اردو بولنے والوں کو دیوار سے لگا دو

ندیم مرزا
—-
کل میں نے لکھا تھا کہ وزیر اعلی کیوں روئے اللہ بہتر جانتا ھے بہت سوچ وبچار کے بعد سمجھ آیا کہ شاید وہ اس لئے روئے کہ پچھلی بارہ سال کی مسلسل حکومت میں اُن کی پارٹی کی حکومت نے دو کام تسلسل کے ساتھ کئے ہیں ایک یہ کہ جس بھی کام بھی بجٹ ھو کھا جاؤ اور دوسرا سندھ کے شہری علاقوں میں رھنے والوں جن میں اکثریت اردو بولنے والوں کی ھے دیوار سے لگا دو
بدقسمتی سے اردو بولنے والوں کی قیادت کی نااھلی نے انہیں یہ کام کرنے کی ھمت بھی عطا کر دی اور سونے پر سہاگہ یہ کہ شہری علاقوں سے پی ٹی آئی کی نا تجربہ کار ٹیم بھی جیت کر یا جتوا کر اسمبلیوں میں پہنچا دی گئی جن میں غالب اکثریت غیر سیاسی اور کاروباری لوگوں کی ھے اور آخری خبریں آنے تک انہوں نے تنخواہوں اور مراعات لینے کے علاوہ ابھی تک مہاجروں کے ووٹوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا کہ شاید وہ اُن کے مسائل کا ادراک نہیں رکھتے ہیں یا پھر کاروباری مجبوریوں کی بنا پر وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ تعلقات خراب نہیں کرنا چاھتے ہیں
دوسری طرف مہاجر قیادت الطاف حسین کے بعد متحد نہ رہ سکی اور مختلف دھڑوں میں بٹ گئی یا بانٹ دی گئی اور ھر لیڈر نےالطاف حسین کا متبادل بننے کا خواب دیکھنا شروع کر دیا اس وجہ سے پیپلزپارٹی جو دراصل بھٹو کی نہیں جی ایم سید کی پیپلز پارٹی ھے کو کھل کر کھیلنے کا موقع مل گیا اور انہوں نے وہ وہ من مانیاں کیں کہ جن کی مثال نہیں ملتی اٹھارویں ترمیم کا بے تحاشا استعمال سندھیوں کی سرکاری محکموں میں بڑے پیمانے پر بھرتیاں نئی مردم شماری میں اعداد و شمار میں جادوگری لوکل گورنمنٹ قوانین میں یک طرفہ ترمیمات انتظامی بنیادوں کے نام پر کراچی میں لسانی ضلعوں کا قیام اور حلقہ بندیاں وفاق سے ملنے والی رقم میں کراچی کو اس کا حصہ نہ دینا دیہی سندھ سے ضلعی کوٹہ پر بھرتی شدہ افراد کے کراچی میں اندھا دھند تبادلے اردو بولنے والے افسران کی غیر اھم تعیناتی اس کی چند مثالیں ہیں

سچ ھے کہ ایک طرف تو پی پی کی قیادت نے الطافیوں کے خلاف سرکاری آپریشن کے خوف اور پی ٹی آئی کی جیت کا خوب خوب فائدہ اُٹھایا تو دوسری طرف مہاجر قیادت قربانی نہ دینے اور مال کمانے کے جذبوں سے سرشار ستو پی کر گہری نیند سوتی رھی

وزیر اعلی شاید اسلئے بھی روئے کہ فتح کراچی کی جنگ میں آپ نے اندرون سندھ کو بلکل نظر انداز کر دیا صحت کو عطائی ڈاکٹروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا سکول کھنڈر بنا دئیے گئے ایک بھی عالمی سطح کا طبی اور تعلیمی ادارہ نہ بن سکا سندھی بولنے والوں پر اپنے ھم زبانوں کا اس سے بڑا ظلم اور کیا ھو سکتا ھے
دوسری طرف
کراچی کے غیر سیاسی مجاھدین نے تعلیم اور علاج معالجہ کی عالمی صلاحیتیں حاصل کر لیں کیونکہ صلاحیت کو عصبئتں نہیں روک سکتیں اور اس وقت پاکستان کے بہترین طبی اور تعلیمی ادرارے کراچی میں موجود ہیں

جیسا کہ آپ کئی تقاریر میں کہہ چکے ہیں کہ اگر سندھ کے دیہی علاقوں میں وبا پھیلی تو ھم کیا کریں گے تمام مریضوں کو کراچی شفٹ کرنا بھی ممکن نہیں ھو گا اور اگر کر بھی دیا تو کراچی کے مریض کہاں جائیں گے
وہ شائد اس لئے بھی روئے کہ وہ کراچی اور پورے سندھ میں لاک ڈاؤن کرانے میں ناکام رھے
لاک ڈاؤن کا مطلب ھوتا ھے کہ لوگوں کو گھروں میں رکھ کر وبا کے ٹیسٹ کر کے مریض شناخت کرلئے جائیں اور آئندہ کے لئے شہر میں داخل ھونے کے لئے سخت شرائط عائد کر دی جائیں آپ نے ایک کام تو کر دیا کہ لوگوں کے کاروبار بند کر دیئے انہیں معاشی طور پر بدحال کر دیا لیکن آپ ٹیسٹ نہ کر سکے اور نہ شہر سیل کر سکے یا نہیں کرنا چاھے
کیا بغیر ٹیسٹ اور علاج کے یہ وبا صرف کاروبار بند کرنے سے کنٹرول ھو جائے گی
آج کی آخری بات کہ اس وبائی دور میں جبکہ پوری دنیا رنگ و نسل سے بالاتر ھو کر سوچ رھی ھے
آپ کی طرف سے صوبائی الیکشن کمیشن کو 17 کی مردم شماری کے تحت نئے بلدیاتی انتخابات کی تیاری حلقہ بندیوں اور کراچی میں دو نئے ضلعوں لیاری اور گڈ اپ کے قیام کی تیاری بھی آپ کے دکھ اور سوچ کی نشاندھی کرتی ھے-