وزیراعظم صاحب MONA کو سنبھالیں اور کرو نا سے لڑیں

سینئر صحافی اور تجزیہ نگار سید طلعت حسین نے سوشل میڈیا پر پچھلےدنوں چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف چلنے والی ایک شرمناک مہم سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ایک نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے جس میں ایف آئی اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرے ۔
میرا کہنا ہے کہ یہ ماحول کیسے بن گیا ہے کہ کسی کو بھی گالی دینا اتنا آسان ہوگیا ہے ۔ہم بارہا اس جانب توجہ دلاتے رہے کہ یہ سب کچھ ایک دم نہیں ہورہا ۔یہ موسمی بیماریاں نہیں ہیں بلکہ یہ وہ روایات ہیں جو عمران خان نے اپنے ورکرز کی تربیت کے ذریعے بیج بویا ہے ۔
آج تحقیقات کرانے کی ضرورت کیوں پڑی ۔سب کو پتہ ہے کہ گالیاں پڑ رہی تھیں اور گالیاں کیوں پڑھ رہی تھیں کیونکہ کرونا وائرس کے حوالے سے سوموٹو ایکشن لیا گیا اور عدالت کی آبزرویشن ز سامنے آئی حکومت کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار ہوا تو سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہوگیا ایک بے لگام اور بدتمیز غلیظ مہم کا آغاز ہوگیا کیا کیا باتیں نہیں کی گئی بھجیا اڑا کر رکھ دی گئی ۔اب اس سارے معاملے کی انویسٹیگیشن کرنے کے لیے ایف آئی اے کو کہا گیا ہے یہ بھی ایک عجیب ادا ہے ۔
سید طلعت حسین نے اپنے ایک خصوصی پروگرام میں اس حوالے سے کچھ اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج میں آپ کو بتانے لگا ہوں کہ پی ٹی آئی کے اٹیکیرز نے کب کب اور کس کس کو ذلیل کیا ۔
سید طلعت حسین نے ایک لسٹ دکھائی جس میں یہ نام لیے

فوزیہ قصوری ۔
حامد خان ۔
جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین ۔
اکبر ایس بابر ۔
ڈاکٹر شیریں مزاری اور ان کی بیٹی ایمان مزاری ۔
جہانگیر خان ترین ۔
مسرت زیب سوات ایم این اے ۔
کے پی سے اٹھ در جن قومی سیاست دان جن کے خلاف بدترین مہم چلائی گئی بعض نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف ہتک عزت کا دعوی بھی کر رکھا ہے اور وہ وکلا وہاں پیش نہیں ہو رہے ۔ان کے علاوہ سابقہ اہلیہ ریحام خان ۔نازبلوچ پارٹی چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں چلی گئی ان کو نشانہ بنایا گیا ان کے علاوہ عائشہ گلالئی کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوتا رہا ۔ایک وقت میں تو جمائمہ  نے جادو والا ٹویٹ کیا تو دو گھنٹے میں ان کے بارے میں بھی کیا کچھ نہیں کہا گیا ۔
طلعت حسین نے کہا کہ ابھی تو میں نے وہ نام بتائے ہیں جو پی ٹی آئی کے اپنے لوگ ہیں جنہوں نے ذرا سا پالیسی سے انحراف کیا تو ان کی گالیوں سے درگت بنائی گئی اور یہ سب واقعات اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں ۔
اگر آپ پی ٹی آئی کو چھوڑ کر دیگر لوگوں کی طرف دیکھیں تو سوشل میڈیا پر سابق صدر آصف علی زرداری پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی کے متعدد وزیروں اور رہنماؤں سمیت سابق وزیراعظم نواز شریف ان کی بیٹی مریم نواز اور ان کے بیٹے اور اسی طرح شہباز شریف حمزہ شہباز اور موسم لیگ کے دیگر رہنماؤں میں دانیال عزیز راناثناءاللہ مفتاح اسماعیل شاہد خاقان عباسی ۔خواجہ برادران حنیف عباسی سمیت ایک طویل فہرست ہے میں کس کس کا نام لوں ان سب کے بارے میں اور ان کے خاندانوں کے خلاف سوشل میڈیا پر کیا کیا کچھ نہیں کہا گیا عورتوں اور ان کے ماننے والے ان کے ووٹرز کو بھی گدھوں سے تشبیہ دے دی گئی اور یہ سب کچھ ریکارڈ کا حصہ ہے اسی طرح کا رویہ اے این پی کے خلاف ان کی قیادت کے خلاف غلیظ مہم چلا کر اختیار کیا گیا اے این پی کے مرکزی رہنماء میاں افتخار کے بیٹے شہید بیٹے کا اکاؤنٹ ہیک ھو چکا ہے وہ ایف آئی اے کے سامنے استدعا کرتے رہے ہیں کہ میرے شہید بیٹے کے اکاؤنٹ کا انویسٹیگیشن کرائیں لیکن آج تک ایف آئی اے نے کچھ نہیں کیا ۔

اسی طرح مولانا فضل الرحمان جے یو آئی کے رہنماؤں کا انفرادی اور اجتماعی طور پر اور محمود خان اچکزئی اور ان کی پارٹی کا انفرادی اور اجتماعی طور پر نشانہ بنایا گیا ۔چوہدری پرویز الہیٰ اور شیخ رشید احمد کے بارے میں بھی سوشل میڈیا پر نہ جانے کیا کیا باتیں کہی گئی ان کے علاوہ بھی درجنوں سیاستدان ایسے ہیں جو آجکل حکومت کے ساتھ ہیں ان کی بھی ماضی میں کردار کشی کی گئی اور تمام حدیں پھلانگ لی گئیں۔ معاملہ صرف سیاسی شخصیات تک محدود نہیں رہا بلکہ ہم نے دیکھا جنرل اشفاق پرویز کیانی اور انکے بھائیوں اور پنجاب میں ایم آئی کے عہدے دار چیف کے بارے میں مہم ۔اسی طرح سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری آصف سعید کھوسہ کے خلاف بھی کافی کچھ کہا گیا ۔اسی طرح الیکشن کمیشن کے اراکین بشمول مرحوم فخرالدین جی ابراہیم سمیت تمام عدلیہ کے کردار کو شرمناک کہا گیا اور باقاعدہ مہم کے ساتھ یہ سب کچھ کیا گیا ۔پھر آپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ کس طرح ڈاؤن لیگز کے دور میں فوج سے متعلق بیانات آتے رہے جب یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی تھی کہ بس کسی بھی وقت نواز شریف اور مریم نواز سمیت سب کو پھانسی کے پھندے سے لٹکا دیا جائے گا ۔اور جب ان کی مرضی کا فیصلہ نہ آیا تو جو سامنے آیا اس کو انہوں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے فوجی افسران کے خلاف بھی سوشل میڈیا پر کافی کچھ چلایا گیا اس وقت بھی ایف آئی اے اور کسی ادارے نے سوشل میڈیا پر یہ سب کچھ کرنے والوں کو نہیں پکڑا۔ اس کے علاوہ میڈیا مالکان ڈون جنگ جیو گروپ سمیت دیگر میڈیا ہاؤسز کے مالکان کے خلاف مختلف اوقات میں مہم چلائی جاتی رہی چھتیس سے زیادہ جنرلسٹ درجن سے زیادہ کالم نویس ایسے ہیں جن کو روزانہ کی بنیاد پر بدترین گالیوں کا ناشتہ لنچ اور ڈنر کرایا جاتا ہے کسی طرح اجتماعی طور پر پنجاب کی پولیس اور بیوروکریسی کے خلاف بھی مہم چلائی گئی اسلام آباد کی پولیس بیرو بی سی کو بھی ٹارگٹ کیا گیا صحافیوں کو مجموعی طور پر بھی نشانہ بنایا گیا ۔یہ سارا ماضی ذہن میں رکھتے ہوئے سوچیں کہ اب این کرونا کے دنوں میں چیف جسٹس کے خلاف مہم شروع ہوجاتی ہے تو یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے کہ کون مہم کرا رہا تھا ریکارڈ بتا رہا ہے کہ یہ کون لوگ ہیں اور سب کو ان کا پتہ ہونا چاہیے کہ اس کے پیچھے کون لوگ ہیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ یہ مہم کا آغاز کیسے ہوتا ہے یہ وہم کس طرح چلائی جاتی ہے سوشل میڈیا ٹیم کو کس طریقے سے کون حکامات دیتا ہے اور کون سپنسر کرتا ہے باقاعدہ ان کو ہدایات ملتی ہیں کیا باپ نے فلاں فلاں شخص کو ٹارگٹ کرنا ہے اور اس کی ایسی کی تیسی کرنی ہے ۔اب کرونا کے دنوں میں ہی وزیراعلی سندھ کے خلاف ہی بدترین مہم شروع ہوچکی ہے اس صورتحال یہاں سیاسی اور مذہبی رواداری کو فروغ دینا چاہیے وفاقی وزیر ایران کے خلاف بیان دے دیتے ہیں اور پنجاب سے اپنی ہی کابینہ میں سے ردعمل آجاتا ہے اس بات کی اطلاعات ہیں کہ سندھ میں وزیراعلی سندھ کے خلاف جو ماحول بنایا گیا ہے اس کی وجہ سے عمران خان کو سندھ کا دورہ کرنے میں مشکلات آ رہی ہیں ۔
آخر میں طلعت حسین نے کہا کہ وزیراعظم صاحب آپ مونا MONAکو سنبھالیں اور کرو نہ سے لڑیں۔ یہ مونا کیا ہے اس کے بارے میں انہوں نے خود بتایا ہے کہ
M- Malicious
O-Odious
N-Nasty
A-Attack-Slimes