سات منٹ تک وزیراعظم کے دفتر میں بیٹھے رہے تو عمران خان نے پہنچانا ہی نہیں اور کوئی بات نہیں کی۔ ایک صنعتکار نے وزیر اعظم سے متعارف کروایا کہ یہ ایدھی صاحب کے بیٹے ہیں،

اکستان کے معروف فلاحی ادارے ایدھی فاونڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی اور ان کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کے دوران وزیراعظم نے انھیں پہچانا ہی نہیں۔فیصل ایدھی نے ایک نجی چینل کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں اپنی ملاقات کے بارے میں بتایا کہ وہ چھ سے سات منٹ تک وزیراعظم کے دفتر میں بیٹھے رہے تو عمران خان نے انھیں پہنچانا ہی نہیں اور ان سے کوئی بات نہیں کی۔ اس دوران وزیراعظم اس وقت کورونا فنڈ میں ہی عطیہ کرنے کرنے آئے دو صنعت کاروں سے بات کرتے رہے۔فیصل ایدھی نے بتایا کہ جب ملاقات ختم ہوئی اور سب لوگ اٹھ کر جانے لگے تو اُن میں سے ایک صنعتکار نے انھیں وزیر اعظم عمران خان سے متعارف کروایا کہ یہ ایدھی صاحب کے بیٹے ہیں، جس کے بعد وزیراعظم نے ان سے ’دروازے پر آدھے منٹ کی‘ بات کی۔فیصل ایدھی کہتے ہیں کہ اس دوران انھوں نے وزیراعظم سے کہا کہ فلاحی کاموں کے لیے ایدھی فاؤنڈیشن کی درآمدات پر ٹیکس کی چھوٹ اور ایدھی یونیورسٹی کے چارٹر کی درخواستیں کیں۔ یاد رہے کہ عبدالستار ایدھی کی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب انہیں اس بات کا خطرہ محسوس ہو گیا تھا کہ انہیں مار دیا جائے گا تب وہ اچانک سب کچھ چھوڑ کر لندن چلے گئے تھے ۔بعد میں یہ حقیقت سامنے آئی تھیں کہ انہیں خطرہ تھا کہ ان کو مارا جائے گا اور ایک پریشر گروپ تھا جو ان سے کچھ کام لینا چاہتا تھا ۔کافی دنوں بعد  نام سامنے آئے تھے ان میں ایک نام آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل کا تھا اور دوسرا نام سیاست میں نووارد عمران خان کا تھا