دو ہزار پاکستانی تبلیغی 35 ملکوں میں پھنس گئے

پاکستان سے تعلق رکھنے دو ہزار سے زائد تبلیغی جماعت کے ارکان دنیا کے 35 ملکوں میں پھنسے ہوئے ہیں جن کو واپس لانے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ‏بدھ کو وزیر مملکت برائے نارکوٹکس کنٹرول شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ تبلیغ سے وابستہ 2200 افراد دنیا کے 35 ممالک میں موجود ہیں جنہیں وطن واپس لانے کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اس سلسلہ میں تبليغی جماعت کی شوری کے ممبران سے بات چیت بھی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت یقین دلاتی ہے کہ بیرون ملک پھنسے ہوئے پاکستانی جلد وطن واپس آئیں گے۔ واضح رہے کہ پاکستان اور انڈیا میں ہر سال مارچ کے مہینے میں تبلیغی اجتماعات منعقد ہوتے ہیں جس میں دنیا بھر سے مسلمان مبلغ شرکت کرتے ہیں۔ عالمی وبا کورونا وائرس پھیلنے کے بعد تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد پر پاکستان اور انڈیا میں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے پر تنقید اور بیماری کو پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان اور انڈیا میں سینکڑوں تبلیغی کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ فلسطین کی وزارت صحت نے بھی گزشتہ ماہ تصدیق کی تھی کہ وہاں کورونا کے پہلے دو کیسز پاکستان سے تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے والے افراد کے تھ