عمران خان سے میری دوستی 2011 میں شروع ہوئی لندن سے دوستی ہوئی ان کی مہربانی ہے کہ چھوٹے بھائی کی طرح مجھ پر ٹرسٹ کیا

گزشتہ سے پیوستہ ۔

زلفی بخاری کا اپنے اوپر لگنے والے الزامات کے حوالے سے کیا موقف رہا ۔انہیں مختلف ٹی وی چینلز اور اینکرز کی جانب سے مدعو کیا گیا اور انھوں نے بعض پروگراموں میں شرکت کرکے اپنی پوزیشن کلیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ان پر لگنے والے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے ۔
15 جون 2018 کو دنیا ٹی وی کے پروگرام میں کامران شاہد کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ
حالیہ کچھ دنوں میں میں نے اپنے بارے میں جو رپورٹ دیکھی وہ کافی جارحانہ تھی جس جہاز میں ہم عمرے کے لیے جارہے تھے اور ہمیں روکا گیا تھا وہ جہاز میرا نہیں تھا بلکہ علیم خان نے چار ٹر کرایا تھا اور ای سی ایل کی اسی بھی لسٹ میرا نام نہیں تھا بلیک لسٹ پر بنی ہوئی تھیں غیر ملکی صحافیوں کو اندر آنے سے روکنے کے لیے ۔حکومت نے اپنے پاس یہ اختیار رکھا ہوا ہے کہ وہ اگر کسی غیر ملکی صحافی کو پاکستان انے سے روکنا چاہتی ہے تو اس لیے استعمال کرتی ہے یا موقع پر ان کو اجازت دے کر پاکستان میں داخلے کی اجازت مل جاتی ہے ۔یہ بات بھی بالکل واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس موقع پر عمران خان نے کسی کو کوئی فون کال نہیں کی تھی ۔ایف آئی اے کے بندوں سے میں نے خود پوچھا تھا کہ کیا طریقہ کار ہے مجھے بتائیے میں کیسے ٹریول کر سکتا ہوں انھوں نے مجھے بتایا کہ آپ وزارت داخلہ کے نام ایک درخواست لکھ دیں- میں نے درخواست لکھ کر دے دی- یہ پورا ایک طریقہ کار تھا جس کو ہم نے فالو کیا ۔جہاں تک نیب کی انکوائری کا تعلق تھا تو میرے خلاف نیب کی انکوائری ہے میرے خلاف کرپٹ یا کوئی اسکیم یا کرپشن کے الفاظ غلط استعمال کیے گئے ہیں یہ غیر ذمہدارانہ رپورٹنگ ہے دراصل چار سو لوگوں کے نام پانامہ پیپرز میں آئے تھے میری 6کمپنیوں کا ذکر تھا وہ پرانی کمپنیاں ہیں ان میں اب کچھ بھی نہیں ہے میں نے اس حوالے سے اپنا سارا جواب نیب کو دے دیا تھا میرے حوالے سے لوگوں نے اپنے طور پر سٹوری بنا لی اور یہ میرے ساتھ زیادتی کی جارہی تھی ۔میں نے نیب کو خط لکھا لندن سے سے ۔کہ آپ نے 15 تاریخ کا خط ہے اور 18 تاریخ کو نوٹس میرے گیٹ پر پھینکا ہے ۔میں تو پاکستان میں رہتا ہی نہیں ہوں میں تو لندن میں ہوں آئندہ آپ نے خط وکتابت کرنی ہو تو لندن کے ایڈریس پر کریں ۔میرے وکیل نے نیب کو جواب دیا کورئیر کیا روسیو کرایا لندن سے فون کرکے رسیو کرنے کی تصدیق کی اس کے بعد میں دس مرتبہ پاکستان آ چکا ہوں جا چکا ہوں اچانک مجھے عمرے کے وقت روک لیا گیا اور اس وقت میں عمران خان کے ساتھ تھا مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ میری وجہ سے عمران خان پر بات آئی ۔میں حیران ہوں پاناما پیپرز میں چار سو لوگوں کے نام تھے کسی کو بھی بلیک لسٹ یا واچ لسٹ پر نہیں ڈالا گیا صرف میرے خلاف ہی کیوں کاروائی کی گئی ۔انکوائری کی پہلی اسٹیج تھی اور میرا نام لسٹ میں ڈال دیا گیا آخر یہ مہربانی مجھ پر کیوں ؟

کامران شاہد نے کہا کہ عمران خان سے دوستی کی وجہ سے ایسا ہوا ہوگا کیا آپ کو یہی لگتا ہے آخر یہ دوستی ہوئی کب ؟
اس پر زلفی بخاری نے کہا کہ عمران خان سے میری دوستی 2011 میں شروع ہوئی لندن سے دوستی ہوئی ان کی مہربانی ہے کہ چھوٹے بھائی کی طرح مجھ پر ٹرسٹ کیا مجھے دکھ ہوتا ہے کہ ان کا نام بھی میری وجہ سے اچھالا گیا اور میری وجہ سے عمران خان پر انگلی اٹھی ۔میں تو پوری دنیا گھوما ہوں باہر رہا ہوں باہر بہت سے لوگوں سے ملا ہوں میرے لئے عمران خان بہت ہی مینٹور ہیں میں ان سے انسپائر ہوتا ہوں ان کا یقین دیکھ کر انکی سوچ کو دیکھ کر ان کے آئیڈیاز سے متاثر ہوتا ہوں ۔
کامران شاہد نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا عمران خان آپ سے مشورہ بھی کرتے ہیں ۔
اس پر زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ انھیں مجھ سے مشورہ لینے کی کیا ضرورت ہے ان کا تجربہ ہے کامیاب انسان ہیں میری تو بس دوستی ہے ۔
پارٹی کی مالی مدد کرنے کے حوالے سے سوال پر زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ پارٹی میں سب لوگوں کا اپنا اپنا کردار ہے جہانگیر ترین بھائی نے اپنی کمٹمنٹ پوری کی ہیں اور میں اپنے حصے کا کام کرتا رہا ہوں ہم ان کے پارٹی آئیڈیا کو سپورٹ کرتے ہیں اگر ہم پارٹی کے لیے کام کرتے ہیں تو کسی کو کیا اعتراض ۔
ریحام خان کی کتاب میں لگائے جانے والے الزامات کے بارے میں سوال پر زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ حمزہ علی عباسی نے بہت اچھے طریقے سے انہیں جواب دے دیا ہے میں نے لیگل لیٹر لندن میں بھیجا تھا اس میں تمام پوائنٹس لکھ دیے تھے میرے نزدیک یہ کتاب ایسی نہیں کہ عمران خان کے کیریئر پر کچھ بھی اثر ڈال سکے بلکہ یقین مانیں یہ پڑھنے کے قابل ہی نہیں ہے جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اگر اس میں کچھ بھی سچ ہوتا تو بندہ دو مرتبہ پڑھ لیتا لیکن اس میں ایسا کچھ نہیں ہے اول تو اس عورت کی کوئی حیثیت نہیں ہے یہ سوائے سابقہ بیوی کی وجہ سے ایسی بن گئی ہے انڈیا کے علاوہ کوئی سننے کے لیے اسے تیار نہیں ہے
دسمبر 2019 میں کرنٹ لائف کے ایک پروگرام میں زلفی بخاری نے مختلف سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے بتایا کہ مجھے میرے دوست ٹینس کھیلتے ہوئے جیم۔ میں ورزش کرتے ہوئے یا پہاڑوں پر ٹریکنگ کرتے ہوئے جوائن کر لیتے ہیں ناشتے میں شیک دو انڈے کھجور اور کافی پیتا ہوں ۔حمزہ علی عباسی اور عدنان ملک اچھے دوست ہیں 39 سال کا ہوگیا ہوں میرا پورا نام سید ذوالفقار عباس بخاری ہے ماضی میں اکثر لوگ پاکستان سے کام کرنے کے لئے لندن جاتے تھے لیکن دوسری تیسری جنریشن کے لوگ پڑھنے کے لئے گئے اور کاروبار کرنے گئے اکثریت لیبر کلاس کی ہوتی تھی میرا خیال ہے کہ دوہری شہریت والے کو الیکشن لڑنے کی اجازت ملنی چاہیے اوورسیز پاکستانی ہمیں 23 ارب ڈالر بھیجتے ہیں انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت ہونی چاہیے الیکشن جیت کر وہ اپنا پاسپورٹ سرنڈر کر دیں ۔یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ انہوں نے پاسپورٹ خود وہاں کا لیا ہے یا ان کے والدین کی وجہ سے ان کو ملا ہوا ہے ۔
اگر فواد چوہدری اور فردوس عاشق اعوان میں سے کسی ایک کو چننا ہوتو فردوس آپا ۔
یہ خبر بالکل جھوٹی تھی کہ میرے انکل کریمنل کیس میں مطلوب تھے ۔نیب نے ایسی کوئی انکوائری نہیں کی ہاں آف شور کمپنی اور منی ٹریل کے حوالے سے بھی پروپیگنڈا کیا گیا یہ ایک چھوٹا سا طبقہ ہے جو ہر چیز میں میرا نام لیتا ہے نیب کے پاس میرے تمام جواب موجود ہیں تین سو سے لے کے 500 تک ڈاکومنٹ جمع کرائے ہیں ۔جج نے بھی ای سی ایل کیس میں لکھا کہ میں نے ہر چیز جمع کرادی ہے۔

زلفی بخاری نے شکایت کی کہ عجیب بات ہے کورٹ کچھ کہتی ہے میڈیا کچھ اور کہتا ہے ۔شروع شروع میں مجھے میڈیا کی باتوں پر غصہ آتا تھا اب تو ڈیڑھ دو سال ہوگئے ہیں سب کچھ فنی funny لگتا ہے.میرے والد پچاس سال سے میرون ملک میں تھے میری بہنیں وہاں پیدا ہوئی میں وہاں پیدا ہوا باہر کے ملکوں میں تو ہمارے خاندان کے خلاف کوئی چیز ایسی نہیں آئی لیکن پاکستان میں ہمارے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا ۔

وزیراعظم کے اسپیشل اسسٹنٹ برائے اوورسیز اینڈ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کی حیثیت سے پاکستان کو سیاحت کے شعبے میں آگے لے کر جانا ہمارا مقصد اور ہدف ہے پاکستان میں ٹورازم کو پرموٹ کرنا ہے 220 ملین پاکستان میں پر 10 ملین لوگ اوورسیز پاکستانی جو ٹورازم کو پرموٹ کر سکتے ہیں ۔وزیراعظم کا ویژن ہے کہ ہم اچھی فلمیں بنائیں میں بھی کوشش کروں گا کہ اچھی فلمیں بنائی جائیں ۔مجھ سے پوچھا گیا کہ اپنی مسرتوں نیم لازم ہے کہ اس کے ساتھ ہوں گے تو انہوں نے کہا نعیم الحق سینئر ہیں ۔ان سے پوچھا گیا بریانی یا اسٹیک تو نے کہا بریانی ۔ان سے پوچھا گیا اسلام آباد لندن میں سے کون سا شہر اچھا لگتا ہے تو میں نے کہا اسلام آباد ۔ساری دنیا گھوم چکا ہوں اب اسلام آباد میں رہتا ہوں اور سوچ بھی نہیں سکتا کہ کہیں اور جاکر رہ سکوں گا ۔زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ ہم اپنے ملک میں مذہبی سیاحت کو فروغ دے سکتے ہیں کرتارپور کی مثال ہمارے سامنے ہیں ۔اس کے علاوہ صرف اسلام آباد کو دیکھ لیں کتنا خوبصورت شہر ہے ہمیں پاکستان کو دنیا بھر میں مارکیٹ کرنا ہے میکسیکو کی ٹور ازم انڈسٹری بہت بڑی ہے حالانکہ وہاں کریمنل سرگرمیاں کافی رہی ہیں لندن میں بھی کلمہ خبر پڑھ رہا تھا کہ گھڑی چین کا لڑکے کو مار دیا گیا لندن کا کرائم ریٹ اسلام آباد سے زیادہ ہے لیکن وہاں کا ٹورازم ہم سے بہت زیادہ ہے ہم بھی پاکستان کی مارکیٹنگ کریں گے پاکستان کو برینڈڈ بنائیں گے اور دنیا کے لوگوں کو پاکستان دکھائیں گے ۔
ایک اور موقع پر زلفی بخاری نے ہم ٹی وی کے مارننگ شو پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے میزبان اشفاق یوسفزئی اور اویس منگل والا کے مختلف دلچسپ سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان وہ حکمران ہیں جن کے دور میں مختلف ملکوں میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی سب سے بڑی تعداد کو پاکستان واپس لانے پر کام کیا گیا ہے ملائیشیا میں ہمارے لوگ پھنسے ہوئے تھے نو فلائی زون کا معاملہ تھا ان کی واپسی کے لیے کام کیا سعودی عرب سے اپنے قیدیوں کو واپس لے کر آئے ہیں دبئی سے بات کی ہے وہ اسے ہمارے قیدی واپس آئے ہیں ان کے ملکوں کا عدالتی نظام ہے اس کا احترام کرنا چاہیے واپسی کا عمل کچھ سلو رہا ہے لیکن لوگ واپس آئے ہیں اور مزید آجائیں گے ۔

عمران خان سے دوستی کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ میں انگلش کاؤنٹی کھیلا ہوں میرے اکثر کو چیز عمران خان کے دوست اور ساتھی کھلاڑی رہے ہیں میرا ان سے احترام کا رشتہ ہے دوستی بھی ہے وہ 66 سال کے اور میں سینتیس سال کا عمر کا فرق تو بہت ہے لیکن اس کے باوجود ان کی مہربانی ہے وہ مجھ پر ٹرسٹ کرتے ہیں وہ میرے منٹور ہیں۔ میں نے دبئی کے پولیس چیف سے ملاقات کی ہے وہاں جیلوں کا وزٹ کیا ہے ہماری حکومت آنے کے بعد عرب ممالک میں قید لوگوں کو مسائل حل ہو رہے ہیں ہم اپنے لوگوں کو واپس لا رہے ہیں اور انہیں بھی پتہ ہے کہ ہمارا ملک ان کے پیچھے کھڑا ہے ۔ہم نے پاکستان بناؤ سرٹیفیکیٹ لانچ کیا 40 ملین ڈالرز کے قریب ہیں اس کے اوپر لے کر جائیں گے اسے اور بہتر انداز سے ری لانچ کرنے کا ارادہ ہے ساڑھے چھ فیصد سے زیادہ اس پر لوگوں کو منافع ملتا ہے ۔اورسیز انڈسٹری کے لیے ماضی میں وہ کام نہیں کیا گیا جس کی ضرورت تھی اب ہم اس پر توجہ دے رہے ہیں لیبرل اس کو بہتر کرنا ہے پروٹیکٹر کے معاملات کو بہتر کرنا ہے اس سسٹم کو ٹھیک کرنا ہے اداروں کو ٹھیک کرکے جائیں گے شہباز شریف جیسے لوگ تو مارکیٹس پینس پر لوٹ مار کا پیسا خرچ کرتے نظر آتے ہیں شہباز شریف اور اسحاق ڈار پر جو کیسز ہیں ان کو انجام تک پہنچائیں گے پاپڑ والا کیس بالکل کلیئر ہے وہ شخص کبھی دبئی نہیں گیا تھا ہم نے انکے ٹی ٹی پکڑے ہیں حمزہ اور زرداری کو ۔دونوں بڑی پارٹیاں اس بندے کو استعمال کرتی رہی ہیں تو یہ پورا نیٹورک تھا اب ان پر ہاتھ ڈالا ہے تو یہ دونوں اکٹھے ہوگئے ہیں ۔
ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ جی ہاں میرے لیے ایک زمانے میں یہ گانا دوست جایا کرتے تھے کہ Chap is here .
یہ بات درست ہے کہ ایک زمانے میں میں نے مارشل آرٹ جیم بھی بنایا تھا اور بہت جدید جم تھا پھر میں نے اسے بیچ دیا تھا۔میں نے ایک پاکستانی فلم کیک بھی بنائی۔
ایک طرف زلفی بخاری مختلف انٹرویوز میں اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی صفائی دیتے رہے دوسری طرف اخبارات میں ان کے حوالے سے خبریں بھی چھپتی رہیں ۔
16 جنوری 2020 کو یہ خبر آئی کے نئے زلفی بخاری کے خلاف انکوائری بند کر دی ہے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چیئرمین کی صدارت میں ہوا جس کے پریس ریلیز کے مطابق زلفی بخاری کے خلاف جاری انکوائری ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے چیئرمین کا کہنا تھا کہ پہلی ترجیح میگا کرپشن کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے مارچ 2018 میں نیب نے زلفی بخاری کی آف شور کمپنیوں کے حوالے سے تحقیقات شروع کی تھی ۔

جنوری 2020 کے اسی اجلاس میں جہاں غلطی بخاری کے خلاف انکوائری ختم کرنے کا فیصلہ ہوا نیب نے سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف نئے ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف ایک نئے معاملے میں تحقیقات کی منظوری بھی دی۔ تینوں اہم شخصیات پر توشہ خانہ گفٹ ڈپازٹری سے مہنگی گاڑیاں سستے داموں لینے کا الزام لگایا گیا ہے ۔ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق 8 دسمبر 2018 کو زلفی بخاری نیب راولپنڈی آفس میں پیش ہوئے تین رکنی تحقیقاتی ٹیم نے پوچھ گچھ کی مجموعی طور پر یہ ان کی تیسری پیشی تھی جہاں انہوں نے اپنی آف شور کمپنیوں کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ چار کمپنیاں نقصان میں چل رہی ہیں وہ خود لندن میں پیدا ہوئے اور والد اڑتیس سال سے وہ آ رہے ہیں سارا بزنس برطانیہ میں ہے اور پاکستان میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کی گئی ۔پیشی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کسی نئی پروسیکیوٹر کے استعفے کا مجھے پتا نہیں ہے یہ کہنا جھوٹ ہے کہ میری وجہ سے کوئی استیفعی ہوا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ میں استعفی کیوں دوں میرے خلاف کوئی کرپشن کا کیس نہیں ہے ای سی ایل کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہے اور دوہری شہریت کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے

ایک اور انگریزی اخبار کی رپورٹ میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ نیب نے کئی مہینے تک زلفی بخاری کے معاملے میں نرم رویہ کیوں اپنائے رکھا ۔
مارچ 2016 میں بنعمہ پیپر سامنے آئے جن میں زلفی بخاری اور ان کی بہنیں معصومہ اور سکینہ کی ملکیت میں کچھ کمپنیاں سامنے آئیں۔
K- Factor -limited.
اس کے علاوہ ایک اور کمپنی بریڈ بری ریسورسز لمیٹڈ اور تیسری کمپنی بیٹیک لمیٹڈ آپ شور کمپنیوں کی حیثیت سے سامنے آئی جو ورجن آئلینڈ میں تھی نیب نے دو اور کمپنیوں میں رقوم کے حوالے سے تحقیقات شروع کیں زلفی بخاری سے منی ٹریل اور سورس آف انکم مانگی گئی زلفی بخاری نے تحقیقات کے چھ ماہ بعد دو کمپنیوں سے علیحدگی اختیار کرلی ۔
مذکورہ اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بخاری خاندان پر انسانی اسمگلنگ سے مال کمانے کا الزام ہے ۔
بریگیڈیئر ریٹائرڈ الترمذی کہ کتاب پروفائلز آف انٹیلیجنس میں لکھا ہے کہ زلفی بخاری کے والد اور انکل نے المرتضی ایسوسی ایٹ کے ذریعے لیبیا میں انسانی اسمگلنگ کرکے خوب مال کمایا لیبیا میں جانے والے افراد کے حوالے سے تفصیلات سامنے آنے کے بعد حکومت پاکستان نے انکوائری شروع کی اور ایف آئی اے نے مقدمہ نمبر 161 /82 درج کیا جو تین نومبر 1982کو درج ہوا اس مقدمے میں زلفی بخاری کے والد سید واجد حسین بخاری اورچچا سید منظور حسین بخاری نا مزدور ہے بخاری فیملی نے رقم لندن نسل کرلیں اور انیس سو اکیاسی سے لے کر انیس سو چوراسی کے دوران برطانیہ میں قیمتی پراپرٹیز خرید لی واجد نے دو کمپنیاں بنائیں ایک کا نام معصومہ انویسٹمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور دوسری کمپنی کا نام سکینہ انویسٹمینٹ تھا انگریزی اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 21 مہینے تک نیب میں انکوائری لے کر بیٹھا رہا اور کوئی ایکشن نہیں لے سکا حالانکہ عام طور پر نائب اپنی انکوائری نو مہینے میں مکمل کر لیتا ہے اور دس مہینے میں عدالت میں ریفرنس دائر کردیتا ہے یہی نیب کے مروجہ قواعد و ضوابط ہیں جبکہ ای سی ایل میں نام ہونے کے باوجود زلفی بخاری کو اکتوبر کے دوران باہر جانے کی اجازت بھی دی گئی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ زلفی بخاری اپنے حوالے سے کرپشن منی لانڈرنگ اور دیگر الزامات کی خبروں کی تردید کرتے آئے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ آٹھ مہینے پہلے ہی منی ٹریل نیب کو دے چکا ہوں۔

12مارچ 2020 کو زلفی بخاری نے 99 ٹی وی پر معید پیرزادہ کے پروگرام میں شرکت کی اور نیب کا وہ لیٹر دکھایا جس میں بتایا گیا کہ زلفی بخاری کے خلاف انکوائری ختم کر دی گئی ہے زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ نیب نے سارے اکاونٹ چیک کئے ہیں اور پیسہ پاکستان سے باہر نہیں گیا بلکہ پیسہ پاکستان آیا ہے ہماری تمام کمپنیاں باہر کے پیسے سے باہر ہی بنائی گئی تھی میرے والد صرف چار مہینے کے لیے نگران وفاقی وزیر رہے وہ بھی 2018 کی نگران حکومت میں اس کے علاوہ ہم نے کوئی پبلک ہودا ہولڈ نہیں کیا تھا کمپنی 2006 میں بنی تھی جب کہ میرے والد نگران وزیر 2008 میں بنے وہ بھی صرف چار مہینے کے لیے ۔
معید پیرزادہ نے پوچھا کہ پھر آپ کو یہ بات نیب کو سمجھانے میں دو سال کیوں لگ گئے یہ تو بڑی نالائیقی کی بات ہے ۔
اس پر زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ ہم نے 1972 کے اصل کاغذات بھی نیب کو پیش کیے ہیں جب میرے والد باہر پڑھنے کے لئے گئے تھے اور ہم نے 1992 تک منی ٹریل پیش کی ہے نیب کو ۔
مجھے افسوس ہوتا ہے کہ لوگ میرا موازنہ شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ سے کرتے ہیں یہ تو حد ہوتی ہے ۔نہ تو میری راناثناءاللہ جیسی مونچھیں ہیں نہ میچ مگر ہوں نہ میں لسانی تنظیموں کے معاملے میں ہوں نہ میں قصور میں بچوں کے ریکٹ میں ہوں ۔نہ میں منشیات بھیجتا ہوں ۔
اس پر میزبان معید پیرزادہ نے کہا کہ رانا ثناء اللہ یہاں موجود نہیں ہے آپ ایسی باتیں کیوں کررہے ہیں ۔یہ ان پر الزامات ہو سکتے ہیں لیکن وہ یہاں موجود نہیں ہیں اس لئے ان کی باتیں چھوڑیں آپ اپنی بات کریں ۔
ملک پیرزادہ نے پوچھا کہ آپ کو ٹورازم بورڈ کا چیئرمین کیوں بنا دیا گیا آپ میں ایسی کیا اہلیت تھی ۔

اس پر زلفی بخاری نے کہا کہ یہ وزیراعظم عمران خان کا مجھ پر ٹرسٹ ہے ہم دنیا میں پاکستان کے ٹور ازم کو فروغ دینا چاہتے ہیں کسی لیے پی ٹی ڈی سی کو سنبھالا ہے پہلے عمران خان خود ٹورازم کو دیکھ رہے تھے ویسے تو ٹورزم اب 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس چلا گیا ہے لیکن ہم ملک کی برانڈنگ کرنا چاہتے ہیں مارکیٹنگ کریں گے دنیا کو پاکستان کے بارے میں بتائیں گے نیشنل جوگرافک والے پاکستان آرہے ہیں سنو لیپرڈ کو کور کریں گے ہم دنیا میں پاکستان کے لئے لونگ کر رہے ہیں اور ہمارا سب سے بڑا ٹول خود عمران خان ہے دنیا کے جو مشہور ٹاپ فیشن بلاگ میگزین ہیں ان کے مالکان اور ایڈیٹرز رپورٹرز خان صاحب کو اچھی طرح جانتے ہیں رچرڈ گیئر نے بھی امریکہ میں عمران خان سے ملاقات کی تھی کھانے پر بھی اکٹھے تھے ہمارے پاس زبردستی ٹونٹی ہے کہ عمران خان جیسے قدرتی لوبسٹ موجود ہیں وہ پاکستان کا سب سے بڑا برانڈ ہیں ۔فوبز میگزین ہو یا نیشنل جغرافیہ والے ہوں یا سپورٹس میگزین ہو سب عمران خان کو پرموٹ کرتے ہیں جانتے ہیں عمران خان کی حکومت میں ساڑھے سات ہزار قیدیوں کو ہم لوگ پاکستان واپس لائے ہیں اب ہم اوورسیز پاکستانی کے پراپرٹی کیسے اس کے مسائل حل کرنے کے لئے فاسٹ ٹریک کورٹ متعارف کرانے کے لئے قانون سازی کرنے والے ہیں عمران خان کی 16 مہینے کی حکومت میں ہم نے ساڑھے نو لاکھ سے زائد لوگوں کو بیرون ملک بھیجا ہے یہ تو کرونا وائرس آگیا تو معاملہ سلو ہو گیا ورنہ مارچ میں ہم نے ایک ملین پاکستانیوں کو باہر بھیجنے کا جشن منانا تھا



By Salik Majeed for jeeveypakistan.com