وزیراعظم عمران خان کو عدلیہ سے کون لڑانا چاہتا ہے؟ عمران کو مشرف کی غلطی سے سبق سیکھنا چاہیے

اسلام آباد کے سینئر صحافی اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کو عدلیہ سے لڑانے کی سازش کون کر رہا ہے ۔یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب خبر آئی کے وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری نے ایک لیٹر ڈی جی ایف آئی اے کو لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پتہ چلا ہے کہ چیف جسٹس کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک مہم چلائی گئی ہے .ایف آئی اے پتہ کریں کہ یہ کون لوگ ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔
پرنسپل سیکرٹری کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو لکھے گئے خط کے بعد سینئرصحافی  رؤف کلاسرہ اور سید طلعت حسین سمیت مختلف سیاسی مبصرین نے اس پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ۔
رؤف کلاسرہ کہتے ہیں کہ اسلام آباد میں رپورٹنگ کرتے ہوئے مجھے بائیس22 سال ہوگئے ہیں ۔اور میرا تجربہ کہتا ہے کہ مشیر مرواتے ہیں ہمیشہ یہی لوگ عدلیہ سے ٹکر لینے پر مجبور کر دیتے ہیں اور پھر حکومت کا نقصان ہو جاتا ہے انیس سو ستانوے میں نواز شریف نے بھی عدلیہ سے ٹکر لی تھی اس وقت صرف پی ٹی وی ہوتا تھا تب غصہ تھا کہ عدلیہ کی وہ ہر معاملے میں مداخلت کرتی ہے یہاں تک مشیروں نے باتیں کی تھی کہ کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ چیف جسٹس کو ایک رات کیلئے گرفتار کر لیا جائے اور جیل میں ڈال دیا جائے مشیروں کی اس طرح کی سوچ ہوتی ہے جو حکمرانوں کو مرواتی ہے تب چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ تھے انہوں نے توہین عدالت کا نوٹس حکومت کو جاری کردیا تھا وزیراعظم نواز شریف عدالت میں پیش بھی ہوگئے تھے بعد میں عدالت میں حملے کا معاملہ آیا وہ الگ بحث ہے اس پر پھر کبھی بات کریں گے جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی مشیروں نے مروایا حکومت اور عدلیہ کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا روز مشرف کو کہتے تھے کہ ہمارے وزیروں کو برا بھلا کہا جارہا ہے وزیروں کو عدالتوں میں بلایا جاتا ہے بہت باتیں سنائی جاتی ہیں بےعزتی ہو رہی ہے ہم حکومت کیسے چلائیں جنرل مشرف مشیروں کے بہکاوے میں آگئے تھے اور انہوں نے چیف جسٹس کو برطرف کردیا تھا اور پھر ان کے خلاف پوری مہم چلی اور بالآخر سب نے دیکھا کہ جنرل مشرف کو استعفیٰ دے کر گھر جانا پڑا ۔
پھر آصف زرداری صدر بن گئے ان کی بھی عدلیہ سے جنگ چلی وہ جنگ سوئس اکاؤنٹس کے حوالے سے تھی وہ اچھے ارب روپیہ زیادہ پڑا ہوا تھا ان کی حکومت عدالت کے کہنے پر سوئس حکومت کو خط نہیں لکھنا چاہ رہی تھی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو عدالت بار بار کہتی رہی خط لکھیں اور پیسے واپس منگوائیں۔ لیکن یوسف رضا گیلانی صدر زرداری کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے اس لئے انہوں نے خط نہیں لکھا اس طرح عدالت نے سید یوسف رضا گیلانی کو نااہل کر کے گھر بھیج دیا اور وہ پانچ سال کے لیے نااہل ہو کر گھر بیٹھ گئے ۔

جب نواز شریف تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنے عدالتوں سے ماحول پھر بھی خراب ہی رہا ان کے مشیر ایسے تھے جنہوں نے یہاں تک کہا لوہے کے چنے ہیں ۔اور اداروں کے لیے سخت زبان استعمال ہونا شروع ہوگئی تھی یہاں تک باتیں کی گئی کہ ثاقب نثار کو اپنی اوقات سمجھ نہیں چاہیے ان کو کس نے جج لگایا تھا بعد میں وہی ثاقب نثار چیف جسٹس بنے اور نواز شریف کی حکومت ختم ہوگی اور نواز شریف کو جیل جانا پڑا ہم نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہی دیکھا ہے کہ جو کوئی بھر ان عدالتوں سے ٹکرایا آخری جیت سپریم کورٹ کی ہوئی چاہے وہ کوئی بھی دور ہو اور کسی کی بھی غلطی رہی ہو لیکن ادارے ادارے ہوتے ہیں ۔

اب عمران خان کے دور کی بات کر لی جائے وہ بھی ایک سے زیادہ مرتبہ بیان دے چکے ہیں کہ عدالتی انصاف نہیں کرتی عدالتی چھوٹا بڑا دیکھ کر فیصلے کرتی ہیں وغیرہ وغیرہ بڑے بڑے لوگوں کو کچھ نہیں کہا جاتا چوٹے لوگوں پر نزلہ گرا دیا جاتا ہے ۔جب باجوہ صاحب کے نوٹیفکیشن کی جماعت ہورہی تھی تو کھوسہ صاحب نے تقریر بھی کی تھی جس میں کہا تھا کہ پرائمنسٹر کو احتیاط کرنی چاہیے ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیے ۔
رؤف کلاسرہ کے مطابق ثاقب نثار کے دور میں زلفی بخاری کے کیس میں کافی نرم رویہ رکھا گیا تھا اس نرم رویہ کے نتیجے میں ہی زلفی بخاری بچ گئے تھے ورنہ ان کے خلاف جو چیزیں آئی تھی بچنا آسان نہیں تھا ۔اعظم سواتی کا معاملہ دیکھ لیں وہ استعفی دے کے گھر چلے گئے تھے ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کے بعد حکومت دوبارہ اعظم سواتی کو واپس لے آئیں یہ باتیں عدلیہ بھی دیکھ رہی ہے کہ وقتی طور پر حکومت ان کی بات مان جاتی ہے لیکن بعد میں وہی کرتی ہے جو اس کی مرضی ہے اب وزیراعظم عمران خان عدالتوں پر کافی زور بانی حملے کر رہے ہیں حالانکہ انہیں تو احسان مند ہونا چاہیے عدالتوں سے انھیں فائدہ ملا ہے ورنہ نوازشریف والے تو کہتے تھے کہ ہمیں تو عدالتوں سے جیل ہوگی اور عمران کو فائدہ ہوا عدالت نے جہانگیر ترین کو نااہل کیا عمران خان کو نہیں ۔
اس وقت پیپلز پارٹی اور نون لیگ والے خود کو تکلیف میں محسوس کر رہے تھے اور ان کا خیال تھا کہ عدالتوں سے صرف عمران خان اور ان کی پارٹی کو ریلیف مل رہا ہے جبکہ آج کل خود عمران خان اس صورتحال سے دوچار ہیں اب عمران خان اور ان کے ساتھی سمجھ رہے ہیں کہ عدالتوں سے صرف اپوزیشن کو ریلیف مل رہا ہے اپوزیشن کے لوگوں کو ضمانتیں مل رہی ہیں اس لیے حکومتی شخصیات کی مرتبہ عدالتوں پر تنقید کر چکی ہیں خود وزیراعظم نے بھی بیانات دیے ہیں کھوسہ صاحب نے وارن بھی کیا تھا کہ مت کریں ۔لیکن اب ان کے مشیروں کو عدالت میں بلایا گیا ہے تو شور مچ گیا ہے حالانکہ عدالت نے تو حکومت کے مشیروں کو بلایا ہے کہ آئیں بتائیں کرونا پر کیا کر رہے ہیں ۔

رؤف کلاسرا نے اپنے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ کابینہ میں اس پر بات ہوئی تھی کچھ غیروں نے کمنٹس پاس کیے تھے آپ کو یاد ہوگا کہ چیف جسٹس نے کہا تھا کہ بیگم صاحبہ بیمار تھی تو اسپتال بند پڑے تھے ایک اسپتال کھلوانا پڑا ۔اس معاملے پر کابینہ میں تبصرے ہوئے مذاق اڑایا گیا کراچی کے دو وزیروں نے کمینٹس دیئے تو وہاں کابینہ میں کہے لگ گئے کہا گیا کہ بیگم صاحبہ بیمار تھی اس لیے ہمارے ظفر مرزا کو بلا لیا گیا ۔رؤف کلاسرا کے مطابق سرائیکی علاقوں سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون مینسٹر نے بھی کچھ کمنٹس کیے تو عمران خان مسکرا دیئے ۔تو یہ ساری باتیں عدلیہ تک بھی پہنچ گئی ہیں کبھی نہ میں کی گئی باتیں تو شاید نظر انداز کی جا سکتی تھی لیکن اس کے بعد اچانک سوشل میڈیا پر ایک مہم شروع ہوگئی جس میں چیف جسٹس کو نشانہ بنایا گیا تو پھر سب لوگوں کے کان کھڑے ہوئے کچھ ویب سائٹس تو ایسی تھیں جو عام طور پر حکومت کی حمایت میں لکھنے کےلئے مشہور تھی اور اچھی اچھی خبریں ڈھونڈ کر لاتے تھے تاکہ حکومت کو پرموٹ کر سکیں انہوں نے بھی اس مہم میں حصہ لیا اور جو لوگ پی ٹی آئی کے بڑے حامی ہیں ٹوئٹر پر ۔ہم لوگ انہیں دیکھتے رہتے ہیں کہ کون کون سپورٹ کر رہا ہے تو باقاعدہ ایک مہم لانچ کردی گئی ۔ایک بیانیاں بنانے کی کوشش کی گئی کہ چیف جسٹس غلط کر رہے ہیں حکومت کرونا کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے اس مہم میں ظفر مرزا کی حمایت کی گئی اور چیف جسٹس پر بلودی بیلٹ جاکر باتیں کی گئی اور ان کی بیگم صاحبہ کی بیماری کے حوالے سے بھی تبصرے کیے گئے ۔
اب حکومت کہہ رہی ہے جناب ہم اس معاملے کی تفتیش کریں گے لیکن اب ہم سب ساتھ ہیں اس پر ہنس رہے ہیں کہ جناب کون کس کے خلاف پیش کرے گا ۔ڈی جی ایف آئی اے کو آرڈر کیا گیا ہے کہ تفتیش کریں کیا واقعی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وہ کچھ اور لوگ تھے جو کردار کشی کی مہم میں ملوث تھے اور کیا واقعی ان کا پتا لگا لیا جائے گا اور کیا ایف آئی اے ان کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہوجائے گی رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ میرا اپنا اندازہ ہے کہ چیف جسٹس کو بھی پتہ ہوگا کہ یہ مہم کہاں سے لانچ کی گئی اس کے اسپانسرز کون تھے کن لوگوں نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور یہ سارا کام کس طریقے سے انجام پایا اور یہ کون کرتا آرہا ہے یہ کہنا پڑے گا کہ یہ ساری چیزیں بالآخر جس طرح سوشل میڈیا کا استعمال کیا گیا پی ٹی آئی کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ٹولز کو بہت اچھی طرح استعمال کرتی آئی ہے پی ٹی آئی نے اپنی سیاست میں آج تک سوشل میڈیا کو یوز Use بھی کیا ہے اور Abuse بھی کیا ہے ۔

یہ بات سب لوگ جانتے ہیں ۔زیادہ دن پرانی بات نہیں جب محمد مالک اور دیگر صحافیوں نے وزیراعظم سے ملاقات میں سوالات کیے اور وزیراعظم نے اچھی طرح جوابات بھی دیے لیکن اس کے بعد اچانک سوشل میڈیا پر گالی گلوچ کا ایک طوفان آگیا اور پھر ٹرینڈ شروع ہوگئے اس وقت کسی کی مذمت نہیں آئی کہ جناب کیا ہوگیا نہ تو وزیراعظم کے دفتر سے مذمت آئی نہ اس وقت کسی نے ڈی جی ایف آئی اے کو حکم دیا کہ پتہ کریں کون محمد مالک کے خلاف مہم چلا رہا ہے کون گالیاں دے رہا ہے ۔اس سے پہلے ہم نے ارشد شریف کے خلاف بھی ایک ٹرینڈ دیکھا تھا گالی گلوچ والا ۔تب وہ کس نے کیا تھا کون کرا رہا تھا کیوں نہیں پکڑا گیا ۔
پھر ہم نے دیکھا حرامی میڈیا کا ٹرینڈ چلا وہ کس نے چلایا اس کے پیچھے کون تھا ۔عام آدمی کو بھلا اس سلسلے میں کیا دلچسپی ہو سکتی ہے کہ وہ ٹرینڈ سیٹ کریں ۔میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ 90 فیصد سوشل میڈیا صارفین کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ ٹرینڈ مہم کا حصہ کیسے بنتے ہیں یہ تو باقاعدہ انسٹیٹیوشنلایز چیزیں ہیں حکومت میں خود چار کروڑ روپے سے زائد سوشل میڈیا ونگ کے لیے مختص کرنے کا اعلان کیا تھا سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں نے بھی اپنے سوشل میڈیا ونگ بنارکھے ہیں ۔