ہم نے سخت فیصلے لیے ہوسکتا ہے غلط ہوں لیکن فیصلہ نہ لینا جرم و نااہلی ہے، زندگی سب سے عزیز ہے، سید مراد علی شاہ

سکھر : وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہم نے سخت فیصلے لیے ہوسکتا ہے غلط ہوں لیکن فیصلہ نہ لینا جرم و نااہلی ہے، زندگی سب سے عزیز ہے۔ کوشش ہے ڈویژنل سطح پر کورونا وائرس کے ٹیسٹ کئے جائیں، غرباء و مستحقین کی کفالت کیلئے شفاف طریقہ سے راشن تقسیم کیا،اپنے مخالفین یا ناقدین کو جواب دینا مناسب نہیں سمجھتا۔کورونا کا علاج نہیں احتیاط ہی بہترین علاج ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کمشنر آفیس سکھر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کورونا سے متعلق بتایا کہ کل تک 1626 ٹیسٹ پورے صوبے میں کئے جبکہ کورونا کے 340 کیس آج مثبت سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سکھر ہمارا فرنٹ لائن تھا کیوں کہ ایران سے 1388 زائرین آئے جس میں 280 مثبت کیسز آئے تھے جبکہ 7 لاڑکانہ سے سکھر آئے تھے، 271 ٹھیک ہو چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سکھر میں 7 کورونا کے مریض موجود ہیں باقی سب اپنے گھر چلے گئے ہیں جبکہ سندھ بھر میں 576 صحتیاب ہوچکے ہیں اور اب تک صوبے بھر میں کورونا وائرس کے باعث 45 اموات ہوئی ہیں۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ سکھر آنے کا مقصد یہ تھا کہ یہاں کے مقامی لوگ کورونا کے شکار زائرین کی باعث پریشان تھے جس پر انھوں نے سکھر کے عوام کی جانب سے تعاون پر انھیں یقین دلایا کہ بہترین حکمت عملی سے لیبر کالونی کوقرنطینہ بنایا گیا۔ مراد علی شاہ نے بتایا کہ لاک ڈاؤن سےہم خوش نہیں لیکن اسکے بناء کوئی راستہ بھی نہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے عوام سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اپنی مدد خود کریں تو اللہ پاک بھی مدد کرے گا،

آپ پر فرض ہے کے گھروں میں جانے سے پہلے اپنے ہاتھ دھوئیں، باہر سے آکر اپنے کپڑے تبدیل کریں، خود کو بزرگوں اور بچوں سے دور رکھیں اور جتنا ہو سکے صحت کے اصولوں پر زندگی گزاریں کیوں کہ اس وائرس کا علاج صرف و صرف دور رہنے میں ہے ابھی اس کا علاج نہیں صرف احتیاط ہی علاج ہے۔ انھوں نے صحافی حضرات کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میڈیا کے دوست اپنا خیال رکھیں، آپ کی زندگی آپ کے پیاروں کیلئے اہم ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم نے کارروائی کی ہے، ہم نے فیصلےکیئے ہیں، ہوسکتا ہے غلط فیصلے کئے ہوں، لیکن فیصلہ نہ لینا جرم ہے، نااہلی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سندھ کے اندر زائرین کچھ براستہ سڑک آئے اور دیگر بائی ایئر آئے جو بائی ایئر آئے ان میں 96 مثبت کیسز آئے۔ انھوں نے بتایا کہ کورونا کے 1165 کیسز مقامی ٹرانسمیشن کے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ شروع میں 80 ٹیسٹ کرنے کی گنجائش تھی اسکو بڑھانے کیلئے پی سی آر مشینیز چاہئیں تھیں اور بائیو-سیفٹی لیب کے علاوہ آپ ٹیسٹ نہیں کرسکتے، ہم نے ٹیسٹ کیپسٹی کو بڑھا کر 1700 تک لے گئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کے ڈویژنل سطح پر کورونا وائرس کے ٹیسٹ کرنے کا بندوبست کیا جائے ۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ میں نے لاک ڈاؤن کیلئے درخواست کی ہے ڈبل سواری پر پابندی لگائی ہوئی ہےاور ہم شفاف طریقہ سے راشن تقسیم کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں 5 بجے واپس کراچی پہنچنا چاہتا ہوں، لاک ڈائون سے پہلے پہنچنا ضروری ہے۔

مساجد اور رمضان شریف کی آمد:
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ علماء کرام کا کہنا ہے کہ طبی ماہرین جو مشورہ دیں تو اس پر عمل ہونا چاہئے، مکس سگنلز آ رہے ہیں اس لیے افراتفری ہو رہی ہے، کل ہمارے وزراء علماء کرام سے ملے اور آج بھی ملیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہم وائرس سے بچنے کیلئے ایک لائحہ عمل بنا لیں گے۔ انھوں نے لوگوں کو اپنے گھروں میں رہ کر عبادت کرنے سے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ میں اس وقت اپنے لوگوں کی صحت اور زندگی کا سوچ رہا ہوں، کوئی تنقید کرے تو کرے۔ وزیراعظم عمران خان کا اس معاملے میں اچھا کردار ہے انھوں نے کافی اجلاس کئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ابھی مخالفین یا ناقدین کو جواب دینا نہیں چاہتا، ہم غریبوں کو راشن تقسیم کر کے کفالت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، راشن کی تقسیم پر میں لوگوں کو کٹھا نہیں کرنا چاہتا، ہم نے لوگوں کو ان کے دروازوں پر راشن دیا، ہم نے وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے کہ عوام کو کیش دینے کیلئے کائونٹر بڑھائیں، کائونٹر کم ہونے کی وجہ س لوگ کٹھے ہو رہے ہیں، جو ٹھیک نہیں۔
سکھر کا دورہ:
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ایک روزہ دورہ پر سکھر پہنچے جہاں انھوں نے شہر کا دورہ کیا اورلاک ڈائون کا جائزہ بھی لیا۔ انے ہمراہ صوبائی وزراء ناصر شاہ، مکیش چاولہ اور امتیاز شیخ بھی تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ اپنی گاڑی خود ڈرائیو کر کے ایئرپورٹ سے شہر روانہ ہوئے تو انکے ہمراہ گاڑی میں صوبائی وزیر ناصر شاہ بھی تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے شہر کے دورے کے دوراں اپنی گاڑی سے اتر کر اپنے قافلے میں شامل پولیس موبائل واپس کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کوئی پروٹوکول نہیں چاہئے، مجھے شہر کا جائزہ لینے دیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے شہر میں فیومیگیشن کے جاری کام کی تعریف کی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دورے کے دوران مکی مسجد والے علاقے میں رک کر دکاندار کو ضروری ہدایتیں دیں کہ آپ گاہکوں کو ایک دوسرے سے دور دور کھڑا کریں اور سماجی دوری کو لازمی بنائیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ایس او پی کے حساب سے خود ڈرائیو کر رہے ہیں، پیچھے والی سیٹ پر ناصر شاہ بیٹھے تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کُل 4 گاڑیوں ساتھ سکھر شہر کا دورا کیا۔

زیر صدارت اجلاس:
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء مکیش چاولہ، ناصر شاہ، پی آر او سکھر، کمشنر، ڈپٹی کمشنر، محکمہ صحت کے افسران نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سکھر کی انتظامیہ کو زائرین کو بہتر انداز میں رکھنے پر مبارکباد دی۔ اجلاس میں کمشنر سکھر اور ڈپٹی کمشنر کی وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بیچ ون میں 300، بیچ ٹو میں 806، بیچ تھری میں 5 اور بیچ فور اور فائیو میں 64 شامل تھے، قصور سے 10 لوگ پہنچے ہیں ان کو قرنطینہ میں رکھا ہے، 636 تبلیغی جماعت کے لوگ ہیں جن میں 74 بیرون ممالک کے ہیں اور 562 ملکی باشندے ہیں، 52 مثبت ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ راشن کے 7088 بیگس تقسیم کئے ہیں، یہ بیگ 2000 روپے کے پڑ رہے ہیں، 9300 بیگس یوٹلٹی اسٹوز سے خریدے ہیں۔ مراد علی شاہ نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ضرورتمند، مزدور اور دھاڑی دار کے گھر پر راشن پہنچنا چاہئے، راشن کی کوالٹی بہترین ہونی چاہئے۔ انھوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ ایس او پی ہر صورت پر فالو ہونی چاہئے، لاک ڈائون شہر میں ٹھیک چل رہا ہے لیکن لوگ باہر گھوم رہے ہیں، لوگوں کے غیرضروری چلنے کو روکیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیرپور میں 368 تبلیغی جماعت کے لوگوں میں سے 14 مثبت آئے ہیں جس پر مراد علی شاہ نے کہا کہ خیرپور میڈیکل کالج میں 80 بستروں کا آئیسولیشن یونٹ بنایا ہے، گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں 50 بستروں کا وارڈ قائم کیا گیا ہے۔