طیب اردوان ایک واقعہ بیان کرتے ہیں، اپنے والد سے انہوں نے پوچھا کہ ہم عثمانی ترک ہیں یا کسی اور قبیلے کے؟ والد نے کہا: یہ سوال میں نے اپنے باپ سے پوچھا تھا

دعا ہے سو جاری رکھنی چاہئیے، صدقہ ہے، اللہ کی بارگاہ میں جو اپنے رفتگاں کی نذر کیا جا سکتاہے۔ جانے ملاقات کب ہوگی؟ طلوعِ مہر، شگفتِ سحر، سیاہی ء شب تری طلب، تجھے پانے کی آرزو،ترا غم عصرِ رواں کے عارف نے کہا تھا: آدمی کی اکثریت ایسی ہے کہ جیسی پیدا ہو، ویسی ہی دنیا سے اٹھ جاتی ہے، الّا یہ کہ ان کی زندگی میں کوئی بڑا حادثہ پیش آئے اورادراک کے در کھول دے۔ الّا یہ کہ کسی سچے استاد سے سامنا ہوجائے اور ترجیحات تبدیل ہو جائیں۔ وہ کہتے ہیں: زیاں بہت ہے، خدا کی کائنات میں زیاں بہت۔ اقبالؔ نے کہا تھا: ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمہ ء گل یہی ہے فصلِ بہاری، یہی ہے بادِ مراد؟ غالباً یہ 1938ء تھا،’’محسنِ انسانیت‘‘ کے مصنف نعیم صدیقی اقبالؔ سے ملنے گئے۔ ابھی ابھی مڈل کا امتحان پاس کرنے والا لڑکا، جس کے جی میں علم کی آرزو تڑپ اٹھی تھی۔ اقبالؔ کا گلا خراب تھا۔ گفتگو سے گریزاں تھے۔جاوید اقبال منزل کے صحن میں بہت سے لوگ بیٹھے تھے۔ نعیم صدیقی مفکر کے پاس پڑی کرسی پہ بیٹھ گئے اور منتظر رہے کہ کچھ ارشاد فرمائیں۔ اچانک اقبالؔ کی آنکھیں بھر آئیں۔ اپنے پلّو سے پونچھیں اور یہ کہا کہ افسوس، کوئی مخلص مسلمان نہیں ملتا۔ یہ مخلص مسلمان۔۔۔۔محمد علی جناح۔۔۔۔ مطلع پر طلوع ہوا تو دیکھتے ہی دیکھتے مسلم بر صغیر کی تقدیر بدل گئی۔ یہ الگ بات کہ پھر سے ہم تاریخ کے چوراہے پر سو گئے۔ عارف نے یہ بھی کہا تھا: اللہ کو کسی لشکر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسے ایک آدمی چاہئیے ہوتا ہے۔ سچا، مخلص اور متوکل۔ اپنے چھوٹے سے گاؤں میں سعید اظہر نے جو کچھ اخذ کیا، اسی کے ساتھ جیے اور اسی کے ساتھ دنیا سے چلے گئے۔اثرات بالعموم چار طرح کے ہوتے ہیں:ماں باپ کے، جینز کے، اساتذہ اور گردوپیش کے۔ ان میں اچھے رجحانات بھی تھے۔ مثلاً وہ بغض نہیں پالتے تھے۔ شکایت دراز نہ کرتے۔غیبت اور خودترسی سے ایک طرح کا گریز تھا لیکن ترجیحات کے تعین سے بے نیاز۔ وہ ایک انسان دوست آدمی تھے۔ وسائل تو فراوانی سے کبھی میسر نہ ہوئے لیکن طبعاً خیر خواہ تھے۔

شاہ عالمی کے گلبر گ ہوٹل سے ہم اٹھ آئے اور نئے ٹھکانے کی تلاش ہوئی۔ لاہور ہوٹل کا ایک وسیع و عریض کمرا تیس روپے کرایہ پر مل گیا۔ ہماری بساط سے یہ کچھ زیادہ تھا مگر کوئی متبادل انتظامِ وقت ممکن نہ تھا۔ رحمت علی رازی بھی آپہنچے۔ ایک لمحہ تامل کے بغیر سعید اظہر نے کہا: یہیں ہمارے پاس سو رہا کرو۔ سونے کا وقت آیا تو رازی کو پیشکش کی گئی کہ دو پلنگوں میں سے کسی ایک پر وہ سو جائیں۔ ہم میں سے کوئی فرش پہ شب بتا دے گا اور اس میں دشواری بھی کیا تھی۔ رازی نے انکار کر دیا۔ اس نے کہا: آپ کو فرش پر سلا کر میں توہین کا مرتکب نہیں ہو سکتا۔ پھر ا س نے صوفے سے ٹیک لگائی اور تپائی پہ پاؤں رکھ کر سو گیا۔ دو ماہ اسی طرح بتا دیے۔ بعد ازاں جنابِ جمیل اطہر نے ان کی سرپرستی کا فیصلہ کیا۔روزنامہ جرات کے دفتر میں زیادہ تر انہیں اوپر کے کام سونپے جاتے، وہ جسے انگریزی میں فائر فائٹنگ کہتے ہیں لیکن رازی ایک ضدی آدمی تھے۔ چھوٹی موٹی خبریں تلاش کرتے، آخر وہ سول سروس کے ایک ممتاز ماہر بن گئے۔اتنا اس کی باریکیوں کو سمجھنے لگے کہ صحافت میں ان کا نام چمک اٹھا۔ نہ صرف ایک بڑے اخبار کے کالم نگار ہو گئے بلکہ سب سے بڑے رپورٹر کاعزاز بھی پایا۔ یہ الگ بات کہ اس کے لیے انہیں اپنی ملازمت کی قربانی دینا پڑی۔ یہ الگ بات کہ مدیرِ مکرّم کی تنگ نظری نے ان پر ایک اور بھی زیادہ کشادہ در کھول دیا اور وہ ملک کے سب سے بڑے اخبار سے وابستہ ہو گئے۔ اس سے آدھی ریاضت سعید اظہر کرتے تو صحافت کے افق پہ ستارا بن کے دمکتے۔درویش مگر اپنی ڈگر پہ چلتا رہا۔ ایک کے بعد دوسرا اخبار اور دوسرے کے بعد تیسرا۔ نومبر1978ء میں شادی ہو گئی تو میں اپنے گھر میں جا بسا۔ اب ان سے ملاقات کم ہی ہوتی۔ سرِ راہے گاہے، لیکن جب بھی ملتے، اسی محبت اور اعتماد کے ساتھ۔ میرؔ نے کہا تھا روز ملنے پہ نہیں نسبت عشق کی موقوف عمر بھر ایک ملاقات چلی جاتی ہے یہ ملاقات برقرار رہی؛تا آنکہ جدائی کا وقت آن پہنچا۔

ماضی کبھی ختم نہیں ہوتا بلکہ ماضی ہوتا ہی نہیں، وہ ہمارے حال میں گھل جاتا ہے اور پھر مستقبل میں۔ میری زندگی میں سعید اظہر آج بھی زندہ ہیں۔ ترکیہ کے جری لیڈر طیب اردوان ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔ اپنے والد سے انہوں نے پوچھا کہ ہم عثمانی ترک ہیں یا کسی اور قبیلے کے؟ والد نے کہا: یہ سوال میں نے اپنے باپ سے پوچھا تھا تو انہوں نے کہا: یہی استفسار میں نے تمہارے دادا سے اور دادا نے پردادا سے کیا تھا۔ انہوں نے کہاتھا:منکر نکیر ہرگز یہ سوال نہ کریں گے۔ سعید اظہر کی مجبوریاں اسے پیپلزپارٹی کی طرف لے گئیں۔ انتقال پر جاری ہونے والے بیان میں انہیں ترقی پسند کہا گیا۔ ترقی پسند سے مراد اگر بدلتی دنیا کا ادراک ہے تو بجا لیکن مرحوم اس قبیلے کا حصہ ہرگز نہ تھے، جسے مغرب کی مرعوبیت نے پچکا دیا ہے۔ وہ اللہ اور اس کے سچے پیغمبرؐ کے ماننے والے تھے۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں:فرشتے نے جب ان سے پوچھا ہوگا: من ربک؟ تو شاید حیرت سے انہوں نے اس کی طرف دیکھا ہو اور یہ کہا ہو: کیا اللہ کے سو ابھی کوئی رب ہے؟ کیا محمدؐ کے سوا بھی کوئی ختم المرسلین ہیں؟ فارسی میں کہتے ہیں:لذیذتر حکایت دراز در گفتگو۔سعید اظہر کی زندگی کے کتنے ہی اور پہلو ہیں، جن پر بات کرنے کو جی چاہتا ہے۔ میرے پبلشر اور دوست مستقل اصرار کرتے رہتے ہیں کہ سعید اظہر، سعید صفدر، خلیل ملک اور پھر فاروق گیلانی مرحوم سے لے کر اپنے سب دوسرے جاننے والوں کے خاکے لکھوں۔ زندگی مہلت نہیں دیتی ورنہ ایک ذرا سی ریاضت کے سوا درکار ہی کیا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ حافظہ برقرار ہے۔ یادیں ہجوم کرتی چلی آتی ہیں۔ مثلاً مجیب الرحمٰن شامی اور فاروق گیلانی کے حوالے سے کتنے ہی واقعات یادداشت کی لوح پہ ابھر رہے ہیں لیکن اب اس کہانی کو ختم کرتا ہوں۔دعا ہے سو جاری رکھنی چاہئیے، صدقہ ہے، اللہ کی بارگاہ میں جو اپنے رفتگاں کی نذر کیا جا سکتاہے۔ جانے ملاقات کب ہوگی؟ طلوعِ مہر،شگفتِ سحر، سیاہی ء شب تری طلب، تجھے پانے کی آرزو،ترا غم
Haroon-ur-Rasheed-daily92