سندھ حکومت کا گیم پلان آخر چاہتی کیا ہے؟

پیپلزپارٹی لاک ڈاؤن سے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟
جیسا کے آپ جانتے ہیں کہ 14 اپریل 2020 کو سندھ میں لاک ڈاؤن ختم ہونے کی آخری تاریخ تھی کراچی بھر کے صنعت کار، امپورٹر ،ایکسپورٹر ،تاجر اور ملازمت پیشہ افراد سب لاک ڈاؤن کھولنے کے انتظار میں تھے.
لیکن 14 اپریل کو ہی سندھ حکومت نے تاجروں کو تنبیہ کی کے اگر انہوں نے دکانیں کھولیں تو ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا.
سب سے ہم ترین بات جو آپ نوٹ کریں کہ پیپلزپارٹی کی حکومت پورے سندھ میں ہے لیکن پیپلزپارٹی کی حکومت نے صرف کراچی ہی کو ٹارگٹ کیوں کیا ہوا ہے، کرونا کے کیس، کرونا کی اموات ، کرونا کی خبریں، صرف کراچی کے حوالے سے ہی ہیں لگتا ہے کہ باقی صوبے میں تو کوئی کرونا کا مریض ہی نہیں جب کے زائرین کی اکثریت سکھر وغیرہ کی تھی.
15 اپریل کو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پریس کونفرنس کر کے لاک ڈاؤن کو مزید 15 دن تک بڑھانے کا اعلان کر دیا اس لاک ڈاوٗن میں اضافہ کی جو وجہ بیان کی وہ یہ ہیں
جناح ہسپتال میں 2 ہفتوں میں 300 سے زیادہ اموات ہوئی ہیں اس میں سے 109 افراد ایسے ہیں جو انتقال کر چکے تھے
جناح ہسپتال میں ہر روز 15 سے 20 افراد مردہ اور قریب المرگ لائے جا رہے ہیں شبہ ہے کے یہ اموات کرونا کی وجہ سے ہوئیں ہیں.
ایک بات سمجھ سے باہر ہے کے سندھ حکومت کرونا کی وبا جو کہ الله کے شکر سے بہت کم ہے اسے بڑھا چڑھا کر کیوں پیش کر رہی ہے؟
کراچی کی آبادی 3 کروڑ کے قریب ہے کراچی کے ہسپتالوں میں عام دنوں میں روزانہ 1000مریض لائے جاتے ہیں ان میں سے 70 سے 80 وہ مریض جو بلڈ پریشر ، شوگر، ذیابطیس اور دل کے امراض میں مبتلا ہوتے ہیں انتقال کر جاتے ہیں جب کے شدید گرمیوں میں اور شدید سردیوں میں ان اموات میں اضافہ ہو جاتا ہے زیادہ تر لواحقین یہ جانتے ہوئے بھی کے مریض کا بچنا مشکل ہے مگر اللہ پر توکل کرکے ہسپتال لے کے جاتے ہیں ۔

دوسرے اکثر لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو راستے میں انتقال کر جاتے ہیں لیکن لواحقین پھر بھی اپنے مریض کو ہسپتال لے جاتے ہیں تاکہ دل کی تسلی ہو جائے اور پھر ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں بھی آسانی ہو جاتی ہے تو پھر ایک عام بات کو اتنا فسانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟
اب گزشتہ دو ہفتوں میں 300 افراد جناح ہسپتال میں لائے گئے اور اسمیں سے 109 انتقال کر گئے تو اسمیں حیرانی کیا بات ہے؟
16 اپریل کو سماء نیوز کے رپورٹر فیصل شکیل نے سندھ حکومت کی طرف سے خوف و ہراس پھلانے والے موقف کی تحقیق تو فیصل شکیل نے بتایا کے جو مریض ہسپتال لائے گئے اور انتقال کر گئے اس میں کوئی بھی کرونا کا مریض نہیں تھا یہی تصدیق فیصل ایدھی نے کی ہے
یہ تو ایک عام تناسب ہے اگر یقین نہیں آتا تو کسی بھی میڈیا کے فرد سے پوچھ لیں یا خود آپ غور کر لیں عام دنوں میں کراچی کے بڑے قبرستانوں میں 10 تا 15 افراد کی تدفین معمول کی بات ہے.
ناظم آباد میں ایک خاتوں انتقال کر گئیں ان کی عمر 72 سال تھی پہلے اہل خانہ ہسپتال لے کر گئے تو ہسپتال والوں نے بتایا کے ان کا انتقال ہو چکا ہے پھر لواحقین میت گھر لے کے آگئے تھوڑی دیر بعد پولیس کی موبائل آگئی اور کہا کے اس مریض کا انتقال کرونا سے ہوا ہے اہل خانہ نے کہا بھائی ہماری والدہ 30 سال سے شوگر کی مریضہ تھیں لیکن پولیس اہلکار بضد تھے کے ہمیں ہسپتال والوں نے بھیجا ہے
جب انہونے میت میں زیادہ لوگ دیکھے تو چلے گئے دوسرے دن موبائل اور ایمبولینس آگئی اور سب گھر والوں کو کرونا کا مریض بنا کر لے گئی پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اگلے دن تمام اہل خانہ واپس آگئے کے ڈاکٹروں نے ٹیسٹ کیا تو انہیں کرونا نہیں تھا مگر پولیس کے اہل کار بضد تھے کے آپ سرٹیفکیٹ پر دستخط کریں کے آپ کی والدہ کو کرونا تھا
انہوں نے کہا کہ اگر والدہ کو کرونا ہوتا تو ان میں کرونا کو کوئی تو علامات ہوتیں ؟

جو میڈیا پر بتائی جا رہیں ہیں والدہ تو کہیں باہر نہی جاتی تھیں جو انہیں کرونا لگے گا؟
اور اگر والدہ کو کرونا ہوتا تو ہم گھر والے جو دن رات والدہ کے ساتھ تیمار داری کر رہے تھے کسی کو تو ہوتا ؟
یہ تو ایک واقعہ ہے ایسے کئی واقعات آپ کو سننے کو ملیں گے اب یہ سب کیا ہے ؟
کیوں زبردستی کرونا کی لسٹ میں زبردستی نام شامل کرنا چا رہے ہیں؟
15 اپریل کی پریس کانفرنس میں وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ رو پڑے اور کہنے لگے اللہ کے واسطے ہمیں کام کرنے دو پھر سیاست کر لینا
یہ وہ مراد علی شاہ ہیں جن کی جماعت پیپلزپارٹی کی کرپشن سے بچہ بچہ واقف ہے جن کی آدھی قیادت جیل میں ہے
جو ہر سال اربوں روپے صحت کی مد میں کھا جاتے ہیں
جو ہر سال 90 ارب روپے تعلیم کی مد میں کھا جاتے ہیں

اگر ان کی کارکردگی دہلی کے وزیر اعلی اروند کجروال کی طرح ہوتی اور ان کے وزیر اروند کجروال کی طرح عوام پر تعلیم اور صحت اور صفائی پر خرچ کرنے والے ہوتے تو پھر مراد علی شاہ کے رونے میں بڑی طاقت ہوتی
اب آتے ہیں کرونا وائرس کی طرف ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور دنیا بھر کے ڈاکٹر اس بات پر متفق ہیں کے جس انسان میں بھی کرونا وائرس ہو گا وہ زیادہ سے زیادہ 14 روز میں انسان میں ظاہر ہو جائے گا
حکومت سندھ نے 24 مارچ کو لاک ڈاؤن کا اعلان کیا اس وقت تک سندھ میں 236 کورنا کے مریض دریافت ہوئے اب ہم یہ تصور کر لیں کے کراچی میں اور سندھ میں جو بھی فرد کرونا سے متاثر تھا اس میں کرونا وائرس 14 روز بعد لازمی 5 اپریل تک ظاہر ہو جاتا جو کے ہو چکا.
اب ہم یہ تصور کرتے ہیں کے ایسے بھی افراد ہو سکتے ہیں جو کسی کرونا سے متاثر فرد سے اسے کرونا منتقل ہو سکتا ہے تو زیادہ سے زیادہ ایسے بھی افراد مزید 10 دن بعد معلوم ہو جائیں گے یعنی 15 اپریل تک یعنی کرونا سے متاثر ہونے کی انتہائی مدت گزر چکی .
میں شروع میں یہ بات کہہ چکا ہوں کے سندھ حکومت نے صرف کراچی کے مریض اور کراچی کی تجارت کو ٹارگٹ کیا ہوا ہے ، سندھ حکومت کا سب سے زیادہ زور یہ ہے کے کراچی کو متاثر شہر ظاہر کریں
آپ ایک پیج The Time of Karachi پر جائیں اس پیج پر 14 اپریل تک یہ بتایا گیا ہے کے کراچی میں کیسز 1003 تھے 152 صحت یاب ہوئے اور 32 اموات ہوئیں جبکے 819 زیر علاج ہیں
جب کے سکھر میں جو کے پاکستان کا ووہان ہے وہاں 274 مریض تھے 271 صحت یاب ہوئے اور کوئی اموات نہیں اب صرف 3مریض ہیں
ایسی کیا گیدڑ سنگھی تھی سندھ حکومت کے پاس کے سکھر میں سارے مریض صحت ہو گئے؟
یہ گیدڑ سنگھی کراچی میں کیوں استمعال نہیں ہوئی؟
کونسا طریقہ اور کونسی دوائی استمعال کی ہے ان مریضوں پر اور وہ کونسے عظیم ڈاکٹر ہیں جنہونے سو فیصد کامیابی حاصل کی؟
تو وہ عظیم دوائی یا طریقہ کراچی کے مریضوں کے لئے کیوں نہیں ؟ اس کی وجہ یہ ہے کے کراچی ہی ٹارگٹ ہے کراچی کو وائرس زدہ ظاہر کریں گے تو سیاسی، اخلاقی ، اور مالی فوائد ہیں
اب اس لاک ڈاؤن کو طول دینے میں بین الاقوامی اداروں سے فنڈ ملنے کا کوئی مسئلہ ہے؟

یا کوئی ورلڈ بنک سے ڈیل ہے؟
یا پیپلزپارٹی کی قیادت پر کیسز سے تعلق ہے؟
یا 8 ارب جو راشن کے نام پر ہڑپ کر لئے اور جو لاک ڈاؤن ختم ہونے سے کرپشن کرنے کی مہلت ختم ہوگئی اس اس کا معاملہ ہے؟
یا جیسے سندھ حکومت نے وفاقی حکومت سے کرونا کے اوپر محاذ آرائی کی ہوئی ہے اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کا معملا ہے؟
پہلے وفاقی حکومت کو یہ الزام دے رہے تھے کہ سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن کیا ہے وفاق کیوں نہیں کر رہا ؟
پھر لاک ڈاؤن ختم ہونے کا وقت آیا تو کہا وفاق جو پالیسی بنائے گا ہم اس پر چلیں گے جب وفاق نے کہا کے ہر صوبہ اپنے حالات کے حساب سے فیصلہ کر سکتا ہے تو لاک ڈاؤن بڑھا دیا؟
آخر یہ لاک ڈاؤن کی آڑ میں چاہتے کیا ہیں اس کو واضح تو میڈیا کے لوگ ہی کر سکتے ہیں
جب لاک ڈاؤن لگایا جا رہا تھا سندھ کے وزیر اور مشیر یہ کہہ رہے تھے کے کورنا کے اتنے متاثرین ہونگے کے ہسپتال بھر جائیں گے ایک وزیر تو جذباتی ہو کر کہنے لگے کے اتنے لوگ مر جائیں گے کے سنبھالنا مشکل ہو جائے تھا
عوام میں اتنا خوف ہراس پیدا ہوا کے عوام نے ماہرین کی رائے سے یہ اندازہ لگایا کے شائد کراچی کی 3 کروڑ کی آبادی میں اور جس طرح کرونا کے تباہی کا سن رہے رہے تو کرونا 20 یا 30 ہزار لوگوں کو لگ جائے گا اور خدا نخواستہ صرف کراچی میں 500 یا 600 لوگ مر جائیں گے جیسے جون 2015 میں ہیٹ سٹروک سے مرے تھے
لیکن اللہ کا شکر ہے کے سخت ترین دور جو کے 15 مارچ سے 15 اپریل تک کا تھا وہ نکل گیا اور بقول ڈاکٹر ظفر مرزا ، ڈاکٹر یاسمین راشد ، ڈاکٹر عبدالباری خان، ڈاکٹر عطا الرحمان، اور دیگر ماہر ڈاکٹر کے مطابق کراچی میں سندھ میں اور پورے پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد توقع سے 70 فیصد کم ہے
پھر یہ پیپلزپارٹی کی حکومت پچھلے 2 ہفتوں میں طبعی طور پر مرنے والوں کو کرونا کے کھاتے میں ڈالنے پر کیوں بضد ہے؟

سب سے بڑا فیکٹر جو کراچی اور پورے پاکستان کے لئے ہے وہ ہے گرمی ، میری گفتگو چائنا کے شہر Hangzhou جو کےZhejiang صوبے میں واقع ہے ایک ایسے ڈاکٹر سے کے جس نے کرونا کے لاتعداد مریضوں پر کام کیا ہے اس کا کہنا تھا کے جو موسمی گرمی کراچی اور پاکستان میں ہے اس میں کرونا کا اس طرح پھیلنا جیسا ووہان میں یا یوروپ میں ہوا ناممکن ہے.
سب سے ہم بات کے کراچی کے ڈاکٹر عطا الرحمان کے لیب اس بات کی تصدیق کر چکی ہے کے جو کورنا ووہان میں تھا اور جو کرونا کراچی میں ہے اس میں ذرا تبدیلی ہے اس میں وہ شدت نہیں جو ووہان میں تھی
جتنے مریض کراچی اور سندھ میں ہیں اتنے مریضوں والے ملکوں نے لاک ڈاؤن نہیں کیا ہوا آپ گوگل پر دیکھ لیں دنیا کے 50 ممالک میں اس والی صورتحال میں لاک ڈاؤن نہیں تو پھر سندھ حکومت کیوں اس کو اتنا خطرناک بتا رہی ہے؟
جب سندھ میں کتوں کے کاٹنے سے اموات ہوتی تھیں اور جب تھر میں بھوک سے بچے مرتے ہیں تو سندھ حکومت کا کوئی وزیر کوئی مشیر نہیں مانتا پھر اب کیوں اموات میں اضافہ چاہتے ہیں؟
اب میرا پھر سوال ہے کے گزشتہ ایک ماہ کے سخت دور میں صرف کراچی میں 819 مریض ہیں اگر ہم یہ مان لیں کے حکومت سندھ اگر حفاظتی اقدامات کے ساتھ صنعتیں اور مارکیٹیں کھول لے تو کورنا مزید کتنا پھیل سکتا ہے؟
ابھی یہ واضح رہے ہیں گزشتہ 5 ہفتوں میں تو کراچی میں لگ بھگ 1100 مریض ہوئے ہیں وہ سامنے آچکے اگر ہم یہ سمجھ کر چلیں کے لاک ڈاؤن کھولنے کی وجہ سے بہت زیادہ تباہی ہو سکتی ہے اور دو ہفتے بعد اگر نئے مریض 5000 بھی ہو جاتے ہیں اور اللہ نہ کرے اس میں سے 30 یا 40 انتقال بھی کر جاتے ہیں تو پھر موازنہ کرنا ہو گا کے ان متوقع نقصان کو دیکھنا ہے یا ان 20 لاکھ خاندانوں کو دیکھنا ہے جو روزی روٹی سے محتاج ہو گئے ہیں ا ہم کون ہیں؟
کراچی میں ایسے ایسے سفید پوش لوگ مانگنے پر مجبور ہو گئے ہیں لوگوں کی عزت نفس مجروح ہو رہی
لگتا یہ ہے کے سندھ حکومت اپنی طاقت کی وجہ سے کراچی اور حیدرآباد کے سفید پوش عوام کو ذلالت کی انتہا تک پونھچنا چاہتے ہیں
یہ 20 لاکھ خاندانوں کی بقا اور ان کی عزت کا معملا ہے

پیپلزپارٹی کراچی اور حیدرآباد کے درد کو نہ تو سمجھے گی نہ سمجھ سکتی ہے کیوں کے اندرون سندھ کے لوگ یا تو سرکاری ملازم ہیں یا پھر زمیندار یا پھر ہاری ہیں صنعت کار اور تاجر نہیں ہیں تو نہ تو انھیں تنخواہ کی فکر ہے نہ کسی اور بات کی یہ درد ہے صرف کراچی اور حیدرآباد وغیرہ کے عوام کا.
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کے پیپلزپارٹی کس طرح مطمئن ہو گی تو لاک ڈاؤن کھولے گی؟
25 اپریل یا 30 اپریل تک کتنے مریض ہونے چاہئیے کے وہ لاک ڈاؤن کھولنے پر راضی ہو جائے؟
اور اگر مریض 2000 ہو گئے یا ظاہر کر دئے تو کون کھلوائے گا لاک ڈاؤن؟
اور اگر 25 یا 30 اپریل تک بھی پیپلزپارٹی کی حکومت لاک ڈاؤن کھولنے پر راضی نہیں ہوئی تو کیا ہو گا کراچی کے عوام کا؟
اگر مراد علی شاہ صاحب کو واقعی عوام سے ہمدردی ہے اور وہ لاک ڈاؤن میں اضافہ کر چکے ہیں تو برائے مہربانی وہ موٹر وہکل ٹیکس ، پراپرٹی ٹیکس اور دیگر صوبائی ٹیکسوں میں 30 فیصد کمی کا اعلان کریں سب ظاہر ہو جائے گا کے واقعی یہ عوام کو مشکلات کو سمجھ رہے ہیں ورنہ جو عوام میں لاک ڈاؤن بڑھانے کے حوالے سے مختلف افواہیں گردش کر رہیں ہیں ان میں ضرور صداقت ہو گی
سب سے آخر میں یہ کے جو لوگ بھی میرے موقف سے اتفاق کرتے ہیں اور وہ اس لاک ڈاؤن کی آڑ میں جو سیاست پیپلزپارٹی وفاق سے ، اداروں سے اور کراچی اور حیدرآباد کے عوام کی تنہائی کا فائدہ اٹھا کر کر رہی ہے اس کے لئے احتجاج کریں ورنہ انہیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا ان کے تنخواہیں پکی ہیں اور امداد پکی ہے.
اور سفید پوش لوگوں کا جنازہ ہی نکل جائے گا۔