انور مقصود سے ان کے مداح بار بار پوچھ رہے تھے کہ آپ ٹی وی کے لیے ڈرامہ کیوں نہیں لکھ رہے؟

انور مقصود کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں وہ اپنے مخصوص انداز میں بتا رہے ہیں کہ میں ڈرامہ کیوں نہیں لکھ رہا ۔ انور مقصود نے بتایا کہ مجھ سے پوچھا گیا تھا کہ ڈرامہ کیوں نہیں لکھ رہے تو میں نے کہا ۔
کوئی بھی نہیں لکھ رہا ۔
اشفاق صاحب نہیں لکھ رہے ۔
بانو قدسیہ نہیں لکھ رہیں ۔
بجیا نہیں لکھ رہیں ۔
منو بھائی نہیں لکھ رہے ۔
انتظار حسین نہیں لکھ رہے ۔
اس پر مجھے کہا گیا یہ سب تو مر گئے ہیں ۔
میں نے کہا یہ سب ڈرامہ اپنے ساتھ لے گئے ۔
اب آج کل جس طرح کے ڈراموں کے اشتہار آرہے ہیں
جمعرات کی شب ساڑھے آٹھ بجے ۔۔۔۔۔۔۔تم میرے پاس ہو ۔
جمعرات کی شب ساڑھے دس بجے ۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے بیٹا چاہیے ۔
رات بارہ بجے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ناممکن
ساڑھے بارہ بجے ۔۔۔۔۔۔۔چیخ

انور مقصود نے کہا کہ اب ان ڈراموں کے بعد میں کیسے ڈرامہ لکھ سکتا ہوں ۔ویسے یہ سب ڈرامے اچھے ہیں کیونکہ لوگ انہیں دیکھتے ہیں لیکن وقت بدل گیا ہے اب نئی نسل آگئی ہے حالانکہ وہ انہیں دیکھتی نہیں ہے ۔
پھر انور مقصود سے پوچھا گیا کہ اردو کہاں ہے ؟
انور مقصود بولے اردو بہت بڑی زبان ہے ۔بہت طاقتور زبان ہے ۔اردو اتنی بڑی زبان ہے کہ اگر کوئی اس کے آگے دیوار بھی کھڑی کر دے تو یہ دیوار توڑ کر نکل جائے گی ۔
ہندوستان میں مسلمان کو تو ختم کر سکتے ہو لیکن اردو زبان کو کیسے ختم کرو گے ۔
جب تک ہندوستان میں فلمیں بنتی رہیں گی اردو زبان زندہ رہے گی اور قیامت تک ہندوستان میں فلمیں تو بنتی ہی رہیں گی۔
پھر انور مقصود سے پوچھا گیا یہ بتائے پاکستان میں اردو کہاں ہے ؟
انور مقصود بولے پاکستان میں ۔۔۔ڈیفنس فیز 6 کے قبرستان میں ہے۔