حکومت صنعتی و دیگر اداروں میں اجرتوں کی عدم ادائیگی اور جبری برطرفیوں کا نوٹس لیں اور مزدوروں پھیلی بے چینی کا تدارک کریں ( احتجاجی مزدوروں کا مطالبہ)

حکومت صنعتی و دیگر  اداروں میں اجرتوں کی عدم ادائیگی اور جبری برطرفیوں کا نوٹس لیں اور مزدوروں پھیلی بے چینی کا تدارک کریں( احتجاجی مزدوروں کا مطالبہ) فیکٹریوں انتظامیہ حکومتی احکامات کی دھجیاں بکھیرتے ہوے نہ صرف مزدوروں کو ملازمتوں سے جبری طور پر نکال رہے ہیں بلکہ واجب الادا اجرتیں بھی دینے سے انکار کر رہے ہیں. یہی صورت حال رؤف ٹیکسٹائل ملز واقع ماڑی پور روڈ، گل بائی کے سینکڑوں مزدوروں کو بھی درپیش ہیں. ملز انتظامیہ نے مزدوروں کو ان کے کیے گیے کام کے دنوں کی اجرت بھی دینے کے مطالب کو یکسر مسترد کردیا ہے. انتظامیہ ماہ مارچ کی اجرت روکے بیٹھی ہے جس کے نتیجہ میں فیکٹری مزدور فاقہ کشی کا شکار ہیں اور اس وبا کے دنوں میں فیکٹری گیٹ کے سامنے احتجاج کرنے پر مجبور ہیں.فیکٹری مالکان نے مزدوروں کے جائر مطالبات تسلیم کرنے اور موجودہ صورت حال میں مزدوروں کو ماہانہ اجرت دینے کی بجائے اپنے تمام رابطہ منقطع کر دئے ہیں جب کہ ملز انتظامیہ نے بات چیت کے لیے آنے والے  مزدوروں کے نمائندوں اور مزدوروں کے فیکٹری میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے. جس سے مجبور ہو کر مزدور دو روز سے فیکٹری کے سامنے پرامن احتجاجی دھرنا دیے بیٹھے ہیں. اس پرامن احتجاج کی قیادت رؤف ٹیکسٹائل ملز یونین کے جنرل سیکرٹری بابر خان کر رہے تھے. اس احتجاج میں دیگر اداروں کے مزدور نمائندوں کے علاوہ ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کی مرکزی جنرل سیکرٹری زہرا خان اور نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان کے رہنما محمد عاقب نے بھی شرکت کی. رؤف ملز کی انتظامیہ کی لاقانونیت اور ہٹ دھرمی کے خلاف  لیبر ڈپارٹمنٹ کے متعلقہ حکام کو شکایت درج کروا دی گیے. مزدوروں کے شدید احتجاج اور دھرنے کے بعد مقامی انتظامیہ نے مداخلت کرتے ہوئے مزدوروں کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے تحریر طور پر تمام مزدوروں کو 20 اپریل تک اجرتوں کی ادائیگی کا معاہدہ کر لیا جس کے بعد مزدوروں نے احتجاجی دھرنے کے خاتمہ کا اعلان کیا.  نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان جنرل سیکرٹری ناصر منصور نے رؤف ٹیکسٹائل ملز کے مزدوروں سے اظہار یک جہتی کرتے ہوئے کہا کہ مزدور اپنے حقوق کے لیے پرامن انداز میں مطالبات کو تسلیم کرنے کی حت الامکان کوشش کرتا لیکن مالکان اپنے مزدور دشمن رویے سے انہیں احتجاج اور مزاحمت پر مجبور کر راہ ہے. ہم فیکٹری مالکان اور حکومت سے مطالب کرتے ہیں کہ ورکرز کی جبری برطرفیوں کا سلسلہ فی الفور روکا جایے اور لاک ڈاؤن کے دوران اجرتوں کی عدائیگی کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے. جاری کردہ نیشن ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان 0300 3587211