جس وقت نواز شریف اور شہباز شریف اسکول جایا کرتے تھے

پاکستان سمیت دنیا کے 209 ملکوں اور علاقوں میں کورونا نے جینا حرام کر رکھا ہے، ہر طرف خوف کا عالم ہے، اکثر ملکوں میں لاک ڈائون ہے۔

اسی وحشت اور خوف کے موسم میں مسلم لیگ (ن) کے تین اہم رہنما یہ جہاں چھوڑ کر اگلے جہاں میں جا بسے ہیں۔

ان تین رہنمائوں میں سرانجام خان، راجہ اشفاق سرور اور راجہ محمد افضل شامل ہیں۔

ان تینوں میں سے سب سے اہم رہنما سرانجام خان تھے، وہ بہت پرانے مسلم لیگی تھے۔ جس وقت نواز شریف اور شہباز شریف اسکول جایا کرتے تھے، سرانجام خان اس وقت بھی ایک متحرک مسلم لیگی رہنما تھے۔

ایوبی دور میں وہ کونسل مسلم لیگ کے صوبائی صدر تھے، انہوں نے پشاور اور مردان میں محترمہ فاطمہ جناح کے جلسے کروائے۔

سرانجام خان کے آبائی علاقے مردان میں ہونے والے جلسے میں محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ بیگم خان قیوم بھی تھیں۔ اس جلسے میں میاں ممتاز دولتانہ، مولانا بھاشانی، محمد حسین چٹھہ بھی شریک ہوئے۔

سرانجام خان خوشگوار مزاج کے حامل بڑے وسیع القلب انسان تھے۔ اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی ان کے خالہ زاد بھائی ہیں۔

اسفند یار ولی کی سوتیلی ماں کا اُن کے ساتھ اچھا برتائو نہیں تھا۔ اسفند یار ولی کو تعلیم دلوانے میں ان کے خالہ زاد بھائی سرانجام خان کا کردار ہے۔

سرانجام خان زمیندار نے نہ صرف اسفند یار ولی کو ایچی سن کالج سے تعلیم دلوائی بلکہ ان کا پورا پورا خیال رکھا۔ ان دونوں خاندانوں کی پرانی رشتے داریاں بھی تھیں۔

سرانجام خان کی ایک بیٹی سلمیٰ عطااللہ کینیڈا میں سینیٹر ہیں۔ مسلم لیگی رہنما کے ایک داماد شکیل درانی وفاقی سیکرٹری اور چیئرمین واپڈا رہے۔

میری سرانجام خان سے زیادہ ملاقاتیں مسلم لیگ (ن) کے دورِ ابتلا میں ہوئیں، ہم اسلام آباد میں اکثر محفل سجا لیا کرتے تھے، اس وقت مسلم لیگ (ن) میں سرانجام خان جتنا دلیر کوئی نہ تھا، وہ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری جنرل تھے، ان پر بڑا پریشر تھا کہ وہ نواز شریف کی پارٹی کو اِدھر اُدھر کر دیں مگر وہ چٹان کی طرح آمریت کے سامنے ڈٹ گئے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلم لیگ (ن) کو آمرانہ دور میں سب سے زیادہ وفادار لوگ خیبر پختونخوا سے نصیب ہوئے۔

یہ حسن اتفاق ہے کہ میری ان وفاداروں سے دوستیاں تھیں۔ سرانجام خان کی طرح پیر صابر شاہ، سردار مہتاب، اقبال ظفر جھگڑا، عبدالسبحان خان کے ساتھ ساتھ علی خان یوسفزئی بھی ڈٹے رہے۔ ان لوگوں نے بیگم کلثوم نواز کا پشاور اور مردان میں جلسہ کروایا۔

سرانجام خان کو کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے ایوب آمریت میں فاطمہ جناح اور مشرف دور میں کلثوم نواز کا مردان میں جلسہ کروایا۔

مشرف کے عہد میں خیبر پختونخوا کے جلسوں میں عبدالسبحان خان جوش اور ولولہ بھر دیتے تھے۔ سر انجام خان زمیندار سے اسلام آباد اور مردان میں زیادہ ملاقاتیں رہیں۔

اسلام آباد میں ہماری زیادہ بیٹھک ایف ٹین فور میں مسلم لیگ کے دفتر میں ہوتی تھی۔ یہیں میری ملاقاتیں بیگم کلثوم نواز اور ان کی صاحبزادیوں سے ہوتی تھیں، حسین نواز کی اہلیہ سائرہ حسین اور ان کے صاحبزادے زکریا حسین بھی ساتھ ہوتے تھے۔

کیپٹن (ر) صفدر سے بھی یہیں طویل ملاقاتیں رہیں۔ کئی مرتبہ گورنمنٹ کالج لاہور کا ذکر بھی چھڑ جاتا۔ خود کو بڑے دلیر کہنے والے صحافی کلثوم نواز، مریم نواز یا ان کے خاندان کے قریب بھی نہیں آتے تھے۔

آمریت سے ڈرنے والے آج جمہوریت کے گیت گاتے ہیں، ہماری گواہی دینے کے لیے جاوید ہاشمی اور تہمینہ دولتانہ سمیت بہت سے لوگ زندہ ہیں۔

اے آر ڈی کی قیادت کو پتا ہے کہ کس کا کیا کردار تھا مگر ہمارے سیاستدانوں کو کون سمجھائے۔

مسلم لیگ (ن) نے مشکل کی گھڑی میں اپنی رہائش گاہ کو سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنانے والے چوہدری جعفر اقبال اور بیگم عشرت اشرف کو نظر انداز کر دیا۔ اس وقت خواتین کی تنظیم میں عشرت اشرف اور بیگم نجمہ حمید نے خوب کردار ادا کیا تھا۔

جہانِ فانی سے کوچ کرنے والے راجہ اشفاق سرور بھی ہر وقت تنظیمی امور میں لگے رہتے تھے۔ صوبائی سیاست کے باعث انہوں نے زیادہ تر لاہور کو مسکن بنایا ہوا تھا۔ وہ بھی طویل عرصے سے مسلم لیگ میں تھے۔

ان کے والد راجہ غلام سرور مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن تھے۔ اشفاق سرور کے علاوہ فیاض سرور بھی رکن پنجاب اسمبلی رہے، ان کی آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی جنرل ظہیر الاسلام سے قریبی رشتے داری ہے۔ راجہ اشفاق سرور کا شمار چوہدری نثار علی خان کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ ان سے بھی میری کئی ملاقاتیں رہیں۔ کچھ مشترکہ رشتہ داریوں کے سبب شادیوں پر ملاقات بھی ہو جاتی تھی، اب راجہ اشفاق سرور گھوڑا گلی مری میں آسودۂ خاک ہیں۔

دنیا چھوڑ کر جانے والے تیسرے رہنما راجہ افضل جہلم کے رہنے والے تھے۔ انہوں نے طویل عرصہ سیاست کی۔ ان کے فرزند سابق ایم این اے راجہ اسد ہمارے جونیئر تھے۔ 1985ء میں راجہ افضل کی جیت تو ہوئی مگر حلف سے پہلے ایک رکاوٹ کھڑی ہو گئی جب تک یہ رکاوٹ دور نہ ہوئی اس وقت تک انور عزیز چوہدری نے اجلاس نہ ہونے دیا۔

خدا ان تینوں رہنمائوں کو جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ اقتدار، دولت اور حسن سب عارضی ہیں مگر جنہیں یہ چیزیں مل جاتی ہیں وہ متکبر ہو جاتے ہیں۔ انہیں عاجزی کا لباس پہننا چاہئے۔ طاہر حنفی کا کورونائی شعر ہے کہ؎

زمیں پہ بوجھ ہے طاہرؔ مرے گناہوں کا

خدا کو یاد کیا ہے وبا کے موسم میں
Mazhar-Barlas-Jang