بھارتی سکیورٹی فورسز نے سب سے زیادہ تشدد مساجد میں جانے والے نمازیوں پر کیا

بھارت کی تو یہ خصلت ہے کہ اس نے ہر خرابی، ہر برائی اور اپنی بھی ہر بداعمالی کا ملبہ پاکستان اور مسلمانوں پر ڈالنا ہوتا ہے، چنانچہ کرونا وائرس کی وباء پھیلی تو اس کا ناطہ بھی مسلمانوں اور ان کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ جوڑنے میں مودی سرکار نے ذرا بھر دیر نہ لگائی۔ بھارت میں چن چن کر مساجد اورتبلیغی جماعت کے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا، ان پر مظالم کی انتہا کر دی گئی۔ مودی سرکار کے پرودہ ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے تو تبلیغی جماعت کے ارکان کے قتل عام کی مبینہ منصوبہ بندی بھی سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی اور بھارتی سکیورٹی فورسز نے سب سے زیادہ تشدد بھی مساجد میں جانے والے نمازیوں پر کیا۔ اس پر ایک ہندو دانشور خاتون بھی خاموش نہ رہ سکی، جس نے سوشل میڈیا پر اپنا ویڈیو پیغام جاری کرکے تبلیغی جماعت کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے مودی سرکار کی سازشوں کا پول کھولا اور اقوام عالم کے سامنے اصل بھارتی چہرہ بے نقاب کیا۔ اب ایک اسرائیلی تاریخ دان نوح حریری نے بھی بھارت کی مسلم دشمنی کو بے نقاب کرتے ہوئے عالمی برادری کو باور کرایا ہے کہ بھارت کرونا وائرس کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنا رہا ہے جبکہ یہ وقت نفرتیں پھیلانے کا نہیں بلکہ مل کر کرونا وباء سے نمٹنے کا ہے۔
ارے صاحب! اس معاملہ میں ہم صرف مسلمان مخالف جنونی مودی سرکار کو ہی کیوں دوش دیں، کیا ہم نے خود بھی کورونا وائرس کی آڑ میں شعائر اسلامی اور اپنی عبادات و عبادت گاہوں کی بھد اڑانے میں کوئی کسر چھوڑی ہے۔ ہمارے نام نہاد لبرل طبقات نے تو شعائر اسلامی، مسنون دعائوں اور عبادات کو تضحیک کا نشانہ بنانے کیلئے بے ہودہ لطائف اورباجماعت نماز کی ادائیگی کے طریقہ کار پر ایسے ایسے توہین آمیز الفاظ ایجاد کرکے سوشل میڈیا کی زینت بنائے کہ جن کو دیکھ ، سن اور پڑھ کر شرمائیں ہنود و یہود۔ یہ ’’لطیفہ‘‘ تو مجہول ذہن والے ہمارے ہر لبرل نے سوشل میڈیا پر پھیلایا کہ ایک خاتون سے دریافت کیا گیا کہ آیا اس نے کرونا وائرس سے بچنے کیلئے سینی ٹائزر یا صابن کے ساتھ ہاتھ دھوئے ہیں تو اس خاتون نے جواب دیا کہ میں نے ہاتھ دھوتے وقت کلمہ شریف پڑھ لیا تھا۔ خاتون کے اس جواب پر لطیفہ گھڑنے والے بدبخت نے یہ پھبتی کسی کہ آپ کے اس عمل سے کرونا وائرس شاید مسلمان تو ہوگیا ہوگا مگر وہ مراہرگز نہیں۔ ایسے بے شمار لطائف ہمیں سوشل میڈیا پر بے حد و حساب دستیاب ہیں جو ہمارے اپنے ہی لبرل طبقات نے دین اسلام کے بارے میں اپنے ذہن کی غلاظت کو اجاگر کرتے ہوئے شیئر کئے اور پھیلائے ہیں۔


اورکیا ہم نے بھی کرونا وائرس کی آڑ میں تبلیغی جماعت کے بارے میں زہر اُگلنے اور اس کے بے ضرر ارکان کے ساتھ انسانیت سے گرا ہوا سلوک روا رکھنے میں کوئی کسر چھوڑی ہے، ان کے ساتھ جو بہیمانہ سلوک بھارتی ہندو سکیورٹی فورسز نے روا رکھا بعینہ ہم نام نہاد مسلمانوں نے بھی تبلیغ دین کے قطعی بے قرر اور پرامن مشن میں مصروف اس جماعت کے لوگوں کو چن چن کر ذہنی اور جسمانی اذیتیں دیں اور انہیں پولیس حوالاتوں اور جیلوںمیں ڈالا جس پر حکومتی اتحادی مسلم لیگ (ق) کے قائدین چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویزالٰہی کا فوری طور پر سخت ردعمل ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے سامنے آگیاا ور اس کے بعد انہوں نے حکمران طبقات کو یہ بھی باور کرا دیا کہ تبلیغی جماعت کو لاوارث نہ سمجھا جائے۔ ہندو خاتون دانشور تو اپنے ویڈیو پیغام میں یہ سوال بھی اُٹھا چکی تھی کہ کیا امریکہ، سپین، اٹلی اور کرونا وائرس کی زد میں آئے دیگر مغربی و یورپی ممالک میں تبلیغی جماعت کے لوگوں نے جا کر کرونا وائرس پھیلایا ہے اگر ہمارے ملک میں بھی تبلیغی جماعت کے لوگوں میں کرونا وائرس کے شواہد ملے ہیں تو بھلے لوگو! ذرا یہ تجزیہ بھی کرلو کہ انہیں کرونا وائرس کہاں سے منتقل ہوا ہے پھر کرونا وائرس کے پاکستان میں پھیلائو کا باعث بننے والے ان طبقات کے ساتھ بھی آیا ویسا ہی سلوک کیا گیا ہے جو تبلیغی جماعت کے لوگوں کے ساتھ روا رکھا گیا۔ کہیں ہم بھیڑچال میں ہنود و یہود کی کسی سازش کا شکار تو نہیں ہوگئے۔ اس معاملہ میں ہمیں اپنے ان عمومی رویوں کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا جو ہم مساجد میں اپنی عبادات کے حوالے سے اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کرونا وائرس کا سب سے شافی علاج انسانوں کے مابین سماجی روابط ختم کرنے اور فاصلے قائم کرنے کا نکالا گیا ہے۔

بے شک ہمیں احتیاطی اقدامات اٹھانے چاہئیں ،جس کیلئے ہمارے مختلف مکاتب فکرکے علماء کرام بھی متفق علیہ ہیں اور انہوں نے مساجد میں انسانوں کے مابین فاصلے کے حوالے سے حکومتی ہدایات کی پابندی کے ساتھ تعمیل کرائی بھی ہے مگر کرونا وائرس کا یہی شافی علاج ہے تو یہ فارمولا بلاامتیاز ہرطبقہ زندگی اور ہر شعبہ زندگی پر لاگو کیا جانا چاہئے۔ وزیراعظم عمران خان تو انسانی فاصلہ قائم کرنے والے سخت لاک ڈائون کے شروع دن سے مخالف ہیں، جس کیلئے ان کے اس استدلال میں بھی وزن ہے کہ اس اقدام سے ہم لوگوں کو کرونا وائرس سے بچاتے بچاتے انہیں بھوک سے مار بیٹھیں گے۔ انہوں نے 2روز قبل اسی تناظر میں لاک ڈائون میں نرمی کے جو اقدامات اٹھائے، ان پر عملدرآمد کا نتیجہ آج سماجی روابط بڑھنے کی صورت میں ہی برآمد ہوا ہے جبکہ اس سے پہلے امدادی رقوم کی احساس پروگرام کے تحت تقسیم کے مناظر پوری قوم دیکھ چکی ہے کہ خواتین و حضرات یہ رقوم وصول کرنے کی خاطر ایک دوسرے کے اُوپر چڑھے ہوئے تھے۔ سپریم کورٹ نے بھی اسی بنیاد پر حکومتی کارکردگی کا نوٹس لیا، اب لاک ڈائون میں نرمی کے نتیجہ میں انسانی فاصلے مزید سکڑ گئے ہیں تو مفتی منیب الرحمن، مولانا فضل الرحمن، سراج الحق اور دوسرے علماء کرام یہ سوال اُٹھانے میں بھی حق بجانب ہیں کہ کیا سماجی فاصلے کا اُصول صرف مساجد پر ہی لاگو ہوتا ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ اس معاملہ پر مشاورت کیلئے صدر مملکت نے کل 18اپریل کو علماء کرام کی ویڈیو کانفرنس طلب کی ہے۔ آپ نے جو بھی اُصول اورقانون لاگو کرنا ہے، وہ بلاامتیاز لاگو کیجئے اگر صرف مساجد پر ہی اس معاملہ میں ’’نظرکرم‘‘ کی جائے گی تو پھر بھائی صاحب! ایجنڈا کرونا وائرس کا پھیلائو روکنے کا نہیں کچھ اور ہی ہوگا۔
Saeed-Aasi-nawaiwaqt