دس پاکستانی ڈرامے جو لاک ڈاؤن کے دوران آپ کی بوریت دور کر سکتے ہیں

لاک ڈاؤن کے دوران وقت بیتانے کے لیے آپ کون سے پاکستانی ڈرامہ دیکھ سکتے ہیں؟ ڈرامہ نقادوں سے رائے لینے کے بعد ہم نے آپ کے لیے یہ فہرست مرتب کی ہے۔
کورنا کی وبا خود کسی ڈراؤنی فلم سے کم نہیں لیکن اس وبا کا خوف کم کرنے اور مشکل وقت کو آسان بنانے میں فلم اور ڈرامے ایک اہم سہارا بن گئے ہیں۔
کہانیوں اور کرداروں کی دنیا میں کھو کر دن کو رات کرنا نسبتاً آسان لگنے لگا ہے۔جہاں نیٹ فلیکس دنیا بھر میں پہلے سے کہیں زیادہ سٹریم ہوا ہے، وہیں اردو زبان کے ڈرامے بھی یاداشت اور انٹرنیٹ کے سہارے دوبارہ زندہ کیے جارہے ہیں اور ان کے ساتھ ہی پی ٹی وی کی جاندار روائت نئی نسل کو منتقل ہو رہی ہے۔
لیکن دیکھنا کیا ہے؟ اس فیصلے کو آسان بنانے کے لیے بی بی سی نے ڈرامے کے نقادوں سے بات کی جن میں سے اکثریت کا کہنا تھا کہ بات کلاسیک کی ہو تو، پاکستان ٹیلی ویژن کا نام ہی کافی ہے-پاکستان ٹیلی ویژن کی ڈائریکٹر پروگرامنگ کنول مسعود کا کہنا ہے پی ٹی وی نے لاک ڈاؤن کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے پی ٹی وی پر ایک وقت بھی مقرر کیا ہے جس وقت پرانے ڈرامے نشر کیے جا رہے ہیں۔
جیسا کہ آج کل تنہائیاں چل رہا ہے. ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ٹی وی اپنی آرکائیو کو ڈیجیٹلائز کر رہا ہے۔


وارث
صحافی اور نقاد عمیر علوی پی ٹی کی وراثت میں وارث کو نمایاں ترین ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ چوہدری حشمت کا کردار ہمیشہ یاد رہ جانے والا کردار ہے۔
ڈرامے کی خاص بات سنسنی اور رومانویت کا امتزاج ہے۔ ڈرامہ وارث کی کہانی اس خطے میں حاکم اور محکوم کے ازلی رشتے کی ایسی کہانی جو چالیس سال گزرنے پر بھی پرانی نہیں ہوئی۔
یاد رہے کہ اس ڈرامے میںستر سالہ چوہدری حشمت کا کردار ادا کرنے والے محبوب عالم خود اس وقت صرف پینتیس برس کے تھے۔
اس ڈرامہ کو امجد اسلام امجد نے لکھا تھا اور غضنفر علی اور نصرت ٹھاکر نے اس کو ڈائریکٹ کیا تھا۔
عمیر علوی کا کہنا ہے کہ یہ ڈرامہ نہ صرف اپنے وقت کا بہترین ڈرامہ تھا بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ آج کے دور کا بھی بہترین ڈرامہ ہے تو غلط نہیں ہو گا۔


ان کہی
ایک ایسا ڈرامہ جسے خود سراہا مسکراہٹ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔
ڈراموں کی نقاد ملیحہ رحمان کہتی ہیں حسینہ معین کی کہانیاں ایسی ہوتی ہیں کہ جیسے ہماریاپنی ہی ہوں۔ اس میں ٹمی کا مشہور کردار تھا جس کوجمشید انصاری نےادا کیا۔
شہناز شیخ نے اس ڈرامہ میں ایسا کردار ادا کیا جس کو بعد میں بالی وڈ کی فلموں میں کاپی کیا گیا۔
اس کے علاوہ بہروز سبزواری اور سلیم ناصر بھی اس ڈرامے کا حصہ ہیں ۔اس ڈرامہ میں ایک ہیرو جاوید شیخ تھے جبکہ دوسرے ہیرو شکیل تھے۔
عمیر علوی ان کہی کے کرداروں کے بارے میں کہتے ہیں کہ لکھاری اور ڈائریکٹر نے ایسےمزے دار کردار بنائے تھے کہ وہ آج تک آپ کو یاد رہتے ہیں۔
اس ڈرامے کی خاص بات یہ ہیں کہ اس میں مزیدار کہانی اور بہت ہی خوبصورت کردار ہیں۔


تنہائیاں
اگر آپ نے ڈرامہ تنہائیاں نہیں دیکھا تو سمجھیے کچھ نہیں دیکھا۔ مرینہ خان اور شہناز شیخ کے کردار بھولنے والے نہیں ہیں۔ اور کباچہ کا کردار اس ڈرامے کی جان ہے۔
یہ شہناز شیخ کا دوسرا ڈرامہ تھا اور اس کے بعد انھوں نے کام نہیں کیا لیکن ان کو یاد رکھنے کے لیے ان کہی اور تنہائیاں یہ دو ڈرامے ہی کافی ہیں. اس ڈرامے میں بدر خلیل اور آصف رضا میر نے کمال کا کام کیا ہے۔
عمیر علوی کہتے کہ کو کوئی ڈرامہ دیکھنا ہے تو تنہائیاں بار بار دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ڈرامے میں ادکاری بہت اچھی ہے۔
سنہرے دن
مزاح سے بھر پور، نوجوانوں کی کہانی اگر آپ نے دیکھنی ہے تو یہ ڈرامہ بہترین ہے۔آئی ایس پی آر کی پروڈکشن میں بنا ڈرامہ سنہرے دن ادارے کی پہلی باقاعدہ پروڈکشن تھی۔
سلیم شیخ نے اس ڈرامے سے اداکاری کا آغاز کیا تھا۔ اس ڈرامہ کو شعیب منصور نے ڈائریکٹ کیا تھا۔
آئی ایس پی آر نے اس کے بعد ایلفا، براوو، چارلی اور عہد وفا بھی بنائے لیکن اگرآ پ نے صحیح معنوں میں ان دو ڈراموں کا مزہ لینا ہے تو آپ کو سنہرے دن ضرور دیکھنا چاہیے۔ فراز انعام ان تینوں ڈراموں کا حصہ رہے ہیں۔
سنہرے دن کے اس مشہور سین کے بارے میں عمیر علوی بتاتے ہیں جو فراز انعام کا پہلا سین یہ تھا۔
اس سین میں ان کو صوبیدار آ کر کہتا ہے، جنرل صاحب کا پیغام ہے کہ وہ آپ کا سامان لینے نہیں آ سکتے۔ عمیر کہتے ہیں ابھی تو آپ کو یہ ڈائیلاگ شاید سمجھ میں نہیں آئے کیونکہ اس کے لیے آپ کو پورا ڈرامہ دیکھنا پڑے گا۔ اس میں جو مزاح ہے وہ آپ کو بہت ہنسائے گا۔ اس ڈرامے کی اور مشہور لائنز ہیں۔
جیسے آ گیا ہے کیوں کاکول؛ تیرے جیسا بلڈی فول
آ گیا ہے کیوں کا کول؛ میرے جیسا نا معقول۔
یہ سب لائنز اسی ڈرامے کی ہیں۔ مورال کیسا ہے سر، اپ ٹو دی مارک سر۔


دھواں
اگر آپ نے ایکشن اور تھرل دیکھنا ہے تو دھواں دیکھا جا سکتا ہے ۔ نوے کی دہائی میں پی ٹی وی پر نشر کیا جانے والا وہ ڈرامہ ہے جس کو اس زمانے میں ہر کسی نے دیکھا ہو گا۔
اس ڈرامے کی ہر قسط میں ایک نئی کہانی ہے۔ عاشر عظیم نے اس ڈرامے کو لکھا اور انھوں نے ہی اس ڈرامے میں کردار بھی ادا کیا۔
بلبلے ڈرامے سے پہلے نبیل کا اگر کوئی بہت مشہور کردار تھا وہ یہی تھا۔ ڈرامے میں نصرت فتح علی خان کا گانا، کسے دا یار نہ وچھڑے، اس ڈرامے کے بعد زیادہ مشہور ہو گیا تھا۔
خدا کی بستی
عامر رضا ڈرامہ نگار ہیں اور ٹی وی پروڈیوسر ہیں۔ ان کا کہنا کہ پاکستان میں بہت اچھے اچھے ڈرامے بنے ہیں، لیکن ان کے خیال میں وہ ڈرامے جو آج کل دیکھے جا سکتے ہیں ان میں خدا کی بستی ایک ایسا ڈرامہ ہے جو ضرور دیکھنا چاہیے۔
اس ڈرامہ کو دو بار ریکارڈ کیا گیا۔ ایک بار اس ڈرامے کی ٹیپس ضائع ہو گئیں تھیں۔ جب ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں آئے تو ایک بار پھر اس ڈرامے کو ریکارڈ کیا گیا۔ خدا کی بستی کا مرکزی کردار نو شا کا ہے
یہ ڈرامہ شوکت صدیقی کے ناول پر بنا ہوا ہے، ناول بہت ہی مقبول ہے۔
عامر رضا اس ڈرامے کے بارے میں کہتے ہیں کہ پاکستان میں طبقات کے درمیان جو کشمکش ہے اور تقسیمِ ہندوستان کے بعد جو ایک نئی سوسائٹی جنم لے رہی تھی اس کا بہت ہی عمدہ انداز میں اس ڈرامہ میں تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔


لشکارا، اور انکار
اگر نئے ڈراموں کی بات کی جائے تو کچھ ایسے ڈرامے بنے جن میں معاشی مسائل کو اجاگر کیا گیا۔
عامر رضا کہتے ہیں کوئی بھی آرٹ پیس بنا سیاسی، سماجی اور معاشی بیانیے کے کار آمد نہیں۔ یہی بنیادی عناصر ہیں جو کردار کی نفسیات بناتے ہیں۔
اس لیے نئے ڈراموں میں یہ وہ ڈرامے ہیں جن میں معاشی مسائل کو بہترین انداز میں اجاگر کیا گیا ہے۔
ان میں ظفر معراج کے لکھے یوئے دو ڈرامے لشکارا، اور انکار ہیں۔ عامر رضا سمجھتے ہیں کہ یہ دونوں ڈرامے ایک ساتھ دیکھے جائیں تو ان مسائل کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھا جا سکتا ہے۔
لشکارا ڈرامہ تیزاب سے جلنے والوں کی کہانی ہے کہ ان پر کیا گزرتی ہے۔ اس ڈرامے کا مرکزی اشنا شاہ نے ادا کیا ہے جو کہ ببلی کا کردار نبھا رہی ہیں۔
چلبل اور زندگی سے بھر پور ببلی کس طرح اس معاشرے میں بدلے کی آگ کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔آپ کو اس ڈرامے میں نظر آئے گا
انکار ڈرامے میں یمنیٰ زیدی نے حاجرہ کا کردار اد کیا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح انکار پر اس کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ کیسے اس کے خلاف کھڑی ہو جاتی ہیں۔


ڈر سی جاتی ہے صلہ
جنسی تشدد صرف گھر سے باہر نہیں ہوتا بلکہ گھر کے اندر رہنے والے بھی بعض اوقات ایسا کرتے نظر آتے ہیں۔ کاشف انصار کا ڈائریکٹ کیا ہوا ڈرامہ ڈر سی جاتی ہے صلہ میں اس کو دکھایا گیا ہے
عامر رضا کہتے ہیں کہ فلمز میں دیکھا جائے تو ریپ کرنے والے کی ایک خاص سٹیریوٹائپ سے کانسپٹ پر عکاسی کی جاتی ہے۔ اس کانسپٹ میں اس کی بڑی بڑی مونچھیں دکھائی ہیں۔
لیکن اصل معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا اور جنسی تشدد کرنے والے کو پہچاننا مشکل ہوتا ہے کیونکہ ایسے افرادہمارے ارد گرد کے ہی موجود افراد میں سے ہی ہوتے ہیں۔ وہ عام انسان ہوتے ہیں۔
اس ڈرامے میں یہ دکھایا گیا ہے کہ جنسی طور پر ہراساں کرنے والا بعض اوقات خاندان کے اندر سے ہی ہوتا ہے تو اس وقت ان کے خلاف آواز اٹھانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔
یقین کا سفر
سجل علی اور احد رضا کو اگر آپ ایک ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں۔تو ملیحہ رحمان کا کہنا ہے کہ نئے ڈراموں میں یقین کا سفر دیکھنا چاہیے۔
سجل علی اور احد رضا میر کے اس ڈرامے میں شروع میں کچھ سنجیدہ تھا، لیکن اگر آپ کو رومانس دیکھنا ہے تو یہ ڈرامہ بہترین ہے۔
BBC