اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں مزید2 فیصد کمی کردی

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں مزید 2 فیصد کمی کردی ہے، شرح سود11 سے کم ہوکر 9 فیصد رہ گئی ہے، شرح سود میں کمی بدترمعاشی حالات کے پیش نظر کی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تاجربرادری کے پرزور مطالبے کے بعد شرح سود میں2 فیصد کمی کردی ہے۔ جس کے بعد شرح سود کم ہو کر 9 فیصد رہ گئی ہے۔
کورونا کی صورتحال میں شرح سود میں کمی سے صنعت، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فائدہ پہنچے گا۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے مزید 200 بیسز پوائنٹس کی کمی سے ایک ماہ کے دوران شرح سود میں 4.25 فیصد کمی کی گئی ہے۔ کاروباری طبقات اور انڈسٹریل سیکٹرز کی جانب سے حکومت سے اپیل کی تھی کہ معاشی نمو کو بڑھانے کیلئے شرح سود میں مزید کمی کی جائے، کورونا وائرس کے باعث ملکی معیشت جمود کا شکار ہونے کے باوجود ملک میں بلند شرح سود صنعتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اگرچہ سٹیٹ بینک نے دو بار شرح سود میں کمی کی ہے لیکن اس کے باوجود اب بھی موجودہ معاشی صورتحال کے تناظر میں شرح سود بہت زیادہ ہے ، معاشی نمو میں بہتری کیلئے شرح سود میں مزید کمی کی جائے ۔

مزید براں سٹیٹ بینک نے ری فنانس سکیم میں جو حالیہ قدامات اٹھائے ہیں ان پر برق رفتاری سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے ۔ اس مشکل وقت میں صنعت و تجارت کو سہارا دینے کے لئے ریفنڈز ادائیگیوں کے نظام کو تیز اور مئوثر بنایا جائے۔ دوسری جانب آئی ایم ایف نے پاکستان سمیت 76 ممالک کے قرض ایک سال کے لیے منجمد کر نے کا باضابط اعلان جاری کردیا ہے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو رواں سال 40 ارب ڈالرز کے قرضے واپس کرنے ہیں تاہم کورونا وائرس کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر ترقی پذیر ممالک نے آئی ایم ایف سے قرضے منجمد کرنے کی درخواست کی ہے. بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے مطابق جی 20 ممالک یہ قرضے ایک سال کے لیے منجمد کرنے پر رضا مند ہوگئے ہیں جس کے بعد آئی ایم ایف نے پاکستان سمیت 76 ممالک کے 40 ارب ڈالرز کے قرض ایک سال کے لیے منجمد کرنے کی منظوری دے دی ہے