1965کی جنگ میں اہل لاہور کھانے کی دیگیں پکا کر سولجرز کو کھلانے کے لئے محاذ جنگ کی طر ف روانہ ہو گئے تھے۔

نوٹ : اے رب العالمین ہم پر رحم فرما ۔آمین!

پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ انسان کا پتہ صرف اسوقت چلتا ہے جب اس سے واسطہ پڑتا ہے یعنی : ’’ راہ پیاں جانے یا واہ پیاں جانے‘‘۔ویسے تو ہر آدمی اپنی جگہ پر شیر ہے۔ باتوں سے تو وہ دنیا کا عظیم ترین آدمی دکھائی دیتا ہے لیکن واسطہ پڑنے پر اسکا رویہ کیسا ہوتا ہے وہ اہم ہے۔ اس لئے کہتے ہیں کہ ایک سپاہی کا پتہ میدان جنگ میں چلتا ہے اور سیاستدان کا پتہ اقتدار میں۔ اقتدار سے پہلے تو ہر سیاستدان دعوے اور وعدے کر کر کے سکندر اعظم بن جاتا ہے ۔ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اقتدار ملنے پر یہ شخص ملک میں دودھ ا ور شہد کی نہریں بہا دے گا۔ ملک کو ترقی کی معراج پر پہنچا دے گا مگر اقتدار ملنے کے بعد اسکا رویہ کیسا ہوتا ہے وہ ہم پچھلے71سالوں سے دیکھ بھی رہے ہیں اور بھگت بھی رہے ہیں ۔خوشی ،غمی،دکھ،سکھ ،غربت اور امارت سب زندگی کا حصہ ہیں مگر ان حالات میں انسان کا رویہ کیسا رہتا ہے سب سے اہم ہے۔ یہی حال ایک قوم کا ہے۔ اچھا اور برا وقت قومی تاریخ کا حصہ ہے ۔ان حالات میں کامیابی یا ناکامی کا تمام تر دارومدار قوم کے رویے پر ہوتا ہے۔ 1965کی جنگ میں پوری قوم مکمل طور پر فوج کے پیچھے کھڑی ہو گئی تھی۔ خواتین نے اپنے زیورات تک ڈیفنس فنڈ میں دے دئیے تھے۔ اہل لاہور کھانے کی دیگیں پکا کر سولجرز کو کھلانے کے لئے محاذ جنگ کی طر ف روانہ ہو گئے تھے۔ قوم کا جذبہ قابل تحسین تھا۔بنگالی سولجرز بھی بہت جذبے اور بہادر ی سے لڑے تو قوم کے اس جذبے نے اپنے سے بہت بڑے دشمن کو شکست دے دی۔ 1971میں قوم منقسم اور بد دل تھی لہٰذا پاکستان ٹوٹ گیا۔ جب جذبہ بیدار ہوتا ہے تو313آدمی بھی ہزار پر بھاری ہوتے ہیں ورنہ ناکامی مقدر بنتی ہے۔

اسوقت کرونا نے پوری دنیا کو بے بس کر دیا ہے۔ یہی حال پاکستان کا ہے۔ اگر تو ہم بطور قوم متحد ہو کر 1965والے جذبے سے اسکا مقابلہ کریں تو یقیناً ہم کامیاب ہو سکتے ہیں ۔قوم کا جذبہ کسی بھی جنگ میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ اسوقت قوم کا اتحاد اور جذبہ ہی ہمارے سب سے بڑے ہتھیار ہیں۔ کہتے ہیں ہر مصیبت میں کئی انسانی یا قومی خامیاں کھل کر سامنے آتی ہیں۔ اسوقت بھی دو ایسی قومی خامیاں کھل کر سامنے آئی ہیں جس نے تمام محب وطن اشخاص کو پریشان کر دیا ہے۔پہلی خامی تو یہ کہ آج71سال آزادی کے بعد بھی ہم اتنے ہی بڑے بھکاری ہیں جتنے ہم1947میں تھے۔اسوقت کی بھیک تو سمجھ آتی ہے کہ ہمارے پاس کچھ نہیں تھا مگر آج کی بھیک ایک لعنت کے سوا کچھ نہیں ۔ہمارے ساتھ یا ہم سے بعد میں آزاد ہونے والے ملک ترقی کر کے کہیں کے کہیں پہنچ چکے ہیں مگر ہم ۔۔۔بنگلہ دیش ہمارا ہی حصہ تھا اور ہم اسے ایک بوجھ سمجھتے تھے مگر ہم سے علیٰحدہ ہو کر آج وہ کہاں ہے اور ہم کہاں ہیں؟ ہمیں شرم آنی چاہیے اپنی کارکردگی پر۔کرونا سے لڑنے کے لئے نہ ہمارے پاس ماسک ہیں نہ حفاظتی ڈریس۔نہ وینٹی لیٹرز اور نہ ادویات ۔ہمیں ہر چیز کی چین اور دیگر ممالک سے بھیک مانگنی پڑی۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہم ایک عام سا ماسک بھی نہیں بنا سکتے۔ کہنے کو ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں۔ مسلم لیگ ن نے اپنے دور حکومت میں پاکستان کی شاندار ترقی کے دعوے کر کر کے عوام کے دماغ خراب کر دئیے ہیں۔ آج جب ضرورت پڑی ہے تو وہ ترقی کہیں نظر نہیں آتی۔

ہماری دوسری کمزوری یہ ظاہر ہوئی ہے کہ ہم اخلاقی طور پر بہت گر چکے ہیں۔1947میں جب پاکستان بنا تھا تو اتنی زیادہ مساجد نہ تھیں نہ اتنے زیادہ علماء تھے اور نہ ہی اتنے زیادہ مدارس۔ آج ان سب چیزوں کی بہتات ہے۔ ہر چند قدم پر مسجد نظر آتی ہے ۔نماز اور عبادت کا رحجان بھی پہلے سے زیادہ ہے۔ علماء کی تو پوری ایک فوج موجود ہے۔ مدارس بھی بے شمار ہیں۔ ان میں سے کئی ایک کے لئے تو باہر سے امداد بھی آتی ہے ۔علماء کرام سیاست میں بھی ہیں۔ ذاتی بنگلوں ،قیمتی کاروں ،پیجیروز اور زندگی کی ہرآسائش انہیں میسر ہے۔نوکروں اور پیروکاروں کی فوج ظفر موج بھی موجود ہے۔ کچھ نے تو فوج کی طرح اپنی ڈنڈا بردار فورس بھی بنا رکھی ہے۔ بڑے بڑے مجمعوں سے خطاب کرتے ہیں ۔اسی طرح یہاں پیر بھی بہت ہیں اور مرید بھی بہت ہیں۔ ہر شہر میں کئی کئی زندہ پیر موجود ہیں۔ پیروں کے دربار اور عرس کی تعداد بھی بے شمار ہے۔ہر دربار کا متولی خاندان دربار کی آمدن سے نہ صرف پر تعیش زندگی گزارتا ہے بلکہ سیاست میں آکر اقتدار کے مزے بھی لوٹتا ہے۔ یہ وہ عوامل ہیں جن کی موجودگی میں مسلمانوں میں اسلام کی شمع روشن ہونی چاہیے تھی۔ اسلامی جذبہ نا قابل شکست ہونا چاہیے تھا۔اسلام کی شمع روشن ہونے سے ہمارا کردار اعلیٰ ہونا چاہیے تھا ۔مگر افسوس کہ1947 میں یہ سب عوامل نہ تھے اگر تھے بھی توبہت کم تھے مگر مسلمانوں میں نیکی کا جذبہ بدرجہ اتم موجود تھا۔ ان میں انسانیت تھی ۔ہمدردی تھی۔ بھائی چارہ تھا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا تھا ۔آج جب ہرقسم کے اسلامی عوامل کثرت سے موجود ہیں تو1947والا جذبہ مفقود ہو چکا ہے۔ مصیبت کی اس گھڑی میں اسلامی جذبہ ہماری بہت بڑی ڈھال ثابت ہو سکتا تھا۔ ہم اس موذی مرض کا دلیری سے مقابلہ کر سکتے تھے مگر افسوس کہ اسلامی جذبے سے محرومیت کی وجہ سے ہم خوف خدا سے بھی محروم نظر آتے ہیں۔ نتیجتاً اس تکلیف دہ گھڑی میں اتحاد، ہمدردی اور بھائی چارے کی بجائے ملک میں ڈاکہ زنی ،سٹریٹ کرائمز،لوٹ مار اور سب سے بڑھ کر ذخیرہ اندوزی ،بلیک مارکیٹنگ اور مہنگائی بڑھ چکی ہیں جس نے غریبوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔حکومت بھی اپنی جگہ پر بے بس ہے۔ عام آدمی کو تو چھوڑیں بڑے بڑے طاقتور لوگ زیادہ ظالم اور بے رحم ثابت ہوئے ہیں۔ان لوگوں نے چینی اور آٹا تک غائب کر دئیے جو اس مہنگائی اور بلیک مارکیٹنگ کی بنیاد ثابت ہوئے۔

یاد رہے کہ ترکی کے صدر جناب رجب طیب اردوان نے سات ماہ کی تنخواہ عطیہ کی ہے۔ بھارت میں امبانی اور ٹاٹا گروپ میں سے ہر ایک نے پانچ پانچ سو کروڑ عطیہ میں دئیے ہیں۔ پاکستان کے صنعت کار حسین دائود نے ایک ارب روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ جناب پرویز الہی نے ڈھائی کروڑ دئیے ہیں۔ مخیر حضرات بھی دل کھول کر غریبوں کی مدد کر رہے ہیں مگر ہمارے یہ عظیم لیڈرز دکھ کی اس گھڑی میں نجانے کیوں سین سے غائب ہیں؟
Sikander-Khan-Baloch-Nawaiwaqt