جہانگیر ترین کو ولن بنانے سے روکنے کے لیے 5 طاقتور ایم این اے میدان میں آگئے

شوگر اسکینڈل کے بعد جس طرح جہانگیر ترین کو ٹارگٹ کیا گیا اور ان کے شوگر فیکٹریوں کا آرڈر شروع ہو چکا ہے اس پر جہانگیر ترین کے حامی مرکزی اور صوبائی حکومت میں سخت ردعمل دے رہے ہیں اور اس صورتحال کی مکمل رپورٹ وزیراعظم عمران خان تک پہنچائی جارہی ہے ۔
جہانگیر ترین کے خلاف حتمی رپورٹ آنے سے پہلے ہی جس طریقے سے ان کا میڈیا ٹرائل شروع کیا گیا اس پر ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سیاسی انتقامی کاروائی شروع ہوچکی ہے یہ بہت غلط ہو رہا ہے کیونکہ نقصان پارٹی کو اور حکومت کو ہوگا جہانگیرترین کی پارٹی کے لئے بہت خدمات ہیں ان کو نظر انداز نہ کیا جائے ۔
جہانگیر ترین کی حمایت میں اب تک 5 طاقتور اراکین اسمبلی کھل کر میدان میں آ چکے ہیں سب سے پہلے فیصل آباد سے رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض نے آواز اٹھائی اور وہ جان گئی تعلیم کے حق میں باہر نکلے اور کھل کر ان کی حمایت کی ان کے بعد خواجہ شیراز تونسہ شریف سے ایم این اے ہیں انہوں نے آواز اٹھائی ان کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین پارٹی کا اثاثہ ہے انکی خدمات ہیں لیکن ان کی کردار کشی کی جارہی ہے یہ بہت غلط روایت ہے پھر خواجہ سمیع الحسن گیلانی بہاولپور سائٹ سے ایم این اے ہیں وہ بھی جہانگیرترین کی حمایت میں بولے ہیں ان کے علاوہ غلام محمد لالی جھنگ سے رکن قومی اسمبلی ہیں وہ بھی جہانگیرترین کی حمایت میں نکل آئے ہیں اور ان کے علاوہ چیچاوطنی اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے صمصام بخاری جو ماضی میں وزیر مملکت برائے اطلاعات بھی رہ چکے ہیں۔

وہ بھی کھل کر آئے ہیں انہوں نے ٹی وی پر جہانگیر ترین کے حوالے سے بھر پور دفاع کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر نواز شریف کے دور میں سب سے بڑی شوگر ملوں کو دینا غلط پالیسی تھی تو یہ غلط کام پی ٹی آئی کی حکومت میں کیوں کیا گیا 2 ارب 40 کروڑ روپے کی سبسڈی پی ٹی آئی کی حکومت نے کیوں دی ۔
جنوبی پنجاب کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے اپنی رپورٹ میں ان سیاستدانوں کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ لوگ کھل کر جہانگیر ترین کی حمایت کر رہے ہیں اور ان کے رابطے میں اور بھی بہت سے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے اراکین ہیں ان لوگوں کا اعتراض ہے کہ اوڈٹ جہانگیر ترین کی اور ان کے ماموں کی فیکٹریوں کا کیوں ہو رہا ہے اگر شفاف اور ٹکرانا ہے تو رحیم یارخان گروپ جس میں خسرو بختیار اور ان کے بھائی شہریار بخت اوردیگرکے فیکٹریوں کے نام ہیں ان کا آؤٹ کیوں نہیں ہو رہا اسی طرح چودھری پرویزالٰہی اور مونس الہیٰ کی شوگر ملوں کا اور حکومت کیوں نہیں کرا رہی ۔اس طرح کی صورتحال سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ صرف جہانگیر ترین کو ٹارگٹ کر لیا گیا ہے اور یہ پہلی سیاسی انتقامی کاروائی ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں رؤف کلاسرا کا یہ بھی کہنا ہے کہ جہانگیر ترین نے ان تمام لوگوں سے درخواست بھی کی ہے کہ آپ لوگ ابھی زیادہ بیانات نہ دیں ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ میں یہ سب کچھ کروا رہا ہوں اور پارٹی کو نقصان ہوگا 25 اپریل کو رپورٹ آنے کا انتظار کیا جارہا ہے دیکھنا یہ ہے کہ جہانگیر ترین کی سوچ رہے ہیں کہ اب وہ رپورٹ کس طرح کی آتی ہے اس میں جہانگیر ترین کو سنگل آؤٹ کیا جاتا ہے یا ویلن بنایا جاتا ہے شروع کے دنوں میں جہانگیر ترین پر تیزی سے اٹیک ہوا تھا کہ جہانگیر ترین نے ٹی وی انٹرویوز کے ذریعے جارحانہ رویہ اختیار کیا باؤنس بیک کیا تو حکومتی وزراء کو بھی پیچھے ہٹنا پڑا بنائی ہلا رہی تھی کہ مراد سعید نے وزیر اعظم سے کہا ہے کہ آپ کا قصور نہیں ہے آپ کو جو رپورٹ پیش کی گئی تھی آپ نے صرف اس کی تائید کی ہے اور منظوری تو اسد عمر نے دی تھی 9 کلاس کا کہنا ہے کہ میرا تجزیہ ہے کہ اب معاملہ صرف وزیراعظم یا کسی ایک آدمی کا نہیں ہے بلکہ پوری کابینہ اور وزیراعظم کی ذمہ داری بنے گی۔