اللہ نے بتا دیا کہ وہ اس سائنسی دور میں بھی ایک نظر نہ آنے والی چیز سے ہماری زندگی کا خاتمہ اورسب کچھ تلپٹ کر سکتا ہے

کورونا کی وبا کے ذریعے اللہ نے انسان کو زندگی کی سب سے بڑی حقیقت، جو ہم بھلا بیٹھے تھے یاد دلا دی۔ اس وبا کے ذریعے اللہ نے ہمیں بتا، دکھا اور سمجھا دیا کہ تم کتنی بھی ترقی کر لو، کتنے بھی طاقتور بن جائو، کتنے بھی ہتھیار بنالو، کتنی بھی فوجیں جمع کرلو، کتنی بھی سائنسی اور طبی ایجادات کرلو، کتنے بھی منصوبے بنالو اور کتنا بھی فضائوں اور سمندروں کو تسخیر کرلو، اللہ کے سامنے ان کی کوئی حیثیت نہیں اور وہ جب چاہے کسی بھی وقت، ایک اشارے سے تمہاری سب تدبیریں اُلٹ سکتا ہے۔

اللہ نے بتا دیا کہ وہ اس سائنسی دور میں بھی ایک نظر نہ آنے والی چیز سے ہماری زندگی کا خاتمہ اورسب کچھ تلپٹ کر سکتا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کورونا کی صورت میں نظر نہ آنے والا جو جان لیوا وائرس سامنے آیا اس نے ایک دوسرے سے متحارب دنیا کی دو بڑی طاقتوں یعنی چین اور امریکہ دونوں کو لرزا دیا۔ اس نے دولت مند کا لحاظ کیا اور نہ غریب کا۔ مسلمان کا فرق ملحوظ رکھا اور نہ غیرمسلم کا۔

امریکہ، اٹلی اور اسپین جیسے ترقی یافتہ ممالک کی چیخیں سب سے زیادہ نکال دیں اور انفرادی لحاظ سے بھی جو جتنا زیادہ امیر ہے، وہ اتنا زیادہ پریشان ہے لیکن اللہ نے قوموں کے بارے میں اپنی اس سنت کو بھی تازہ کیا کہ مذہب اور عقیدے کی تفریق کے بغیر جس ملک یا قوم نے بہتر تدبیر سے کام لیا، وہ زیادہ محفوظ رہا اور جس نے غرور، نااہلی، جہالت یا کج فہمی کی وجہ سے بے تدبیری دکھائی، وہ زیادہ متاثر ہوا۔

اس حوالے سے مذہب اور خطے کی کوئی تفریق نہیں کیونکہ قوموں کے عروج و زوال کے بارے میں اللہ کی جو سنت ہے، اس کی رو سے جو بھی قوم اپنے اندر اہلیت اور کچھ صفات پیدا کرے وہ کامیاب قرار پاتی ہے اور جو ان صفات سے محروم ہو جائے، وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو، مغلوب ہوجاتی ہے۔

کورونا وائرس مذہب کا لحاظ کرتا تو پھر دین برحق کے مراکز یعنی مکہ اور مدینہ کبھی متاثر نہ ہوتے۔ تائیوان، چین کے قریب ترین واقع ایک غیر مسلم ملک ہے لیکن بہتر اور بروقت تدبیر کے ذریعے اس نے کورونا کے مقابلے میں سب سے زیادہ کامیابی حاصل کی جبکہ امریکہ، چین سے بہت دور اور دنیا کا سب سے طاقتور ملک ہے لیکن بہتر تدبیر نہ ہونے کی وجہ سے وہ کورونا کے آگے ڈھیر ہو گیا۔ یہی حالت اٹلی اور برطانیہ کی ہوئی۔

امریکہ کی جان ہاپکن یونیورسٹی نے اس حوالے سے ایک تحقیقاتی رپورٹ تیار کی ہے کہ کونسا ملک کیوں زیادہ متاثر ہوا اور کونسا کیوں کم متاثر ہوا۔ مختلف ممالک کے اس موازنے میں ہمارے لئے نہ صرف بڑا سبق پوشیدہ ہے بلکہ اگر ہمارے ملک کو چلانے والے عقل سے کام لیں تو اس کی روشنی میں کورونا سے نمٹنے کی اپنی پالیسی مرتب کر سکتے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق ابھی تک تائیوان اس ملک کے طور پر سامنے آیا ہے کہ جو چین کے ساتھ واقع ہونے اور چین کے دعوے کے مطابق اس کا حصہ ہونے کے باوجود کورونا سے سب سے کم متاثر ہوا اور گزشتہ روز وہاں کورونا کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

24ملین آبادی کے اس ملک میں کورونا کے ٹوٹل 390کیسز سامنے آئے اور صرف چھ ہلاکتیں ہوئیں جبکہ اس کے برعکس امریکہ میں 25ہزار سے زائد، اٹلی میں 21ہزار سے زائد اور جرمنی میں 3ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔ تائیوان کی اس کامیابی کی جو وجوہات رپورٹ میں بیان کی گئی ہیں ان میں تیاری، فوری رسپانس اور بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ شامل ہیں۔

اس تحقیقاتی رپورٹ میں تائیوان کی کامیابی سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ لیت و لعل سے کام لینے کے بجائے فوری رسپانس، ٹیسٹسنگ اور قرنطینہ بنیادی عوامل ہیں جن سے کورونا کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

دوسرے نمبر پر کامیاب ملک آئس لینڈ قرار دیا گیا ہے جہاں ٹوٹل 17سو افراد متاثر ہوئے اور صرف آٹھ ہلاکتیں ہوئیں۔ آئس لینڈ کی اس کامیابی کی بنیادی وجہ بھی جارحانہ اپروچ اور ٹیسٹنگ بتائی گئی ہے جہاں حکومت نے اپنی طبی سہولتوں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر کو ساتھ ملاکر زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ٹیسٹ کئے۔

آئس لینڈ کی حکومت نے یہ قدم بھی اٹھایا کہ پہلا کیس رپورٹ ہوتے ہی بیس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی لگادی اور سوشل ڈسٹینسنگ کو یقینی بنایا۔ تیسرا نسبتاً کامیاب ملک جنوبی کوریا کو قرار دیا گیا ہے جہاں اب رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد کم ہوکر صرف 30تک آگئی ہے حالانکہ برطانیہ میں اب بھی روزانہ پانچ ہزار کے قریب جبکہ امریکہ میں بیس ہزار کے قریب نئے کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔

جنوبی کوریا کے قابو پانے کی بنیادی وجہ بھی زیادہ سے زیادہ ٹیسٹنگ اور ٹیکنالوجی کی مدد سے زیادہ سے زیادہ صحیح ڈیٹا بیان کیا جانا ہے۔ اس کے بعد جرمنی کو رکھا گیا ہے۔ جرمنی حالانکہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں شمار ہوتا ہے اور اب بھی وہاں پر کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ بتیس ہزار ہے لیکن وہاں اموات کی شرح امریکہ، برطانیہ اور اٹلی جیسے ممالک کی نسبت کم ہے۔

مثلاً اٹلی میں ایک لاکھ آبادی (واضح رہے کہ آبادی نہ کہ متاثرہ افراد) کے تناسب سے 35ہلاکتیں ہوئیں، برطانیہ میں فی لاکھ اٹھارہ ہلاکتیں ہوئیں جبکہ جرمنی میں یہ شرح فی لاکھ چار ہے۔ جرمنی کی اس بہتری کی بنیادی وجہ بھی زیادہ ٹیسٹنگ، احتیاطی تدابیر اور زیادہ اسپتال اور طبی سہولتیں بتائی گئی ہے۔

ایک طرف امریکہ جیسے ملک میں ایک لاکھ آبادی کے تناسب سے آٹھ ہلاکتیں ہوئیں لیکن دوسری طرف آئس لینڈ میں یہ شرح صرف 2.2، جنوبی کوریا میں 0.4فیصد جبکہ تائیوان میں 0.03فیصد ہے۔ اس رپورٹ کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو ٹیسٹنگ، سوشل ڈسٹینسنگ (جس کا پاکستان جیسے ملکوں میں بنیادی راستہ لاک ڈائون ہی ہے)۔

صحیح ڈیٹا اور فوری جارحانہ اقدامات چار بنیادی عوامل ہیں کہ جن کے ذریعے تائیوان جیسا ملک اس کے مقابلے میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے لیکن اگر یہ نہ ہوں یا ان کاموں میں تاخیر ہو تو امریکہ، برطانیہ اوراٹلی جیسے ممالک بھی کورونا کے آگے بے بس نظر آتے ہیں۔

اب اگر غور سے دیکھا جائے تو ان تینوں حوالوں سے پاکستان بہت پیچھے ہے۔ آبادی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو تادم تحریر ٹیسٹنگ کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ لاک ڈائون حقیقی معنوں میں پاکستان کے اندر ایک دن بھی نہیں ہوا۔ صحیح اعداد و شمار اور صحیح ڈیٹا بھی دستیاب نہیں جبکہ ہمارا رسپانس تاخیر سے شروع ہوا اور آج بھی سستی اور کنفیوژن سے بھرپور ہے۔

اوپر سے حکومت نے برائے نام لاک ڈائون بھی ختم کردیا۔ باہر پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی واپسی بھی شروع کردی جبکہ رمضان المبارک کے تناظر میں مساجد میں تراویح کا مرحلہ بھی سر پر آرہا ہے۔

یوں حقیقتاً ہم اللہ اور حالات کے رحم وکرم پر ہیں اس لئے آئیے اللہ کے حضور سب دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب! اپنے فضل اور کرم سے پاکستان کو اٹلی اور نیویارک بننے سے بچا
Saleem-Safi-Jang