بندوبست اراضی‘‘ کے علاوہ انگریزوں نے نہری نظام کی بدولت پنجاب میں منٹگمری اور لائلپور جیسے شہر بھی آباد کئے، ان شہروں میں نئے وفاداروں کو رقبے الاٹ ہوئے

کئی حوالوں سے میرے اُستاد اور تخیل کی فراوانی سے مالا مال سرمد صہبائی نے 2020کے لئے ایک نظم لکھی ہے۔کرونا وائرس کو شاعر نے اس نظم میں زمین کا انتقام بتایا ہے جو گزشتہ کئی صدیوں سے ’’ہوس کی زرہ بکتروں‘‘ میں ملبوس غارت گروں سے خوفزدہ ہوچکی تھی۔جہاں فاختائوں نے کوکنا چھوڑ دیا تھا۔کشمیر اور جولان کی وادیاں ظالموں کے روبرو بے بس ہوچکی تھیں۔اس زمین کے باسی اب موت کے خوف سے گھبراہوچکے ہیں۔بہار کا موسم آگیاہے۔لاک ڈائون نے مگر لوگوں کو گھروں میں محصور کردیا تو آسمان اس قدر نیلا ہوگیا کہ اس سے قبل ہم نے ایسا دیکھا ہی نہیں تھا۔
ضرور پڑھیں: جاپان کی افغان پناہ گزینوں کی مدد کے لئے پاکستان کودس لاکھ ڈالرامداد
شاعر پھولوں اور فاختائوں کی بدولت نئی دُنیا دریافت کرتے ہیں۔رپورٹر سے کالم نگار ہوئے مجھ جیسے مشقتی مگر ’’مابعدکرونا‘‘ زمانے کو ذہن میں لاتے ہوئے پریشان ہورہے ہیں۔بدھ کے دن سے پاکستان کے بیشتر شہروں میں لاک ڈائون تقریباََ نہ ہونے کے برابر ہوگیا ۔ کڑے انداز میں یہ کبھی لاگو ہی نہیں ہوا تھا۔’’موت کا ایک دن معین ہے‘‘ والی سوچ کے ساتھ ہم لاک ڈائون کے دنوں کو طویل چھٹیوں کی مانند لیتے رہے۔ گھروں میں خود کو محفوظ تصور کرتے ہوئے اگرچہ ’’دیہاڑی داروں‘‘ کی فکر میں مبتلا نظر ا ٓنے کا ڈھونگ بھی رچاتے رہے۔
نظر بظاہر دیہاڑی داروں کے غم میں اب لاک ڈائون میں نرمی لائی گئی ہے۔’’تعمیراتی سرگرمیوں‘‘ کو بحال کرتے ہوئے ہم میں سے اکثر نے مگر سوچا ہی نہیں کہ مزدور کہاں سے آئیں گے۔ان کی بے پناہ اکثریت تو کئی دنوں سے اپنے قصبات جاچکی ہے۔پبلک ٹرانسپورٹ ابھی تک بند ہے۔کم از کم اسلام آباد کی حد تک مکانوں کی تعمیر کے لئے مزدوروں کی اکثریت ہمارے شمالی علاقوں یا خیبرپختونخواہ کے دیہات سے آتی ہے۔ لکڑی اور بجلی سے متعلقہ کام زیادہ تر وسطی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ہنر مندوں کے سپرد ہوجاتا ہے۔یہ تمام کاریگر اور مزدور پبلک ٹرانسپورٹ کے بغیر اسلا م آباد کب اور کیسے واپس آئیں گے۔ اس ضمن میں کوئی واضح حکمت عملی نظر نہیں آرہی۔2018کے وسط سے مجھے ذاتی گھر تعمیر کروانے میں ڈیڑھ برس لگے۔رمضان شروع ہوتے ہی کاریگر اور مزدور گھروں کو لوٹ گئے۔عید گزرنے کے ایک ہفتے بعدواپس آکر کام شروع کیا۔


مکانوں کی تعمیر سے متعلق ایک ٹھیکے دار سے میری بدھ کے روز طویل گفتگو ہوئی۔ اسے چار مکان تعمیر کرنے کاٹھیکہ ملا ہوا ہے۔اس کے مزدور اور کاریگر چترال کے دیہات سے تعلق رکھتے ہیں۔اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ انہیں اسلام آباد کیسے لائے۔ اطلاع اس نے یہ بھی دی کہ تعمیراتی کاموں سے متعلق ٹھیکے داروں کو انتظامیہ نے واضح الفاظ میں متنبہ کیا ہے کہ ان کے لئے کام کرنے والا کوئی مزدور کرونا کی زد میں آکر بیمار ہوا تو اس کی دیکھ بھال کی تمام ذمہ داری ٹھیکے دار کے سرہوگی۔ وہ اس حکم سے گھبرایا ہوا تھا۔ اسے اپنا دھندا بحال ہونے کی فوری امید نظر نہیں آرہی تھی۔
کرونا کی وجہ سے شہروں سے رخصت ہوکر آبائی گھروں میں گئے دیہاڑی داروں کا سوچتے ہوئے میں یہ حقیقت بھی ذہن میں رکھنے کو مجبور ہوا کہ ان دنوں پاکستان کے بالائی حصوں میں گندم کی کٹائی کا موسم بھی ہے۔دیہاڑی دار عموماََ ان ایام میں اپنے آبائی گائوں چلے جاتے تھے اور گندم کی کٹائی میں حصہ لے کر اپنے گھرانے کے لئے سال بھر کے دانے جمع کرلیتے۔ بتدریج ان کی اکثریت نے سالانہ کٹائی میں حصہ لینا چھوڑ دیا۔ کاشت کاروں نے مشینوں کے ذریعے کٹائی شروع کردی۔گندم کو بھوسے سے الگ کرنے کا عمل بھی ان مشینوں کے ذریعے ہوتا ہے۔گندم اور اس سے الگ ہوئے بھوسے کو بوریوں میں ڈال کر ذخیرہ کرنے کے لئے روایتی ’’کمیوں‘‘کے بجائے اب عموماََ دیہاڑی دار مزدوروں سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔وہ اپنی محنت کے عوض گندم لینے کے بجائے نقد رقوم وصول کرتے ہیں۔زمیندار اور ’’کمی‘‘ والا روایتی تعلق برقرار نہیں رہا۔
زمین کا ’’کمی‘‘ سے تعلق ہمارے خطے میں صدیوں تک جاری رہا۔ انگریز کی آمد سے قبل زمین کسی فرد کی نہیں بلکہ بادشاہ کی ملکیت تصور ہوتی تھی۔بادشاہ ’’پنج ہزاری‘‘کہلاتے اشراف کے ذریعے مالیہ وصول کرتا تھا۔جس شخص کو ’’جاگیر‘‘ عطا ہوتی اس کی ملکیت موت کے بعد اس کے بیٹوں کو بطور حق منتقل نہیں ہوتی تھی۔ جاگیردار کی موت کے تیسرے دن یہ فیصلہ ہوتا کہ اب عطا ہوئی زمین کس کے سپرد ہوگی۔اسی باعث ہمارے ہاں ’’سوئم‘‘ کی رسم ابھی تک برقرار ہے۔ہندواور سکھ اسے ’’تیجا‘‘ یعنی تیسرا دن کہتے رہے ہیں۔


انگریزوں نے صدیوں سے جاری اس نظام کو بہت ہوشیاری سے ختم کیا تھا۔ ’’بندوبست اراضی‘‘ کے نام پر اس نے وفادار جاگیر دار بنائے۔ زمین ان جاگیرداروں کی ذاتی نہیں بلکہ خاندانی ملکیت بنادی گئی۔یہ باپ کی موت کے بعد بیٹوں کو منتقل ہوجاتی ۔ ’’بندوبست اراضی‘‘ کے علاوہ انگریزوں نے نہری نظام کی بدولت پنجاب میں منٹگمری اور لائلپور جیسے شہر بھی آباد کئے۔ان شہروں میں نئے وفاداروں کو رقبے الاٹ ہوئے۔ان رقبوں پر ’’نقدآور‘‘ فصلیں اُگانے کا عمل شروع ہوا۔’’نقدی‘‘ کی ہوس نے قدیم دیہی نظام کو بتدریج نیست ونابود کردیا۔ماہرین سماجیات اس نظام کوAsiatic Mode of Productionکہا کرتے تھے۔کمیونزم کا بانی کارل مارکس اس نظام کے ہوتے ہوئے ہمارے خطے میں ’’صنعتی انقلاب‘ کی توقع نہیں رکھتاتھا۔یہ انقلاب آتا تو پرولتاری یعنی مزدوروں کی ایک فوج تیار ہوتی جو اس کے خوابوں کے مطابق ’’انقلاب‘‘ برپا کرتی۔
مارکس کے اتباع میں کئی ماہرینِ سماجیات نے ہمیں یہ بھی سمجھایا کہ پاکستان جیسے خطوں میں دیہات ایک خودمختار اکائی ہوتا ہے۔وہاں کے باسی اشراف اور کمیوں کے مابین انسانی حوالوں سے سفاکانہ نظر آتی تفریق کے ہوتے ہوئے بھی وہاں سے نقل مکانی کا تصور بھی ذہن میں نہیں لاتے تھے۔
قیامِ پاکستان کے بعد مگر یہ نظام بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا شروع ہوگیا۔ایو ب خان نے ’’صنعتی انقلاب‘‘ برپا کیا تو دیہات سے شہروں کو نقل مکانی شروع ہوگئی۔ذوالفقار علی بھٹو نے صنعتوں کو قومیانے کے بعد پاسپورٹ ہر پاکستانی کا حق بنادیا تو پٹروڈالر کی وجہ سے عرب ممالک میں لگی رونق نے ’’دوبئی چلو‘‘‘ کی روایت متعارف کروادی۔
رزق کی خاطر پاکستانیوں کی بیرون ملک روانگی کے عمل نے ہمارے ہاں Upward Mobilityکے بے تحاشہ امکانات پیدا کئے۔ان ہی کی وجہ سے ہمارے ہاں ہائوسنگ سوسائٹیز کا کاروبار چمکا۔ دیہات سے غیر ملک گئے ’’کمی‘‘ نے شہروں میں ’’پکے مکان‘‘ بناکر خود کو متوسط طبقے میں بدل ڈالا۔ان کے بچے ان سکولوں میں جانا شروع ہوئے جہاں ’’اسلامیات اور انگریزی‘‘ پہلی جماعت ہی سے لازمی مضمون ٹھہرائے گئے۔
ہمارے دیہات کا ہر باسی مگر بیرون ملک جانہیں سکتا تھا۔ بیرون ملک روزگار کے امکانات کا انتظار کرنے کے بجائے ان کی کثیر تعداد ہمارے شہروں کو منتقل ہونا شروع ہوگئی۔ان شہروں میں اقتصادیات کے ماہرین جسے Serviceکہتے ہیں مہیا کرتے ہوئے انہوں نے اپنی تقدیر سنوارنے کی کوشش کی۔


گزشتہ دو دنوں سے مجھے یہ فکر لاحق ہے کہ کرونا کی وجہ سے ہمارے ہاں معاشی سرگرمیوں میں جمود نما جو کیفیت طاری ہوئی ہے اس کی وجہ سے یہ طبقہ اب اپنی نسبتاََ ’’خوش حالی‘‘ برقرار رکھ پائے گا یا نہیں۔سماجی اور معاشی سوالات کے بارے میں تحقیق کی تربیت مگر مجھے میسر نہیں۔اچھے نمبروں سے پاس ہونے والا طالب علم رہا ہوں مگر گورنمنٹ کالج لاہور سے فراغت کے بعد صحافت کی نذر ہوگیا۔ اس شعبے میں ’’خبر‘‘ ڈھونڈنا ہوتی ہے۔’’تجزیے‘‘ والی دانشوری کے مواقع بھی نصیب ہوجاتے ہیں۔ٹھوس حقائق کی بنیاد پر سماج میں جو تبدیلیاں رونما ہورہی ہوتی ہیں ان کا جائزہ لینے کی صلاحیت نصیب نہیں ہوتی۔
ورلڈ بینک جیسے ادارے تواتر سے متنبہ کررہے ہیں کہ کرونا ہمارے معاشی نظام میں فقط کسادبازاری کو مزید گہرا ہی نہیں کرے گا۔ عام کاروبار بحال کرنے کے لئے بھی کئی برس درکار ہوں گے۔مجھے خدشہ ہے کہ ا ٓئندہ کئی برسوں میں ہمارے ہاں معاشی جمود کی وجہ سے Downward slipکاعمل سنگین تر ہوسکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ محض اتفاق ہو مگر عمران حکومت کے برسراقتدار آنے کے ساتھ ہی یہ عمل شروع ہوگیا تھا۔کسادبازاری کے تدارک پر توجہ دینے کے بجائے حکومت ’’ریاستی کھاتے‘‘ کو ’’سیدھا‘‘ کرنے کی فکر میں مبتلا ہوگئی۔ اسے یقینی بنانے کے لئے IMFکے تیار کردہ نسخے کا اطلاق شروع ہوا۔ کاروبار اس نسخے کے اطلاق کے ساتھ مزید مندی کا شکار ہونا شروع ہوگئے۔بے روزگاری میں اضافہ شروع ہوا۔نوکریوں کو برقرار رکھنے والے تنخواہ دار مگر بجلی،گیس اور پیٹرول کے نرخوں میں بے پناہ اضافہ کی وجہ سے اپنی سفید پوشی برقرار رکھنے کے غم میں مبتلا ہوگئے۔ کرونا کی وجہ سے آئے عذاب نے اس فکر مندی کو سنگین تر بنادیا ہے۔ہمارے سیاستدان اور میڈیا اس پر توجہ دینے کو مگر اب بھی آمادہ نہیں ہورہے۔ مسائل کا ادراک ہونے کے بعد ہی ان کا حل ڈھونڈنے کا سفر شروع کیا جاسکتا ہے۔
Nusrat-Javed-Nawaiwaqt