہا ہے۔ یہ وہ نیا پاکستان نہیں ہے جس کے خواب دکھائے گئے تھے، یہ وہ تبدیلی نہیں ہے جس کے لیے بائیس سال جدوجہد کی گئی تھی، یہ وہ تحریک انصاف نہیں ہے جس کے لیے کارکنوں نے سخت موسموں میں لانگ مارچ اور دھرنے دیے تھے۔ کیا وزیراعظم کے اردگرد کے لوگ یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ انہوں نے صرف ذاتی مفادات کو ترجیح دینی ہے اور دولت میں اضافے کے لیے دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہے۔ یہ آٹا، چینی بحران سے زیادہ بڑا سکینڈل ہے۔
سب سے پہلے تو ہم وزیراعظم عمران خان سے اپیل کرتے ہیں کہ انتہائی غلط اور نامناسب وقت پر یہ ٹینڈر کرنے والوں کے خلاف تحقیقات کا حکم دیں۔ یقیناً وہ ایسی کوتاہی پر کسی کو معاف نہیں کریں گے اگر وزیراعظم تک یہ بات نہیں پہنچتی اور وہ کسی وجہ سے اس اہم مسئلے پر کارروائی کا حکم نہیں دیتے تو پھر چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل ہے کہ قومی خزانے سے یوٹیلیٹی سٹورز کے لیے ایک ہزار ٹن کھجوروں کے اس ٹینڈر پر ازخود نوٹس لے کر عوام کے پیسے کو ضائع کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ یہ عوام کا پیسہ ہے اور کسی شخص کو اسے ضائع کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ امید ہے وزیراعظم پاکستان عمران خان اس بارے ضرور کارروائی کریں گے۔