عمران خان کی انا کا بت کیسے ٹوٹا ؟ خود عمران خان کا اپنے بارے میں انکشاف

عمران خان نے ٹویٹ میں دولت مند ممالک اور عالمی اداروں کو غریب اقوام کے قرضے معاف کرنے کا مشورہ دیا تو ناقدین نے مذاق اڑایا‘ کپتان کے صائب مشورے کو بے وقت کی راگنی قرار دیا۔ کورونا وائرس نے مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک ہر طرف پنجے گاڑے‘ بیس لاکھ انسانوں کو جکڑ لیا اور امریکہ و یورپ کی طاقتور معیشت لڑکھڑانے لگی تو پاکستان کے وزیر اعظم نے مختصر خطاب میں ایک بار پھر اپنا مطالبہ دہرایا ‘ عالمی رہنمائوں کے علاوہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری اور مالیاتی اداروں کے سربراہوںسے کہا کہ وہ ترقی پذیر ممالک کے قرضے معاف یا ری شیڈول کر دیں ‘تاکہ وبا سے پہنچنے والے معاشی نقصان کا ازالہ ممکن ہو سکے ‘مقروض ممالک قرضوں کی ادائیگی سے بے فکر ہو کر اپنے وسائل کورونا کے متاثرین پر خرچ کر سکیں۔ مخالفین نے ایک بار پھر طعن و تشنیع کو شعار کیا‘ ملک کے وزیر اعظم کو بھکاری تک کہہ ڈالا حالانکہ عمران خان اپنے لئے کچھ مانگ رہا تھا نہ اپنی جماعت کے لئے مالی امداد کا خواستگار۔ پاکستان ماضی کے ’’تجربہ کار‘‘ ‘ ’’عوام دوست‘‘ اور اقتصادیات و معیشت کے شعبے میں خصوصی مہارت کے دعویدار حکمرانوں کی بدولت ایک سو ارب ڈالر کا مقروض ہے اور سالانہ صرف بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لئے اسے بارہ ارب ڈالر کی خطیر رقم درکار ہوتی ہے جس کی ادائیگی کے لئے حکومت مزید قرضے لیتی ہے۔ یہ ایسا شیطانی گورکھ دھندا ہے جو حکومت کو تعلیم اور صحت پر زیادہ وسائل خرچ کرنے کی اجازت دیتا ہے نہ غریب اور نادار طبقے کی فلاح و بہبود اور بحالی کے لئے غیر معمولی اقدامات کا موقع۔ عمران خان نے چند روز قبل اپیل کی تو مجھے شاکر شجاع آبادی یاد آئے ؎ توں محنت کر ‘تے محنت دا صلہ جانے‘ خدا جانے توں ڈیوا بال کے رکھ چا‘ ہوا جانے‘ خدا جانے (تم صلہ و ستائش سے بے نیاز محنت جاری رکھو اور معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دو کہ وہ جانے اور محنت کا صلہ جانے‘ تم چراغ جلا کر راستہ روشن کرتے جائو‘ہوا کی فکر نہ کرو کہ وہ دیا بجھا دے گی‘ ہوا جانے اور خدا جانے) محنت واقعی رائیگاں نہیں گئی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے عمران خان کی قلندرانہ صدا کو آگے بڑھایا‘ جی 20نے کان دھرا اورترقی پذیر ممالک نے قرضوں کی وصولی ایک سال کے لئے موخر کر دی ‘ ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف پاکستان کے لئے خصوصی پیکیج کی منظوری دے چکے ہیں اور عالمی مالیاتی اداروں اور جی ایٹ کے فیصلوں کے مطابق پاکستان کم از کم اس سال قرضوں کی قسطیں دینے کا پابند نہیں‘ ایک اور زاویے سے معاملے کو دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے ‘عمران خان نے ملک کے غریب‘ نادار اور دیہاڑی دار طبقے کے لئے آٹھ ارب ڈالر کا فنڈ مختص کیا‘ قدرت کی طرف سے معاشی گرداب میں گھری حکومت کو کم و بیش بارہ ارب ڈالر کا ریلیف مل گیا‘ یہ محض اتفاق نہیں‘ قدرت کا عجب انداز ہے بقول نظیر اکبر آبادی ؎ تو اور کی تعریف کر‘ تجھ کو ثنا خوانی ملے کر مشکل آساں اور کی‘ تجھ کو بھی آسانی ملے روٹی کھلا روٹی ملے‘ پانی پلا‘ پانی ملے کلجُگ نہیں‘ کر جگ ہے یہ‘ یاں دن کو دے اور رات لے کیا خوب سودا نقد ہے‘ اس ہاتھ دے‘ اُس ہاتھ لے یہ تو شاید مبالغہ آرائی ہو کہ دنیا کے دولت مند ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں کو ترقی پذیر ممالک کی امداد کا شوق عمران خان کی تقریر سن‘ ٹویٹ پڑھ کر چرایا‘ کئی اور عوامل یقینا کارفرما ہوں گے‘ اس حقیقت سے انکار مگر ممکن نہیں کہ پہل پاکستان کے وزیر اعظم نے کی اور یہ تاثر ابھرا کہ عمران خان ویژنری سوچ کا مالک سیاستدان ہے جسے اپنے ملک اور عوام کے علاوہ غریب اور ترقی پذیر ممالک اور ان کے ستم رسیدہ ‘مفلوک الحال شہریوں کی فکر ہے اور وہ عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانے میں جھجک محسوس کرتا ہے نہ امداد کی اپیل سے احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے‘ عمران خان نے اپنی کتاب ’’میں اور میرا پاکستان‘‘ میں چند واقعات لکھ کر اعتراف کیا کہ اللہ تعالیٰ نے میری انا کا بُت توڑنے کے لئے غریب و متوسط طبقے اور چھوٹے چھوٹے بچوں سے شوکت خانم ہسپتال کے لئے عطیات جمع کرنے کی راہ پر ڈالا اور کامیابی کی راہ ہموار کی‘ شوکت خانم ہسپتال کے لئے دس دس بیس بیس روپے کے عطیات جمع کرنے والے عمران خان کو اپنے ملک اور عوام کے لئے کسی دولت مند ریاست اور عالمی ادارے کے روبرو ہاتھ پھیلانے میں کیا جھجک ہو سکتی ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ پاکستان کے حکمران کی اپیل رائیگاں نہیں گئی اور صرف پاکستان نہیں‘ دیگر کئی غریب اور ترقی پذیر ممالک کو بھی ریلیف مل گیا‘ ع توں ڈیوا‘ بال کے رکھ چا‘ ہوا جانے‘ خدا جانے باقی دنیا کی طرح کورونا نے پاکستان کو بھی معاشی میدان میں چاروں شانے چت کر دیا ہے۔ شرح نمو میں پریشان کن حد تک کمی‘ بے روزگاری میں اضافہ ‘پیداواری سرگرمیوں میں تعطل اور فی کس آمدنی میں زوال ایسے عوامل ہیں جس سے عہدہ برا ہونا آسان نہیں‘ لیکن خوش قسمتی سے ہماری زرعی معیشت اس چیلنج سے نمٹنے کی اہل ہے‘ برطانیہ جیسے ترقی ممالک کی حالت زیادہ ابتر ہے جو اشیائے خورو نوش کے لئے دوسروں کے محتاج ہیں‘ غربت‘ علاج معالجے کی ناکافی سہولتوں‘ تپ دق‘ ملیریا اور دوسری متعدی امراض کی موجودگی اور بار بار ادویات کے استعمال اور کم تر معیار زندگی نے کورونا سے مقابلے میں اہم کردار ادا کیا‘ قوت مدافعت کام آئی اور آج تک کورونا ہم پر اس طرح حاوی نہیں‘ جس طرح اس نے امریکہ‘ اٹلی‘ سپین‘ فرانس‘ برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کو اپنی گرفت میں لیا‘ اللہ نے چاہا تو ہماری زرعی معیشت بھی معاشی بحران سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو گی کہ برآمدات کا انحصار بھی زراعت پر ہے اور بھوک کا علاج بھی مقامی طور پر پھلوں‘ سبزیوں‘ اجناس کی پیداوار میں پنہاں‘ قدرت نے ہمارے فیصلہ سازوں کو یہ سوچنے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے کہ وہ وسائل کا رخ دیہی آبادی اور زرعی معیشت کی طرف موڑیں اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی کچھ عرصہ تک ایجاد و اختراع کا محور زراعت رہے یاطب و تعلیم۔ محدود شہری طبقے کے بجائے اکثریتی دیہی آبادی کے لئے تعلیم و صحت کی بہترین سہولتیں اور اسے معاشرے کا مفید پیداواری یونٹ بنانے کی تگ و دو ۔خود کفالت و خود انحصاری کی منزل حاصل کرنے کا بہترین راستہ بھی یہی ہے ۔کوشش کر دیکھیں اللہ تعالیٰ برکت ڈالے گا‘ لیکن سب سے اہم خلوص نیت اور اللہ تعالیٰ سے مانگنے کی پختہ عادت ہے‘ ادنیٰ سے اعلیٰ اور حکمران سے عام شہری تک دست بدعا رہے کہ یااللہ !آزمائش کی اس گھڑی میں ہمیں سرخرو فرما ؎ اے پوری تھیوے نہ تھیوے مگر بے کار نئیں ویندی دعا شاکر توں منگی رکھ‘ دعا جانے خدا جانے-Irshad-Ahmed-Arif-daily92