اب سب نے ہی ماسک پہن لیا ہے تو اچھے برے کی پہچان مٹ گئی ہے

یہ شہر کراچی ہے… بس کے انتظار میں کھڑے ہوں تو موبائل چھن جاتا ہے، بس میں سوار ہوں تو پرس غائب ہو جاتا ہے، موٹر سائیکل پر ہو تو تیز آنے والی منی بس یا ٹرک مار جاتا ہے، گاڑی میں ہو تو موٹر سائیکل سوار گن پوائنٹ پر گاڑی چھین لیتے ہیں۔
اگر کار پارک کرکے جائو تو واپسی میں بیٹری غائب ہوتی ہے۔ ان سب وارداتوں کی شکایت درج کرانے تھانے جائو تو مدعی ملزم بن کے اندر ہو جاتا ہے۔ پہلے بھتہ نہ دینے پر جلا دیا جاتا تھا، اب دکان بند کر دی جاتی ہے۔ مگر یہ شہر ہے کہ پھر بھی پورے ملک کو چلاتا ہے۔
آج کل سب کچھ لاک ڈائون، کاروبار بھی اور جرائم بھی۔ اب سب نے ہی ماسک پہن لیا ہے تو اچھے برے کی پہچان مٹ گئی ہے۔ ویسے بھی ہماری سیاست کو کئی سال سے ’’شوگر‘‘ ہو گئی ہے اور گزارا انسولین پر ہے۔
ویسے تو گندم سے بھی شوگر ہو جاتی ہے۔ اب تو سیاست نظریاتی وہ بھی کاروباری لوگوں کے درمیان۔ کورونا تو خیر چلا ہی جائے گا نجانے کتنی جان لے کر مگر یہ وائرس جس نے پورے نظام کو جکڑ لیا ہے نجانے کب جائے گا۔
یہ شہر کراچی ہے… اسے روشنیوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے مگر کیا چھوٹے اور کیا بڑے‘ لوگ بجلی کنڈوں سے لیتے ہیں۔ غلطی سے اگر آپ پر ایمانداری کا بھوت سوار ہے تو پھر تیار ہوجائیں ناقابل یقین بلوں کیلئے۔ لائن مین آپ کو ’’راستہ‘‘ بتا رہا ہے اور آپ سیدھی لائن پر چلنے کی بات کر رہے ہیں۔
یہ شہر کراچی ہے… یہاں سمندر بھی ہے اور پورٹ بھی، ایک خوبصورت پہاڑی بھی ہوتی تھی جو آبادی تلے دب چکی ہے۔ پانی پھر بھی ٹینکر سے ملتا ہے۔ پینے کا پانی صرف بوتلوں میں ملتا ہے اور وہ بھی دو نمبر۔ اس حوالے سے جب بھی کسی نئے پروجیکٹ کا اعلان ہوتا ہے تو افسران کی آنکھوں میں ایک مجرمانہ سی چمک پیدا ہو جاتی ہے۔

یہ شہر کراچی ہے… اس نے بڑے بڑے لاک ڈائون دیکھے ہیں، کرفیو کی بھی پرانی عادت ہے اور کیئر فار یو کے نام پر بھی شہر کو بند ہوتے دیکھا ہے مگر پھر بھی یہ شہر کھڑا ہو جاتا ہے، ملکی معیشت کو چلاتا ہے بھلے کوئی اس کو اس کا جائز حق دے یا نہ دے۔ کہتے ہیں وائرس میں باہر نکلے تو بیماری سے مر جائو گے اور دوسروں کو بھی مارو گے مگر یہاں تو ایک ایک دن میں 50؍سے 100؍لوگوں کو مرتے دیکھا ہے۔
یہ شہر کراچی ہے… جو ایک زمانے میں روز دھلا کرتا تھا اب مکمل دھلائی کر دی گئی ہے۔ لوگ صبح یا تو سرکلر ریل یا ٹرام پر گھروں سے دفتر، اسکول اور کالج جاتے تھے۔ علاقے ایک پلاننگ سے بنے ہوئے تھے، گھر کم میدان اور پارک زیادہ ہوتے تھے، فٹ پاتھ کا بھی تصور تھا۔ سچ کہا ہے کسی نے! یادِ ماضی عذاب ہے یا رب! اب سب لاک ڈائون ہے۔ جسٹس گلزار اس شہر کے باسی ہیں ہم بھی 39؍سال سے صحافت کر رہے ہیں، اپنی آنکھوں کے سامنے اس شہر کو اجڑتے دیکھا ہے۔
کبھی رونقیں تھیں نازل اسی خطہ زمین پر
وہ خطہ زمین ہے کہ عذاب اگل رہے ہیں
کہتے ہیں کورونا وائرس کا واحد علاج فاصلہ رکھنے میں ہے، ہاتھ نہ ملانے، گلے نہ ملنے میں ہے۔ یہ عادات تو ہم نے قیامِ پاکستان کے بعد سے اپنائی ہوئی ہیں، ہاں! البتہ منافقت میں یہ رشتے ضرور قائم رکھے۔ فاصلے نہیں ہوتے تو اپنی نفرتیں ہوتیں۔ زبان، مذہب، فرقہ واریت، بھائی کے ہاتھوں بھائی کا خون۔ تو فاصلے تو بہت ہیں ہمارے درمیان۔ امیر امیر سے امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے ورنہ ’’منی پاکستان‘‘ ایسا نہ ہوتا۔
یہ شہر کراچی ہے… جس کی آبادی میں بھی دو نمبری کر دی جاتی ہے۔ ڈھائی، تین کروڑ کے شہر کو ڈیڑھ پونے دو کروڑ کا شہر بتایا جاتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہاں کی نشستوں میں اضافہ ہو جائے۔ دنیا کا کوئی میٹرو پولیٹن شہر اتنی سوک ایجنسیوں میں تقسیم نہیں جتنا یہ شہر ہے۔

یہ شہر کراچی ہے… ایک نہیں کئی مافیاز کا شہر۔ جرم، سیاست اور قانون کا ایسا ملاپ آپ کو اور کہیں نہیں ملے گا۔ کیا اسلحہ، کیا منشیات، کیا بلڈرز، کیا ٹرانسپورٹ، کیا پارکنگ اور کیا پولیس مافیا… یہ لوگ جیت رہے ہیں، یقین نہ آئے تو اس شہر کو بہتر بنا کر دکھائیں۔
اچھی بسیں چلا کر دکھائیں، سرکلر ریلوے بحال کرکے دکھائیں، کھیلوں کے میدان اور پارک آباد کرکے دکھائیں۔ تصور کریں اس سب کے باوجود پچھلے 30؍سالوں میں ایک لاکھ کے قریب لوگوں کو قتل کرنے کے باوجود، دہشت گردی کے باوجود یہ شہر آج بھی ملک کی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی ہے۔ شہر کو بھی چلاتا ہے اور ملک کو بھی، مگر جواب میں اسے صرف نفرت اور تعصب ملتا ہے۔ یہاں آئو، لوٹو، کھائو اور جائو۔
یہ شہر کراچی ہے… اس کو تو سزا ملنا ہی تھی ناکردہ گناہوں کی۔ دارالحکومت تھا تو وہ چھن گیا، فاطمہ جناح کو ووٹ دیا تو ایوب خان نے وہ سزا دی کہ آج تک شہر سنبھل نہ پایا۔ پھر بھی لوگ کہتے ہیں کہ وہ دور سب سے اچھا تھا۔ وائرس کا پتا فوراً نہیں چلتا، جب تک علامات ظاہر نہ ہوں۔ مشرقی پاکستان کیسے ہاتھ سے نکل گیا؟
یہ شہر کراچی ہے… ایک زمانے میں حزب اختلاف کا شہر تصور کیا جاتا تھا اب تو حزب اقتدار کا ہے۔ پہلی بار جس پارٹی نے مرکز میں حکومت بنائی اس نے کراچی سے سب سے زیادہ نشستیں جیتی ہیں، اب تو اس کے اتحادیوں کو یہ جرات بھی نہیں کہ وہ احتجاج اور زیادتیوں پہ علیحدہ ہو جائیں۔ یہ نہیں کہ کوشش نہیں کی مگر فوراً پرانے مقدمے کھول دیے گئے، قریبی لوگ اٹھا لیے گئے، مرتے کیا نہ کرتے دبک کر بیٹھ گئے۔
دیکھتے ہیں کب لاک ڈائون ختم ہوتا ہے، کب کاروبار دوبارہ شروع ہوتا ہے۔ سب لوگ گھروں پر ہیں تو یہ ضرور سوچیں کہ ان نفرتوں نے ہمیں دیا کیا۔ ساری زندگی نفرتوں اور تعصب کی بنا پر فاصلے رکھے، آج محبتوں، زندگی کیلئے فاصلہ رکھیں تاکہ آپ بھی محفوظ رہیں اور دوسرے بھی۔
Mazhar-Abbas-Jang