قید تنہائی- آزادانہ ٹرائل نہیں کیا جارہا

100 سے زائد کتابوں کے مصنف ،ماہر لسانیت ، سیاسی تجزیہ نگار اورمعروف عالمی دانشور نوم چومسکی نے جنگ ، جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے ۔ عالمی دانشور نوم چومسکی نے گرفتاری کو عالمی قوانین کی سخت خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میر شکیل الرحمٰن کو قید تنہائی کا سامنا ہے ،انہوں نے کہا کہ میر شکیل الرحمٰن کا آزادانہ اور منصفانہ ٹرائل نہیں کیا جارہا ، حد تو یہ ہے کہ ان کے خلاف ابھی تک چارجز کا بھی نہیں پتہ اور ان کو نہ ہی فیم کیا جاسکا ، نوم چومسکی نے کہا کہ میر شکیل کو حراست میں لئے ایک ماہ سے زائد وقت گزر چکا ، عالمی طو رپر انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے ان کا کہنا ہے کہ عالمی قوانین کے تحت اگر کسی قیدی کو 22 گھنٹے تک قید میں رکھا جائے اور اسے دوسروں سے ملنے کا مناسب موقع نہ ملے تو اسے قید تنہائی ہی تصور کیا جاتا ہے جبکہ قیدی پر ناصرف اس کے نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ اس کی صحت کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچ سکتا ہے ، نوم چومسکی نے کہا کہ میر شکیل الرحمٰن متعلقہ اتھارٹی کے ساتھ تعاون کررہے تھے وہ بھی ایک ایسے معاملے میں جو کہ 34 سال پرانا اور دو پرائیویٹ پارٹیوں کے درمیان تھا ۔ نوم چومسکی نے کہا کہ کوئی وجہ نہیں کہ نیب میر شکیل الرحمٰن کو جیل میں رکھے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب کورونا وائرس جیسی عالمی وبا پھیلی ہوئی ہے ، حکومتیں ، عمر رسیدہ افراد ، جرائم کا ریکارڈ نہ رکھنے والے یا بیمار قیدیوں کو رہا کررہے ہیں ۔ نوم چومسکی کا یہ بھی کہنا تھا کہ سب جانتے ہیں میر شکیل الرحمٰن کو بھی صحت کے مسائل درپیش ہیں اگر میرٹ پر کیس بنتا ہے تو چلائیں اگر ٹرائل کے بعد میر شکیل الرحمٰن مجرم ثابت ہوتے ہیں تو ضرور گرفتار کریں ۔ نوم چومسکی کا کہنا تھا سوال یہ ہے کہ بنیادی انسانی حقوق اس معاملے میں کہاں گئے ، جب حالات ایسے ہوں تو کوئی حکومت اپنے جمہوری حکومت کا دعویٰ کیسے کرسکتی ہے ۔ منتخب ہونے کا ، جمہوری حکومت ہونے کا کوئی بھی حکومت ان حالات میں دعویٰ نہیں کرسکتی ۔ واضح رہے کہ نو م چومسکی کا شمار دنیا کے معتبر ترین مصنفین میں ہوتا ہے، ایم آئی ٹی کے اعزازی پروفیسر ہیں جبکہ ایری زونا یونیورسٹی میں درس و تدریس سے منسلک ہیں اور ان کا شمار پچھلی اور اس صدی کے بہترین دماغوں میں ہوتا ہے ، سیاست ، جمہوریت اور جنگ ، تاریخ ، دہشت گردی ، میڈیا ، مقبوضہ کشمیر ،فلسطین ، دنیا کو درپیش سنگین مسائل پر موثر آواز اٹھانے والے نامور مصنف نوم چومسکی کی پوری دنیا معتقد ہے اور چومسکی کی ہر بات کو عالمی سطح پر انتہائی غور سے سنا جاتا ہے ۔ نوم چومسکی امریکی خارجہ پالیسی کے سخت ناقد ہیں اور امریکی صدر ٹرمپ کو بالکل پسند نہیں کرتے ، فلسطین میں اسرائیل اور امریکا کے اقدامات کے خلاف بہت کچھ لکھ چکے ہیں ، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سرکار کے ظلم کا پردہ چاک کرچکے ہیں ،عالمی سطح پر ان کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ بھارتی فوج کو مقبوضہ کشمیر سے نکالا جانا چاہئے ہر ظلم کے خلاف اپنی آواز ضرور اٹھاتے ہیں ، چومسکی آزاد میڈیا کے بھی بہت بڑے سپورٹر اور حامی ہیںjang-report