شدت پسند’ہندوتوا‘ نظریہ ’کرونا وَبا‘ سے زیادہ خطرناک

  شدت پسند’ہندوتوا‘ نظریہ ’کرونا وَبا‘ سے زیادہ خطرناک قادر خان یوسف زئی  کے قلم سے    کرونا وبا کے خلاف عالمگیر سطح پر جنگ لڑی جا رہی ہے، لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی و انتہا پسندی کا رویہ تبدیل نہ ہونا افسوس ناک اَمر ہے۔ بھارت میں ہندو انتہا پسند حکومت مودی سرکار نے جس منظم انداز میں مسلمانوں ودیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف پالیسیاں اختیار کیں،یہ مذموم سلسلہ کرونا وبا جیسی بھیانک صورتحال میں بھی جا ری ہے۔ گذشتہ کئی مہینوں سے مسلمانوں کے پُرامن طبقے کے خلاف مختلف شدت پسند نظریات کے تحت انتہا پسندکاروئیواں عروج پر ہیں۔ کرونا وبا کو لے کر دہلی کے تبلیغی مرکز نظام الدین اولیا کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے اور مسلمانوں کے خلاف منظم پروپیگنڈا کرکے بھارتی عوام کو بھڑکانے کی فرقہ وارنہ سازش کو فروغ دیا جارہا ہے تاکہ مودی سرکاری کی جانب سے مقبوضہ کشمیر و بھارت میں مسلم نسل کشی، متنازع شہریت بل اور غیر ملکیوں کو شہریت قانون میں مسلمانوں کی شناخت ختم کرنے کے خلاف اقدامات سے دنیا کی توجہ ہٹا سکے، بھارت کے جانبادارنہ اقدامات پر مسلمانوں کے ساتھ دیگر مذہبی اقلیتیں اٹھ کھڑی ہوئی، اس سے انتہا پسند ہندو توا کے پیروکاروں کو پریشانی لاحق ہوئی کہ ان کی مذموم سازشوں کا پردہ دنیا بھر میں چاک ہورہا ہے، اس لئے ہندو شدت پسندوں نے عام مسلمانوں کے خلاف منفی پراپیگنڈا مہم میں کرونا وبا کو ہتھیار بنا کر فرقہ وارانہ اختلافات کو بڑھاوا دیا اور جانب دار میڈیا کے ساتھ مل کر ایک ایسی مہم چلائی جس کا کرونا وبا سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ تبلیغی جماعت کے امیر مولانا سعد کاندھلوی و مرکز کے خلاف مذموم سازش اور تبلیغی جماعت کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی، جھوٹی و من گھڑت خبروں کا سہارا لے کر بھارت میں فرقہ وارانہ، مسلکی و دیگر اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے طبقات میں تعلقات کو خراب کرنے کی سازش کی، تبلیغی جماعت کے سربراہ مولانا محمد سعد کو سوشل میڈیا میں دہشت گرد قرار دینے کی مہم مہاراشٹر کے ایک ڈاکٹرسنبھا جی گووند چتلے نے شروع کی، ڈاکٹر چتلے اورنگ آباد شہر کے سڈکو علاقہ کے مکَار چوک میں کاسمو اسپتال چلاتا ہے۔ مولانا سعد کاندھلوی سمیت18افراد کے خلاف دفعہ 304کے تحت کا مقدمہ درج کیا، جب کہ تبلیغی جماعت کے25ہزار500اور ان کے متعلقین کو ملک بھر میں کورنٹائن کیا گیا۔ مولانا سعد کاندھلوی تادم تحریر کورنٹائن میں تھے، مقدمہ درج کرنے کے بعد ان کی گرفتاری کا امکان ظاہر کیا جارہاہے۔بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تعصب پر مبنی کاروائیوں کا اندازہ اس اَمر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ احمد آباد کے ایک اسپتال میں مریضوں کو مذہبی شناخت کی بنیاد پر الگ الگ وارڈز میں رکھا گیا ہے اور اس عمل کو گجرات حکومت کے احکامات کے مطابق قرار عمل قرار دیا گیا ہے۔ احمد آباد سول اسپتال میں کرونا وائرس کے شکار مریضوں کے لئے1200بیڈز مختص کئے گئے ہیں، لیکن کرونا وبا سے متاثرہ افراد کو مذہب کی بنیاد پر علیحدہ کردیا گیا، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر گنونت راتھوڑ کے مطابق گجرات کی حکومت کی جانب سے ہدایات پر ایسا کیا گیا تاہم نائب وزیراعلیٰ و وزیر صحت منتن پٹیل نے دعوی کو مسترد کردیا اور احمد آباد کے کلکٹر کے کے نرالا نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔ احمد آباد سول اسپتال کے ڈاکٹر کے مطابق اس وقت150مریضوں میں 40مریض مسلمان ہیں، جنہیں ہندو مریضوں کی بے چینی کے باعث علیحدہ کیا گیا ہے۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کرونا جیسی عالمگیر وبا میں ہندو شدت پسندی، انسانیت پر بھی غالب آچکی ہے اور ہندو شدت پسندی کا عروج اس وقت مودی سرکاری کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کے مرہنوں منت ہے۔ دہلی، گجرات ہی نہیں بلکہ بھارت کی مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف منفی جذبات کو مذموم سازش ’کرونا جہاد‘ کا نام دے کر ابھارا جارہا ہے۔ مدھیہ پردیش کے شہر اندور کے ہندو دوکانداروں نے مسلمانوں کو سبزی تک دینے سے انکار کردیا ہے کہ اگر انہوں نے مسلمانوں کو ترکاری دی تو (شدت پسند) ہندو اُن کی دکانیں جلا دیں گے۔ بھارت میں فرقہ وارنہ زہر کو طبقات کی رگ رگ میں پھیلایا جارہا ہے اور اس اَمر سے قطع نظر کہ کروا وائرس سے دنیا بھر کے انسان بلا امتیاز رنگ و نسل مذہب متاثر ہو رہے ہیں، شدت پسند حکمرانوں و ان کی انتہا پسند جماعت بھارتی جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کی مسلم کش سازشوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بھارتی محکمہ صحت یومیہ بریفنگ میں تبلیغی جماعت کا نام لے کر معتصبانہ اعداد و شمار ہ علیحدہ پیش کرنے سے مسلم حلقوں میں بے چینی ہے۔ دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ظفرالاسلام خان نے حکومت سے اپنی بریفنگ میں تبلیغی جماعت کانام بار بار دہرانے سے باز رہنے کے لیے حکومت کو ایک خط لکھا۔انہوں نے حکومت کے اس رویے پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے لکھا، ”اس طرح کی درجہ بندی سے گودی میڈیا(بھارت میں حکومت نواز میڈیا کو طنزیہ طور پرگودی میڈیا کہاجاتا ہے) اور ہندوتوا فورسز کے اسلامو فوبیا ایجنڈے کو تقویت ملتی ہے۔ یہ درجہ بندی ملکی سطح پر مسلمانوں پر حملہ کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ اسی کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں مسلمانوں پر حملے ہورہے ہیں، سماجی سطح پر ان کے بائیکاٹ کی اپیل کی  جارہی ہیں۔ شمال مغربی دہلی میں ایک مسلم نوجوان کو اسی کے نام پر بھیڑ نے مار مار کو ہلاک کر دیا ہے اور دوسروں پر حملے جاری ہیں۔”۔اسی طرح مسلمانوں کے خلاف ہندو شدت پسندوں کے ان گنت واقعات میں ایک واقعہ اُس وقت منظر عام پر آیا جب نظام الدین شہر کے علاقہ آٹو نگر نزد فاچمہ فنکشن (مسجد ابو بکر ؓ) میں 82برس کی معمر خاتون کا انتقال ہوا، تو ٹاؤں رگھوویندر گوڑ کے علاقہ پولیس نے معتصبانہ رویئے کے باعث مسلم اقلیت کو ہراساں کیا، سب انسپکٹر نے انتقال کرنے والی معمر خاتون کے اہل خانہ میں چھ مسلم خواتین اور چار نوجوان لڑکے شامل ہیں کو جبراََ کورنٹائن کردیا، واضح رہے کہ معمر خاتون کا انتقال کرونا کی وجہ سے نہیں ہوا۔جب کہ اسی علاقے سے ایک مشتبہ شخص کی کرونا وائرس کی تشخیص میں بھی رپورٹ منفی آئی تھی، اہلیان علاقہ نے پولیس اہلکار کے خلاف احتجاج کیا اور ہراسانی کا الزام عاید کیا تو الٹا کمشنر پولیس کارتکیا نے یقین دہانی کے باوجود صڈر تاؤن مجلس اڈھاک کمیٹی ڈپٹی میئر، معتمد ٹاؤن مجلس  پر کار سرکار میں مداخلت پر ایف آئی آر درج کرکے جھوٹے مقدمات بنا دیئے گئے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے لاکھوں غریب عوام لاک داؤن میں بے روزگاری کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہیں، بھارتی انتہا پسند حکومت انہیں ریلیف دینے میں مکمل ناکام ہے، جس کی ایک مثال عبرت ناک ہے، جب دہلی میں یمنا ندی کے کنارے آخری رسومات میں استعمال شدہ کیلے بھوک مٹانے کے لئے اُن غریبوں اور مزدوروں نے کھائے جو لاک ڈاؤن کی وجہ سے انتہائی بُری حالت میں ہیں، ان افراد نے متروکہ کیلوں و چنے کا استعمال کیا۔اسی طرح سوشل میڈیا میں ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی، جس میں کتوں و ایک غریب شخص کو زمین پر گرے دودھ کو ایک صف میں پیتے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہی صورتحال بھارت کے شمشان گھاٹ کی ہیں۔ بودھ شمشان گھاٹ کے قریب کیلے چننے والے مزدور کا تعلق علی گڑھ سے ہے، بریلی کے55برس کے مزدور جگدیش کمار کے مطابق اُس نے دو دن سے کھانا نہیں کھایا اس لئے وہ یہ کیلے چن رہا تھا۔اسی طرح بھارت میں مزدور دار طبقہ لاک ڈاؤن کے باعث بھوک و افلاس کا شکارہے، بے روزگاری و حکومتی ریلیف نہ ملنے کے سبب لاکھوں کی تعداد میں غریب محنت کش اپنے آبائی علاقوں کی واپسی کے لئے پیدل ہی جا رہے ہیں، بھارت میں پہلے ہی کئی کروڑ افراد سطح غربت سے نیچے ہیں، رہنے کے لئے چھت نہیں، کروڑوں افراد فٹ پاتھ، نالوں و سڑکوں پر بھوکے سوتے ہیں، اب کرونا وبا کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے، ان بدترین حالات کے باوجود انتہا پسند مودی حکومت کی معتصبانہ پالیسیوں نے بھارتی عوام کو مزید مشکلات کا شکار کردیا ہے، مودی سرکار کی مسلم دشمنی کا خناس دماغ سے کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ گذشتہ دنوں اقوام متحدہ نے بھی کورونا وائرس کے تعلق سے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس کی روک تھام کے لیے فوری طور پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت میں سخت گیر ہندو تنظیمیں اور میڈیا کا ایک حلقہ کورونا وائرس کے نام پر مسلمانوں کو بدنام کرنے میں لگا ہے جس کے سبب مسلمانوں کے خلاف حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔اس سے قبل عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او)نے بھی بھارت میں کورونا وائرس کے تعلق سے مسلم فرقہ کو نشانہ بنائے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت نکتہ چینی کی تھی۔بھارت میں مقامی غیر سرکاری تنظیموں اور عالمی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے والے اقوام متحدہ کی بھارتی مندوب رینتا لوک ڈیزلن نے موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو کووڈ- انیس کے تعلق سے، ” ایک خاص برادری کے لوگوں کو بدنام کرنے کے خلاف لڑنے اور مہاجر مزدوروں کے مسائل سے فوری طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔”اس وقت کرونا وبا سے بیس ملین افراد دنیا بھر میں متاثر ہوچکے ہیں، سوا لاکھ سے زاید اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ کرونا وبا سے بچاؤ کے لئے ماسوائے لاک داؤن کے کوئی دوسری احتیاطی تدابیر کارگر ثابت نہیں ہو رہی، ان حالات میں بھارت کی ہندو شدت پسندی اقوام متحدہ کی تشویش ثابت کرتی ہے کہ انتہا پسند مودی سرکار کرونا کی آڑ لے کر آر ایس ایس کے شدت پسند ایجنڈے کو تیزی سے عمل درآمد کی انتہا پالیسی پر گامزن ہے، انسانیت کے خلاف جنگ میں تعصب و شدت پسند نظریہ کو پروان چڑھانا کرونا وبا سے زیادہ خطرناک ہے۔