ظفر مرزا پر 50بڑی ادویہ ساز کمپنیوں کے کارٹل کی پشت پناہی کا الزام

پاکستان ینگ فارما سسٹس ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا پر اختیارات کے ناجائز استعمال، کرونا بحران سے نمٹنے میں نااہلیت ،بدعنوانی ،منی لانڈرنگ ،سمگلنگ اور کک بیکس کے ذریعے قومی خزانے کو لوٹنے اور شہریوں کی صحت سے کھیلنے کے الزامات عائدکرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان ،مسٹر جسٹس گلزار احمد سے از خود نوٹس لینے کی استدعا کی ہے۔ پاکستان ینگ فارما سسٹس ایسوسی ایشن نے کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر فرقان ابراہیم نے جمعرات کے روز چیف جسٹس کے نام لکھے گئے ایک خط/درخواست میں بیان کیاہے کہ ڈاکٹر ظفر مرزا ʼʼنیٹ ورک آف کنزیومر پروٹیکشن” کے نام سے ایک این جی او چلا تے رہے ہیں اور وہ کئی سال تک مصر میں عالمی ادارہ صحت سے درمیانی سطح پر منسلک بھی رہے ہیں لیکن وہ کبھی بھی مصر میں ڈبلیو ایچ او کے کنٹری ہیڈ نہیں رہے۔ انہوں نے اسرائیل سمیت مختلف ممالک میں ڈبلیو ایچ او کے اجلاسوں میں شرکت کی ہے اور وہ اسرائیل کا بھی متواتر سفرکرتے رہے ہیں۔درخواست گزار نے بیان کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے سابق وزیر صحت عامر کیانی کی جانب سے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ادویات کی قیمتیں 4سو فیصد تک بڑھانے کی پاداش میں انہیں فارغ کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا کومعاون خصوصی برائے صحت مقرر کیا تھا اور انہیں 72 گھنٹوں کے اندر اندر ادویات کی قیمتیں کم کرنے کا حکم دیا تھا ،لیکن انہوںنے آج تک اس میں کوئی کمی نہیں کروائی تاہم وہ دعویٰ ضرور کرتے رہے کہ نہ صرف قیمتیں کم ہونگی بلکہ ذمہ دار ادویہ ساز کمپنیوں کے عہدے دار وں سے لوٹی گئی رقوم واپس لیکر بیت المال میں جمع کروائی جائے گی اور ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی ۔ درخواست گزار نے کہا ہے کہ ان پر الزام ہے کہ یہ 50بڑی ادویہ ساز کمپنیوں کے کارٹل(گٹھ جوڑ) کی پشت پناہی کررہے ہیں اور انہیں سہولیات دیکر ان سے اربوں روپے رشوت لے رہے ہیں، یہ ادویات کی قیمتیں کم نہ کروا کر موجودہ حکومت کے لیے بدنامی کا باعث بھی بن رہے ہیں،درخواست گزار نے کہا ہے انہوںنے پی ایم ڈی سی کو ختم کرتے ہوئے پی ایم سی آرڈیننس کا اجراء کروا کر پاکستان کا صحت کا سارا نظام ہی بگاڑ دیا ہے اور اسی بناء پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسے کالعدم قرار دیا ہے ،اور اسی خرابی کی وجہ سے آج ہزاروں میڈیکل گریجویٹس رجسٹریشن کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں، درخواست گزار نے کہا ہے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کرونا وائرس کا معاملہ سامنے آتے ہیں 20 ملین فیس ماسک اور حفاظتی سامان بیرون ملک سمگل کروایا ہے ،جس وجہ سے پاکستان میں ان کی شدید قلت ہے ،اور عدم دستیابی کی بناء پر بہت سے ڈاکٹروںنے کام کرنا ہی چھوڑ دیا ہے اور کئی مریض بغیر علاج کے ہی مر گئے ہیں، اس سکینڈل کے حوالے سے جہاںایف آئی اے کی جانب سے انکوائری کی جارہی ہے وہیں پر آپ (چیف جسٹس پاکستان) نے بھی ان کی نااہلی اور بدعنوانی کا نوٹس لیا گیاہے ، جس کے بعد انہوںنے سوشل میڈیا پر آپ کے خلاف توہین آمیز مہم شروع کروادی ہے ،جس پر وزیر اعظم نے ایکشن لیتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے کو سخت کارروائی کرنے کا حکم جاری کیا ہے ،درخواست گزار نے کہا ہے کہ ڈاکٹر ظفر مرزا کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کی منظوری اور ٹیسٹنگ کے بغیر ہی3 ارب روپئے کی ٹائیفائڈ ویکسین انڈیا سے پاکستان درآمد کی گئی ہے ،جس سے انہوںنے 2.5ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی ہے ،اور اس حوالے سے بھی ایف آئی اے تحقیقات کررہی ہے۔درخواست گزار نے کہا ہے کہ ڈاکٹرظفر مرزا نے کرپشن میں ملوث شیخ اختر حسین اور انکے بعد پھر عاصم روئف کو ڈریپ کا سی ای او لگایا ہے جبکہ اس بدعنوانی کی نشاندہی کرنے پر ڈاکٹر عبید اور روحی بانو کو ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا ہے-Jang-report