گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور ان کی اہلیہ جو کام پہلے برطانیہ میں کرتے تھے اب پاکستان میں بھی کرنے لگے ہیں

پوری دنیا اس وقت کرونا وباء کی زد میں ہے۔ اس ناگہانی آفت سے دنیا بھر میں بیس لاکھ افراد متاثر جبکہ سوا لاکھ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی اس وباء کے پھیلائو کو روکنے کیلئے لاک ڈائون جاری ہے۔اس وباء کے باعث 14مارچ 2020ء سے تمام تعلیمی اداروں کو بند اور ہر طرح کے امتحانات ملتوی کر دیے گئے۔ بعض تعلیمی اداروں میں ابھی نئی کلاسز کا آغاز ہوا تھا جبکہ متعدد تعلیمی اداروں میں ابھی امتحانات ہونا باقی تھے۔ ایسے میں تعلیمی ادارے بند کر دینے سے تعلیمی بحران جنم لینے لگا تھا چنانچہ اس بحران پر قابو پانے کیلئے وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت اور پاکستان ٹیلی وژن کے اشتراک سے ملک کے پہلے تعلیمی چینل ’’ٹیلی سکول‘‘ نے اپنی نشریات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ ملک بھر سے والدین اور طلباء نے تعلیم کی فراہمی کے متبادل ذرائع کے طور پر ٹی وی چینل کے قیام کی حکومتی کاوش کو سراہا ہے۔ چینل کے قیام کا مقصد کورونا وائرس کی عالمی وباء کے باعث بند ہونے والے پاکستان کے سکولوں کے طلباء کو گھر میں تعلیم کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ چینل نے اپنی نشریات کا آغاز منگل کی صبح 8 بجے کیا جو کہ شام 6 بجے تک جاری رہیں۔ 10 گھنٹے کی نشریات میں پہلی جماعت سے 12ویں جماعت تک کا نصاب پڑھایا جا رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اس چینل کا افتتاح کیا، اس موقع پر ان کا کہنا تھا ٹیلی سکول ٹی وی سے گھروں میں محدود بچوں اور دور دراز علاقوں کے لوگوں کو تعلیم کی سہولت میسر آئے گی، ٹیلی سکول ٹی وی سے تعلیم بالغاں کو بھی فروغ دیا جاسکتا ہے، ٹیلی سکول میں بہتری کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس اہم اقدام پر وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت اور وزارت اطلاعات ونشریات کا شکرگزار ہوں اور انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث مشکل حالات کا سامنا ہے، بچے گھروں میں محدود ہیں اس ٹیلی سکول ٹیلی ویژن سے انہیں تعلیم کے حصول میں مدد ملے گی۔ کورونا کی صورتحال میں بہتری کے بعد بھی امید ہے کہ یہ چینل کام کرتا رہے گا۔ ایسے دور دراز دیہی علاقے جہاں ابھی تک اساتذہ نہیں پہنچے ان علاقوں کیلئے یہ بہترین ذریعہ تعلیم ثابت ہوسکتا ہے۔ اس ٹیلی سکول کو تعلیم بالغاں کیلئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے ملک میں بچوں کی بڑی تعداد سکولوں سے باہر ہے۔ اس ذریعے سے ان کو بھی تعلیم کی فراہمی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔ ابھی کسی کو معلوم نہیں ہے کہ کورونا کی یہ صورتحال کتنا عرصہ موجود رہے گی۔ ٹیلی سکول میں بہتری کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے کیونکہ آگے بڑھنے کا یہی راستہ ہے جب تک دور دراز علاقوں میں انفراسٹرکچر نہیں بنتا اس ذریعے سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں دو کروڑ سے زائد بچے سکول نہیں جاتے۔ ملک میں شرح خواندگی 60 فیصد ہے۔ شہریوں کی موبائل تک رسائی کے بعد ان کی تعلیم میں دلچسپی بڑھی ہے۔ دیہی علاقوں میں ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم کی فراہمی سے شرح خواندگی میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ چینل کی نشریات سے ملک میں معیاری تعلیم کے فروغ، اساتذہ کی کمی کو دور کرنے اور ان کے تربیت میں بھی مدد ملے گی۔

تعلیمی چینل ’’ٹیلی سکول‘‘ کا آغاز ایک خوش آئند اقدام ہے اور تعلیم کو عام کرنے کیلئے مزید عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ، دو تین ٹی وی چینل صرف تعلیمی سرگرمیوں کیلئے وقف کر دیے جائیں اور پرائمری تعلیم پر خاص توجہ دی جائے۔حکومت ان اقدامات کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کرے تاکہ ہر کوئی اس سے استفادہ کر سکے اور بچوں کا تعلیمی نقصان نہ ہو۔ اس چینل کے آغاز کے پہلے روز ہی اس کو عوام اور خاص طور پر طلباء کی جانب سے زبردست پذیرائی ملی۔ طلباء کا کہنا ہے کہ تعلیمی سال کے آغاز پر ہی ان کے سکول کورونا وائرس کی وباء کے باعث بند کر دیئے گئے۔ اب جبکہ لاک ڈائون کے تین سے چار ہفتے ہو گئے ہیں وہ اپنے گھروں میں بیٹھے بیٹھے تنگ آگئے تھے اور ایسے میں یہ ٹی وی چینل ان کے مثبت مصروفیات کیلئے ایک بہترین ذریعہ ہے۔ والدین کا بھی کہنا تھا کہ جب سے لاک ڈائون کی وجہ سے سکول و کالج بند ہوئے ہیں ان کے بچے گھر پر فارغ بیٹھے تھے۔ انہیں ٹیلی سکول کی نشریات بہت پسند آئیں، ان نشریات میں بہتر اور آسان طریقے سے چیزوں کو سمجھایا جا رہا ہے۔ موجوہ صورتحال میں ہم اپنے بچوں کی وجہ سے بہت پریشان تھے۔ سکول آن لائن اسائنمٹس تو بھجوا رہے ہیں لیکن ان اسائنمنٹس کو تیار کرانا والدین کیلئے بہت مشکل تھا۔ یہ تعلیمی چینل اس صورتحال میں ایک بہترین کاوش ہے اور اس سے طلباء اور والدین دونوں کو آسانی ہو گی۔ ہمارے ہاں پبلک اور پرائیویٹ دونوں شعبوں میں تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی کا سامنا ہے جو کہ تعلیم کے معیار میں کمی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ دیہاتی علاقوں میں باصلاحیت اور تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی کا مسئلہ اور بھی سنگین ہے، ٹی وی چینل کی رسائی ہر جگہ ہوتی ہے اس لئے ان علاقوں کے طلباء کو اس سے اور بھی زیادہ فائدہ حاصل ہو گا۔

کرونا وباء کے باعث ملک میں جاری لاک ڈائون میں کچھ نرمی کے ساتھ 30اپریل تک توسیع کر دی گئی ہے۔ اس ناگہانی آفت میں ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہئے ، ہم میں سے ہر ایک کو بارگاہ الٰہی میں اپنے گناہوں سے توبہ کرنی چاہئے ۔ یہ وباء کب تک جاری رہے گی یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔ تاہم مجھے ایک روحانی شخصیت نے بتایا ہے کہ پاکستان میں اس کا دورانیہ 120دن ہو گا اور یہاں پہلا مریض26فروری کو رجسٹر ہوا اس طرح دیکھا جائے تو 25جون تک یہ وباء جاری رہ سکتی ہے۔ مشکل کی اس گھڑی میں بعض مخیر حضرات دل کھول کر خرچ کر رہے ہیں۔ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور اور ان کی اہلیہ برطانیہ میں اپنی مدد آپ کے تحت سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ہیں ، وہ اس کام کو پاکستان میں بھی فروغ دے رہے ہیں ۔ اس وقت چودھری محمد سرور متعدد رضاکار سماجی تنظیموں کی رہنمائی اور سرپرستی کر رہے ہیں۔ پاکستانی قوم میں ایثاروقربانی کا بڑا جذبہ ہے اور مصیبت کی ہر گھڑی میں انہوں نے دل کھول کر عطیات دیے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ایسی سماجی رضا کار تنظیموں کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری مسلح افواج ہمارے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ بخوبی انجام دے رہی ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں بھی وہ عوام کے شانہ بشانہ نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ تاہم ہماری پولیس کی کارکردگی بھی قابل ستائش ہے۔ پولیس اہلکار ناکوں پر عوام الناس سے اچھے اخلاق سے پیش آ رہے ہیں اور ابھی تک کوئی بڑی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ اعلیٰ پولیس اہلکار بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم کا ہر فرد اپنی ذمہ داری کا احساس کرے اور اس اللہ سے دعا ہے کہ اس مصیبت سے ہم ایک مضبوط قوم بن کر ابھریں
Shahid-Rasheed-Nawaiwaqt