سندھ حکومت نے 8 ارب کی مالیت کا راشن کہاں سے خریدا اور اسے عوام میں تقسیم کرنے کے ثبوت بھی فراہم نہیں کیے-

میں نے آج کالم لکھتے وقت یہ سوچا تھا کہ میں ان عظیم المرتبت شخصیتوں کا ذکر کروں گا جو ہمارے قومی افق پر کارہائے نمایاں کی ست رنگی قوس قزح کھلا کر ہم سے جدا ہوتے جا رہے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد چپکے سے یہ دنیائے فانی چھوڑ گئے جو اپنی زندگی کے آخری لمحے تک تحریک پاکستان کی حیات آفریں یادوں کے چراغ فروزاں کیے رہے۔

انہی دنوں ڈاکٹر مبشر حسن اللہ کو پیارے ہو گئے۔ ان کی رہائش گاہ پردسمبر1967میں مسٹر بھٹو کی سربراہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

ڈاکٹر صاحب کا مولانا الطاف حسین حالی کے خانوادہ سے تعلق تھا اور ان کی شخصیت میں ایک تہذیبی رچاؤ پایا جاتا تھا۔ اسی طرح ہمارے عہد کےایک بڑے شاعر اور جدید رنگ کے نثرنگار جناب حفیظ الرحمٰن احسن بڑی خاموشی سے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے جنہوں نے ’محسن انسانیت‘ کے نابغۂ روزگار مصنف جناب نعیم صدیقی کے ساتھ نظریاتی رفاقت کا حق ادا کیا۔ اور یہ تو چند روز پہلے کی بات ہے کہ مولوی سعید اظہر نہایت موذی مرض سرطان کی اذیتیں برداشت کرتے کرتے موت کی آغوش میں چلے گئے۔

ان کی پہلی محبت سید ابوالاعلیٰ مودودی اور آخری ذوالفقار علی بھٹو تھی۔ وہ ذہانت، معصومیت اور ظرافت کے ایک حسین پیکر تھے۔ ان بلند کردار ہستیوں کی تصویریں میرے چشمِ تصور کے سامنے بار بار آتی رہیں اور دوسری طرف کورونا کے بطن سے جنم لینے والے گمبھیر مسائل میرے قلم پر پوری قوت سے حملہ آور ہو رہے تھے۔ میں نے سوچا زندہ رہنے والی شخصیتوں پر دو چار ماہ بعد بھی تفصیل سے لکھا جا سکتا ہے جبکہ اپنے ہم وطنوں کو یہ احساس دلاتے رہنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں زندگی کی حفاظت کا راز مضمر ہے۔

ہمیں خدائے بزرگ و برتر کے حضور میں سجدہ شکر بجا لاتے رہنا چاہیے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ اور اموات کی تعداد مغربی ممالک کے مقابلے میں بڑی محدود رہی مگر اس جان لیوا وائرس کی روک تھام کے لیے ہماری مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی غیر تسلی بخش کارکردگی کا فاضل چیف جسٹس جناب گلزار احمد نے پہلا سوموٹو نوٹس لے لیا ہے اور معاملے کی سنگینی کا جائزہ لینے کے لیے پانچ رکنی لارجر بنچ تشکیل دیا ہے۔

فاضل جج صاحبان نے اٹارنی جنرل اور سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل سے جس نوعیت کے سوالات پوچھے ہیں اور جس لب و لہجے میں متعدد ریمارکس دیے ہیں، انہوں نے سنجیدہ قومی حلقوں میں بڑی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ سوالات کا تعلق گورننس، اسلوبِ حکومت اور کورونا وائرس کے حوالے سے حکومتوں کی کارگزاری سے ہے۔

جسٹس قاضی امین نے واضح کیا کہ مشیروں کو وزیروں کا درجہ دے دیا گیا ہے اور مبینہ کرپٹ لوگ مشیر لگا دیے گئے ہیں جنہوں نے کابینہ پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ ریمارکس بھی دیے گئے کہ اتنی بڑی کابینہ سے یہ لگتا ہے کہ وزیراعظم کچھ جانتے ہی نہیں۔ اس کے علاوہ فاضل عدالت نے مشیرِ صحت ظفر مرزا کے بارے میں استفسار کیا ہے کہ ان کی تعلیمی قابلیت اور اہلیت کیا ہے، وہ تو عدالت کی ہدایات پر عمل ہی نہیں کر رہے اس لئے انہیں فارغ کر دینا چاہیے۔

جسٹس عطا بندیال نے ہسپتالوں میں اس افسوسناک حالت کی نشاندہی کی کہ ڈاکٹر اور میڈیکل اسٹاف حفاظتی لباس اور آلات سے محروم چلے آرہے ہیں اور عام آدمی سے حفاظتی کٹس مانگ رہے ہیں۔

یہی حال صفائی کرنے والے عملے کا ہے، جسے حفاظتی سامان اور کھانا بھی فراہم نہیں کیا جا رہا۔ اسی ضمن میں جسٹس قاضی امین کی ایک اہم آبزرویشن یہ تھی کہ کورونا وائرس سے ہمارے نظام حکومت کو بھی خطرات لاحق ہوتے جا رہے ہیں اور صدرِ مملکت کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانا چاہیے۔ فاضل چیف جسٹس نے اس امر واقعہ کا نوٹس لیا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے سنی سنائی باتوں پر کراچی کے کچھ علاقے بند کر دیے ہیں اور وہ آگے چل کر پورے کراچی کو بھی بند کر دیں گے۔

سندھ حکومت نے 8 ارب کی مالیت کا راشن کہاں سے خریدا اور اسے عوام میں تقسیم کرنے کے ثبوت بھی فراہم نہیں کیے۔ سماعت 20 اپریل تک ملتوی کر دی گئی ہے، تاہم یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ غیر منتخب افراد کے ذریعے حکومت چلانے کے غیر جمہوری طور طریق عدالت عظمیٰ کے نوٹس میں آگئے ہیں۔

اس بارے میں دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ کورونا کی عالمی وبا نے پوری دنیا الٹ پلٹ کر ڈالی ہے۔ پاکستان جس کے وسائل بھی محدود ہیں، اس کے صحت کا انفراسٹرکچر حد درجہ کمزور ہے اور اسے پہاڑوں جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ مغربی ممالک میں کورونا عروج پر پہنچ کر اب نیچے آتا جا رہا ہے جبکہ پاکستان میں اس کا زور بڑھتا جا رہا ہے۔

پچھلے دنوں یہ بری خبر بھی آئی کہ امارات سے 35ہزار کے لگ بھگ پاکستانی روزگار سے محروم ہو کر وطن واپس آرہے ہیں۔ یہ سلسلہ اگر دوسرے خلیجی ممالک میں بھی چل نکلا تو پاکستان میں بہت بڑا بحران جنم لے سکتا ہے۔

ان حالات میں اچھے دن اسی طرح لائے جا سکتے ہیں کہ پوری قوم اکٹھی ہوکر میدانِ عمل میں اترے۔ حکومت اور اپوزیشن یکجا ہو جائیں اور اہل وطن اللہ کی طرف رجوع کریں۔ اس سے عذاب کے اندر یقیناً کمی آئے گی۔ علاوہ ازیں اس نازک مرحلے میں میڈیا اور علماء اتحاد کی فضا پیدا کریں اور عوام کے اندر اس عزم اور شعور کو بیدار رکھیں کہ حفاظتی تدابیر کی پاسداری ہی سے اچھے دن واپس لائے جا سکتے ہیں۔

قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لئے حکومت کو میرِ صحافت شکیل الرحمٰن کو رہا کرنا ہوگا جو ایک جھوٹے مقدمے میں حوالۂ زنداں ہیں۔ بڑے دکھ کی بات یہ ہے کہ آزادیٔ اظہار کو زنجیریں پہنانے کے لیے غیر قانونی اور ضرر رساں کوششیں ہو رہی ہیں جن کے خلاف قومی اور بین الاقوامی شخصیتیں اور تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں-

Altaf-Hassan_Qureshy-Jang