کورونا اور قیادت

تحریر: سہیل دانش

میرے دوست نے چونک کر پوچھا، یہ لاک ڈاؤن کب تک چلے گا۔ کورونا کا یہ خوف کب ختم ہوگا۔ موت کے یہ مہیب سائے کب تک پر پھیلائے زندگیوں کو ہڑپ کرتے رہیں گے، وہ مجھے اس یقین کے ساتھ دیکھنے لگا جیسے میرے پاس اس کے تمام سوالات کا جواب موجود ہے، کچھ سوچتے ہوئے۔ میں نے کہا کون کہتا ہے۔ موت کو یاد نہ رکھو۔ لیکن یہ بھی تو سوچو کہ زندگی اس سے بڑی حقیقت ہے۔ وہ لوگ بڑے بیوقوف ہوتے ہیں جو چمکتی دوپہر میں رات کے اندھیرے سے کانپتے رہتے ہیں ہم ایسے لوگ ہیں جو ”شوگر“ سے پریشان ہوجاتے ہیں۔ جو روزآنہ ایک گھنٹے کی واک سے ٹھیک ہوجاتی ہے۔ جب تک انسان کے اندر زندہ رہنے کی خواہش زندہ رہتی ہے۔ وہ مر نہیں سکتا۔ وہ میرے جواب سے مطمئن دکھائی نہیں دیا، میں نے کہا کہ اس حقیقت کو کوئی نہیں جھٹلاسکتا۔ کہ گزشتہ چند ماہ میں زمین اورآسمان تک جو کچھ دیکھا موت اور اذیت کا جو کھیل بدستور چل رہا ہے یکلخت ٹاپ ٹاپ گیئر میں چلنے ولی دنیا کی ترقی کو ایک نادیدہ قوت نے ایمرجنسی بریک لگادیئے۔ دنیا کے مدہوش اور بے پرواہ لوگوں کے لئے یہ ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا ہے۔
جس طرح موت کے فرشتے نے پوری دنیا کو آدبوچا ہے دنیا کی ہوائیں فضائیں، لہریں، خوشبوئیں اور کرنیں تک معدوم ہوگئی ہیں۔ دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہر ایک کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ ی ہوئی ہیں۔ افریقہ سے یورپ تک اور امریکہ سے ایشیاء تک قدرت نے سب سے ناک کی لکیریں نکلوا دی ہے۔۔فطرت نے ایک گھٹیا وائرس کے ذریعہ سب کو تگنی کا ناچ ناچنے پر مجبور کردیا ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ اور آسمانوں پر کمندیں ڈالنے ولی اقوام سے لے کر غربت اور مسائل کی چکی میں کراہتی ہوئی اقوام تک سب ہی کورونا کے آگے سرینڈر ہوتے نظر آرہے ہیں۔

دیکھیں تو سہی دنیا کیا کچھ کر گزررہی ہے بھیانک جنگی بارود کی بارش، بستیاں نہیں پورے پورے ملک تاراج کردینے والے اسمارٹ بم سے لے کر ڈیزی کٹر تک اور کروز میزائل سے ہزاروں میل تک نشانہ لگانے والے بیلسٹک میزائل، کیا ہم کشمیریوں پر بھارتی مظالم فراموش کرسکتے ہیں، بے کس نہتے اور مجبورلوگوں کے ساتھ جنسی اور جسمانی تشدد کیا ہم فلسطین میں ہونے والے مظالم بھول گئے۔ شہروں میں پھٹتے بم، چلتی گولیاں اور کس طرح ٹینک زندہ انسانوں کو قیمہ بناکر گزرتے رہے ہیں۔ عراق، لیبیا،افغانستان، شام اور کشمیر میں فطری بقاء کی دھجیاں اڑانے والے آج بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں ہر چھوٹی بڑی اور ہر کمزور اور طاقتور قومیں بیچ چوراہے پر کھڑی اپنی معاشی تباہی کا ماتم کررہی ہیں۔
کبھی کسی نے سوچا تھا کہ دنیاکی اقوام کی چمکتی دمکتی معاشیات کا یہ حشر ہوگا۔ اسٹاک مارکیٹس کریش کرجائیں گی نیو یار کی وال اسٹریٹ پر موت کا سناٹا ہوگا، سیاحت کے لئے سب سے خوبصورت ملک اٹلی میں ہر طرف آہ و بکامچ جائے گی۔ ویٹیکن کی عبادت گاہوں میں عیسائی سجدہ ریز ہوکر حضرت عیسیٰ ؑ کو مدد کے لئے پکار رہے ہوں گے۔ مسلمان گڑگڑا کر رب العزت کے حضور معافی کے طلبگار اور نبی آخر الزماں ﷺ کی شفاعت کے طالب ہوں گے۔ ایسے وقت میں جبکہ دنیا میں موت اتر رہی ہے۔ خوف و سراسیمگی کا سناٹا ہے پاکستان کے اعلیٰ ترین عدالت نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے سو موٹو نوٹس لیا اور گزشتہ پیر کو وطن عزیز کے سب سے بڑے قاضی نے حکومتی انتظامات پر عدم اطمینان کے اظہار کے ساتھ ساتھ عمران خان کے ایماندار ہونے کو ملک کی خوش قسمتی سے تعبیر کیا بلاشبہ چیف جسٹس کے ریمارکس درست ہیں عمران خان ایک ایماندار انسان ہیں، لیکن صرف عمران خان ہی نہیں اس ملک میں ایک ایسا وزیر اعظم بھی گزرا ہے جس کے مرتے وقت جیب میں چند روپے اور اچکن کے نیچے پھٹی بنیان تھی غلام محمد جن کے غیر جمہوری رویوں کے باوجود کوئی انہیں بے ایمان نہیں کہہ سکتا چودھری محمد علی اپنی ایمانداری اور اخلاص میں یکتا تھے،

محمد علی بوگرہ جیسا سادہ لوح، عبد الرب نشتر جیسا حقیقی خدمت کا شاہکار، قلندرانہ مزاج جن کے بچے لاہور کے گورنر ہاؤس سے پیدل اسکول جاتے، ملک پر حکمرانی کرنے والا اسکندر مرزا جنہیں زندگی کے آخری ایام میں لندن کے ایک ہوٹل اور سابق خاتون اول کو پی آر او کی ملازمت کرنی پڑی ایوب خان جو ایوان صدر کے ایک ایک پیسے کا حساب رکھتے تھے۔ لاجواب ذہانت حیران کردینے والی خطابت اور غیر معمولی مطالعہ کی صلاحیت کے مالک ذولفقار علی بھٹو پر فنانشلی کریش کا کوئی داغ نہیں اس ملک پر گیارہ سال تک بلا غیرے شرکت حکومت کرنے والے ضیاء الحق کی بردباری اور پرہیز گاری پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا، سندھڑی کا محمد خان جونیجو جیسا سادہ طبیعت اور لگی لپٹی کے بغیر اپنی بات کہنے والا اپ رائٹ وزیر اعظم بھی گزرا ہے۔ان کی شخصیت میں عجز بھی دیکھا دھیمے لہجے میں گفتگو بردباری اور تنوع اور بناوٹ سے عاری شخصیت ہاں اسی ملک میں برکی سے تعلق رکھنے والا ایک ایسا وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم بھی گزرا ہے جسے قدرت نے بہت کچھ کرنے کا موقع فراہم کیا لیکن اس نے اپنا دامن بچانے کے لئے موقع ضائع کردیا، تاریخ بڑی سنگدل ہے اسے حکمرانوں کی ذاتی ایماند اری اور انفرادی اخلاق سے کوئی غرض نہیں ہوتی وہ صرف بڑے لوگوں کے کارنامے دیکھتی ہے، میں اس موضوع پر آئندہ تاریخ کے اوراق پلٹنے کی جسارت کروں گا اپنے ذاتی مشاہدات بھی شیئر کرونگا۔ عمران خان آج تاریخ کی عدالت میں کھڑے ہیں۔ انہیں فیصلہ کرنا ہوگاکہ اپنے کھاتے میں ان کے لیے ذاتی ایمانداری ہی کافی ہے یا قوم کی تعمیر، سسٹم کی اصلاح، انصاف، تعلیم اور صحت کی فراہمی، طبقاتی تفریق کا خاتمہ یا معاشی عمل کے نظام کا قیام ان کی ترجیح ہے،اگر آپ چاہتے ہیں کہ قوم آپ کو سلیوٹ کرے تو آپ کو وہ کرنا پڑے گا جو اب تک نہیں کرسکے۔