پی ٹی آئی کے بانی رکن نجیب ہارون قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی- بدقسمتی سے میں اپنے حلقے یا اپنے آبائی شہر کی بہتری کے لیے کچھ نہ کرسکا۔

پاکستان تحریک انصاف کے بانی رکن اور رکن قومی اسمبلی نجیب ہارون نے قومی اسمبلی نشست سے استعفیٰ دے دیا، وہ عام انتخابات میں حلقہ 256 کی نشست سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔
 استعفے میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی رکن نے موقف اپنایا کہ انہوں نے 24 سال پہلے عمران خان کے ساتھ پارٹی بنائی، تاہم 20 ماہ سے ایم این اے ہونے کے باوجود اپنے حلقے 256 اور کراچی کے لیے کچھ نہ کرسکے۔
نجیب ہارون کا کہنا تھا کہ برسُوں تعلق ہونے کے باوجود عمران خان کا اعتماد حاصل نہ کرسکے، تاہم ان کی پارٹی میں بانی ہونے کی حیثیت بحال رکھی جائے۔ انہوں نے استعفے میں یہ بھی کہا کہ جب تک وہ زندہ ہیں تحریک انصاف کا حصہ رہیں گے اور پورا یقین ہے عمران خان کی سربراہی میں ملک آگے جائے گا- سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنا استعفیٰ شیئر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں نے ’بوجھل دل کے ساتھ قومی اسمبلی سے اپنا استعفیٰ وزیراعظم عمران خان کو بھجوادیا‘۔ استعفیٰ کی وجوہات میں انہوں نے بتایا کہ وہ 20 ماہ کی مدت کے دوران اپنے حلقے یا شہر کراچی کے لیے کچھ نہ کرسکے اس لیے وہ اس پوزیشن کے حقدار نہیں-استعفے میں نجیب ہارون نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ رکن قومی اسمبلی کا حلف اٹھانے کے 20 ماہ اور پاکستان تحریک انصاف جو ہم نے مل کر بنائی تھی اس کے 24 سال بعد مجھے احساس ہوا کہ میں آپ کا اعتماد/بھروسہ حاصل کرنے میں ناکام رہا- انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے میں اپنے حلقے یا اپنے آبائی شہر کی بہتری کے لیے کچھ نہ کرسکا۔
ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میں حکومت کو ایک سال مکمل ہونے کے بعد 8 ماہ سے اس فیصلے پر غور کررہا تھا۔
نجیب ہارون کا کہنا تھا کہ میں نے قومی خزانے سے ایک روپیہ نہیں لیا لیکن میرا ضمیر یہ کہتا ہے کہ میں اس پوزیشن پر رہنے کا حق دار نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی کے بانی رکن اور قومی اسمبلی تک پہنچنے والے فاؤنڈنگ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے واحد رکن کی حیثیت سے میں آپ پر زور دیتا ہوں کہ میں جب تک زندہ رہوں پارٹی رکنیت میرے پاس رہے-خیال رہے کہ نجیب ہارون 2018 کے عام اتنخابات میں کراچی وسطی (۳) کے حلقہ این اے-256 سے متحدہ قومی مومنٹ کے عامر وحیدالدین قریشی کے مقابلے 89 ہزار 850 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔