نجیب ہارون کے استعفیٰ کی اندرونی کہانی، سنسنی خیز انکشافات

نجیب ہارون ایک کامیاب انجینئر ہونے کے باوجود سیاسی انجینئرنگ کو کبھی نہیں اپنا سکے ۔وہ سیدھی اور سادہ زندگی گزارنے کے عادی رہے سچائی کے ساتھ معاملات کو چلانے اور لوگوں کی خدمت کرنے کے جس جذبے کے تحت سیاست میں آئے تھے اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے تھے لیکن بدقسمتی سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ بیس مہینے کی حکومتی کارکردگی کے دوران ہوں اپنے حلقے اور اپنے آبائی شہر کے لیے کچھ نہ کر سکے انہیں سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ وہ جس پارٹی کے بانی ارکان میں شامل تھے اس کا لیڈر وزیراعظم بننے کے بعد ان کو وقت نہیں دیتا ان کو اہمیت نہیں دیتا اس لئے وہ یہ سمجھے کہ وہ وزیراعظم کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔وہ ایک کامیاب اور بہترین انجینئر ہونے کے ناطے ملک میں ایک کروڑ نوکریاں پیدا کرنے کی طرف پیش کرنی کرنے والے سب سے بڑے منصوبے تعمیراتی سیکٹر کے لئے معرات اور سہولتوں کے حوالے سے خود کو مسلسل نظر انداز کیا جانے والا شخص قصور کر رہے تھے ہاؤسنگ کے شعبے میں ان کی خدمات کا حکومت نہ تو اعتراض کر رہی تھی نہ ہی کوئی استفادہ کر رہی تھی ۔نجیب ہارون گزشتہ ایک مہینے سے کافی اب سیٹ تھے انہیں اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ وہ پرانے دوست بھی ایک ایک کرکے گنوا رہے ہیں کیونکہ انہیں شکایت مل رہی تھی کہ وہ لوگوں کو کال بیک نہیں کرتے ان سے ملاقات کرنے والوں سے ملتے نہیں ہیں اسلام آباد میں اجلاس کے لیے چلے جاتے ہیں حلقے میں وقت نہیں دے پاتے حلقے کی بہتری کے لیے شہر کی بہتری کے لیے پی ٹی آئی کی حکومت سے لوگوں کو جو توقعات تھیں وہ تو اک بات پوری نہیں کر پا رہے اور وہ اپنے دل کا حال کس کو سناتی ووٹرزکو یا پارٹی کے ساتھیوں کو ۔ان کی حالت یہ تھی کہ اگر اپنی پارٹی لیڈر شپ یا حکومت کے خلاف کوئی بات کرتے تو اپنا پیٹ ننگا کرنے کے مترادف ہوتا ۔انہیں یہ باتیں زیب نہیں دیتی کیونکہ ناتوان کی ایسی خاندانی تربیت ہے نہ ایسا خاندانی پس منظر ۔ان کے اندر ایک جنگ چل رہی تھی کشمکش کا شکار تھے اور بالآخر انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ مستعفی ہو جاتے ہیں اور انہوں نے ایک بوجھل اور بھاری دل کے ساتھ اپنا استعفیٰ وزیراعظم کو بھیج دیا ۔بیس مہینے کی کہانی میں اور بھی نشیب و فراز آئے اور کیا کچھ ہوا۔

یہ کہا جاتا رہا ہے کہ عمران خان نے نجیب ہارون کی قابلیت اور ذہانت سے پوری طرح استفادہ نہیں کیا انہیں حکومت میں آنے کے بعد نجیب ہارون کی صلاحیتوں کو بہتر انداز سے استعمال کرنا چاہیے تھا ان کے حامی اور دوست یہ مطالبہ بھی کرتے رہے کہ نجیب ہارون کو سندھ کا گورنر بنایا جائے ۔
بعض حلقوں میں یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ سندھ کے گورنر عمران اسماعیل نجیب ہارون سے خوفزدہ ہیں اور ایک مضبوط لابی نجیب ہارون کو آگے بڑھنے سے روک رہی ہے نجیب ہارون کا راستہ روکا جاتا رہا اور نجیب ہارون آہستہ آہستہ دلبرداشتہ ہوتے چلے گئے ۔
کچھ دوستوں کا کہنا ہے کہ انیل مسرت کی پاکستان آمد اور ہاؤسنگ کے شعبے میں عمران خان کو تجاویز اور مشورے اور نجی بہاروں کے ساتھ بعض معاملات پر اتفاق رائے نہ ہونا بھی نجیب ہارون اور عمران خان کے درمیان فیصلے پیدا کر گیا ۔خود نجیب ہارون نے انیل مسرت اور عمران اسماعیل کے حوالے سے کبھی عوامی طور پر گوئی منفی تبصرہ نہیں کیا نہ ہی کوئی ایسی بات سامنے آئی جس کے ذریعے ان کے دوست اندازہ لگاتے کہ انہیں ان دونوں کی وجہ سے کسی بات پر رنج یا دکھ پہنچا ہے ۔نجیب ہارون کے پرانے واقف کار بتاتے ہیں کہ وہ عمران خان سے بہت توقعات رکھتے تھے اور انہیں بڑا مان تھا کہ حکومت میں آنے کے بعد انہیں موقع ملے گا اور وہ عوام شہر اور ملک کی بہتر خدمت کرسکیں گے لیکن وہ اپنے لیڈر کے رویے اور کارکردگی سے زیادہ مطمئن نہیں ہوئے لیکن عوامی طور پر یہ باتیں کہہ نہیں سکتے تھے اس لیے اندر ہی اندر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے چلے گئے نجیب ہارون کے کچھ پرانے دوستوں کا کہنا ہے کہ جو صورت حال نجیب ہارون کو درپیش رہی اس کا سامنا کرنے والے بانی اراکین میں سے وہ اکیلے نہیں ہیں بلکہ اور بھی کئی دوست اور ساتھی ایسے ہیں جو مایوسی کا شکار ہیں اور دل برداشتہ ہو چکے ہیں لیکن ان کے پاس کوئی وے آؤٹ نظر نہیں آرہا وہ کریں تو کیا کریں اور آپشن کوئی نہیں ہے فی الحال پارٹی قیادت پر عدم اعتماد یا وزیراعظم کے خلاف لب کشائی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

اس لئے خاموشی کو ہی بہترین آپشن سمجھ کر سب چپ بیٹھے ہوئے ہیں ۔لیکن اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ پارٹی سے جو تو عوام کو تھی خاص طور پر وہ طبقہ جو پہلے الیکشن میں ووٹ دینے نہیں آتا تھا اس طبقے کو متحرک کیا اور اسے ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے باہر نکالنے میں ان لوگوں نے بڑی محنت کی تھی یہ سمجھتے تھے کہ ان کا پارٹی کے لئے بہت کام ہے اور اس کام کے نتیجے میں تبدیلی آئے گی حکومت کی حد تک تو تبدیلی آئی لیکن عوام کی زندگی میں بہتری لانے کے دعوے پورے نہیں ہوئے کراچی شہر کو ایم کیو ایم کی حکومت سے تو نجات ملی لیکن پی ٹی آئی کی حکومت میں کراچی کو کچھ دیا نہیں جا سکا اربوں روپے کے پیکیج کے اعلانات کیے گئے لیکن سب کچھ سبز باغ ثابت ہوا وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان کھینچا تانی اورمیئر کراچی کے ساتھ اختلافات ۔فنڈز کی تقسیم اور اختیارات کی تقسیم کے معاملے پر اختلافات نے بیس مہینے میں کچھ کام نہیں کرنے دیا ۔نجیب ہارون جیسا نظریاتی کارکن مایوس ہوگیا ۔دل برداشتہ ہو گیا گھر بیٹھ گیا ۔کیا عمران خان ان کا استعفیٰ مسترد کرکے انہیں کوئی نئی ذمہ داری دینے پر غور کر سکتے ہیں کیا عمران خان نجیب ہارون سے میں ایسے تمام ساتھیوں دوستوں کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے جو مایوسی کا شکار ہیں دلبرداشتہ ہیں اور پچھلی نشستوں پر جا کر بیٹھ گئے ہیں ۔فیصلہ خود عمران خان کو کرنا ہے کیا عمران خان کو نجیب ہارون جیسے ساتھی دوست کے استیفے سے کوئی فرق پڑتا ہے یا نہیں ۔یہ بات ان کے رویے اور اقدامات سے ثابت ہوگی۔