پھر تاریخ نے ایسا پلٹا کھایا کہ

ابھی ابھی میں ایک اشتہار دیکھ رہا ہوں۔ ایک عالمی شہرت کا برطانوی جریدہ پاکستان کے ایک بڑے اشاعتی ادارے سے مل کر اردو میں ایک سالانہ شمارہ شائع کرتا ہے۔ اس شمارے میں نئے سال کے حوالے سے بعض ماہرین کے مضمون ہوتے ہیں جس میں بتایا جاتا ہے کہ یہ سال کیسا ہو گا۔ اپریل آ گیا اور نئے سال کا سارا نقشہ بدل گیا‘ مگر یہ اشتہار چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ 2020ء کیسا ہو گا۔ بھلا کوئی ہے جو بتا سکے کہ آنے والے دن کیسے ہوں گے۔ مغرب میں کئی اہل دانش اس پر تجزیے کر رہے ہیں۔ انہیں یہ پڑی ہے کہ نیا نظام حیات کیسا ہو گا۔ اس کا بھی مطلب یہ ہے کہ نیا نظام معیشت کا نین نقشہ کیا ہو گا۔ دنیا نے 44 میں جنگ عظیم دوم کے خاتمے پر برطانوی شہر برئن ووڈ میں چند اصول وضع کئے تھے جو بعض تبدیلیوں کے باوجود موجود ہیں۔ اس میں دنیا بھر کی کرنسیوں کو ڈالر سے منسلک کیا گیا اور ڈالر کو سونے سے۔ 1971ء میں امریکہ نے سونے سے اپنا تعلق توڑ دیا۔ گویا اعلان کر دیا کہ ہماری کرنسی ہی اصل ہے۔ یہ سونے سے کم قابل اعتبار نہیں۔ دنیا اسی کو معیار سمجھے۔ اس مرحلے پر کہا گیا کہ برئن ووڈ ٹوٹ گیا ہے۔معلوم ہوا‘ نہیں‘ جاری ہے‘ اسے ہم برئن ووڈ2کہیں گے۔ گاہے گاہے اس میں تبدیلی ہوتی رہی۔ طے ہوا کہ آئندہ سے پٹرول کی خریدوفروخت امریکی ڈالر میں ہو گی۔ اسے ہم نے پٹرو ڈالر کہنا شروع کر دیا۔ خلاصہ یہ کہ1944ء میں جنگ عظیم دوم جیتنے والوں نے جس معاشی نظام کی بنیاد رکھی تھی‘ وہی دنیا کو کنٹرول کرتی آ رہی ہے۔ اب پوچھا جا رہا ہے کہ آیا‘ اب یہ نظامِ زر دم توڑ دے گا۔ معمولی تبدیلیوں کے بعد ایسے ہی جاری رہے گا۔ بہت سے سوال اٹھ رہے ہیں یورپی یونین کی طاقت کا کیا بنے گا۔

ان ملکوں میں تو ایک دوسرے کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ کیا چین کی ابھرتی ہوئی طاقت ایک فاتح کی حیثیت سے دنیا پر اثر ڈالے گی یا سب خواب خیال ہے۔ یہودی کا بنایا ہوا نظام زر بہت مضبوط ہے۔ اصل میں اسی نظام زر سے سیاست بدل جاتی ہے۔ اب دیکھئے آج ہی خبر آئی ہے کہ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت کی امداد بند کر دی ہے۔ اس حوالے سے اس کا جو بیانیہ بھی ہے‘ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ دنیا لرزہ براندام ہے۔ جانے آنے والے دنوں میں کون کس کا ساتھ دے گا۔ ریاستوں کے باہمی تعلقات کیا ہوں گے۔ کوئی جنوری میں بتا سکتا تھا کہ اپریل آتے آتے دنیا پر کیا بیتے گی۔ ہماری ساری پیش گوئیاں اکارت جاتی ہیں۔ میں ویسے بھی تاریخ کو کسی نظریے کے تحت آگے بڑھنے دیکھنے کا اتنا قائل نہیںسپنگلر‘ٹائن بی‘ مارکس‘ ہیگل سب ہمارے زمانے میں زیر غور رہے۔ خاص طور پر مارکس کی تاریخ کے حوالے سے مادی جدلیاتی تعبیر پر ایمان رکھنے والے تو اس کے اتنے قائل تھے کہ ہم اہل مذہب اس قدر مذہب کے قائل نہ ہوں گے۔ وقت نے بتایا مارکس کی اکثر تعبیریں غلط نکلیں۔ ہندوستان کے بارے میں تو مارکسی تعبیرلوگ ہنسا کرتے تھے اس وقت یہ مرا موضوع نہیں۔ میں نے بات یہاں سے شروع کی تھی کہ ماہرین یہ سودا بیچ رہے ہیں کہ 2020ء کیسا ہو گا اور وقت کی نگاہیں اس پر ہنس رہی ہیں۔ اس پر مجھے اپنی ایک حماقت یاد آتی ہے۔ جب نکسن دوسری بار امریکہ کا صدر منتخب ہوا تو اس کے بارے میں دنیا بھر میں ایک تاثر تھا۔ میں نے بھی آئو دیکھا نہ تائو‘ اس پر ایک ٹائٹل سٹوری کر دی۔ نکسن کا امریکہ کیسا ہو گا۔ اس میں الگ الگ سے عنوان باندھے۔ یہ امریکہ امریکیوں کے لئے کیسا ہو گا باقی دنیا کے لئے کیسا ہو گا اور خاص طور پر پاکستان کے لئے کیسا ہو گا۔ سارے تجزیے دھرے کے دھرے رہ گئے اور سب کچھ واٹر گیٹ کی نذر ہو گیا۔ میں اس وقت بھی مغرب میں نوبل انعام یافتہ ماہرین معیشت اور ماہرین سیاست کے تجزیے پڑھ رہا ہوں۔ کس اعتماد سے وہ آنے والے دنوں کے اندازے مرتب کر رہے ہیں۔ میں ان سے اس لئے متاثر نہیں ہو رہا کہ جب دنیا میں 2008ء کا اقتصادی بحران آیا تھا تو ایک جگہ میں نے آٹھ یا نو ماہرین کے تجزیے پڑھے تھے۔ سارے نوبل انعام یافتہ تھے یا ان کا مرتبہ اس سے کم نہ تھا۔ کسی کی رائے دوسرے سے ملتی نہ تھی اس سے میں نے اندازہ لگایا کہ کوئی نہیں جانتا کیا ہونے والا ہے۔ آج بھی کم از کم مرا بھی یہی حال ہے۔

ماہرین معیشت کی باتوں پر اس لئے زور دے رہا ہوں کہ اس وقت دنیا کا سارا نظام جو بھی ہے‘ بنیادی طور پر اقتصادیات کی بنیادوں پر قائم ہے۔ ویسے انسانی صحت کے ماہرین بھی اٹھکیلیاں کر رہے ہیں۔ کچھ پتا نہیں چلتا کیا ہونے والا ہے۔ سب سے دلچسپ بات تو اس صدی کے آغاز میں ہوئی تھی۔ نئی صدی آنے پر پہلے تو یہ بحث چل پڑی کہ صدی کا آغاز 2000 ء یا 2001ء میں۔ یعنی جب 1999ء کا سورج غروب ہو گا اور ہم اپنے حساب کتاب میں 19کے بجائے 20کا عدد ڈالیں گے تو صدی شروع ہو جائے گی۔ یا یہ گزشتہ صدی کا خاتمہ ہو گا۔ پھر بتایا گیا کہ یہ ڈیجیٹل کا زمانہ ہے۔ صرف تاریخ نہیں بدلے گی۔ بلکہ اس وقت کمپیوٹر پورا نظام بدل دے گا۔ ایسی ایسی باتیں تھیں کہ شاید زمین پھٹ جائے یا آسمان کی چھت گر پڑے۔ اس وقت تو یاد نہیں‘ کیا کیا تفصیل تھی کہ چلتے جہاں بدل لیں گے اور جانے کیا کیا ہو گا۔ اس لئے اس دن رات کے بارہ بجنے سے بچنے کے لئے ماہرین وقت کو ایک لمحہ آگے پیچھے کر دیں گے۔ یاد نہیں کیا کچھ کہا جانا تھا۔ اس بحث کی اتنی ہی عمر تھی‘ وگرنہ مجھے یاد ہوتی۔ان دنوں تو اس کے سوا کوئی گفتگو ہی نہ تھی۔ یوں لگتا تھا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے کائنات کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے ۔ جو کام نیٹشے سے نہ ہو سکا‘ وہ کر دکھایا ہے۔ یہ تو خیر ریاضیاتی بحث تھی دانشوروں کی دانش وری بھی کم نہ تھی۔یہ صدی امن کی صدی ہو گی۔ دنیا ایک گلوبل ویلیج بن کر سمٹ کر ایک ہو جائے گی۔ اب ملکوں کی سرحدیں بھی اہم نہ ہوں گی۔ علاقائی اتحاد و اہمیت اختیار کر لیں گے یورپی یونین کی طرز پر نئے نئے ماڈل کا ذکر تھا۔ بنیادی بات یہ تھی کہ یہ امن کی صدی ہے۔ یہیں صدی کا آغاز ہوا اور نائن الیون ہو گیا۔ دنیا دیکھتی ہی رہ گئی۔ہم سوچتے رہے یہ امن کی صدی تھی یا دہشت گردی کی۔ پھر تاریخ نے ایسا پلٹا کھایا کہ ان بیس برسوں میں کوئی بات ایسی نہیں ہو گی جس کے اندازے لگائے جاتے تھے۔ سارے خواب چکنا چور ہو گئے۔ کون جانتا ہے آنے والے دنوں میں کیا ہو گا۔ نہ پہلے کوئی جانتا تھا نہ اب کوئی جانتا ہے۔ ہاں‘ دنیا کو اپنے ڈھب پر ڈھالنے کی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ میری بساط تو بس اتنی ہے کہ اپنے رب سے دعا کروں کہ وہ آنے والے دنوں کو انسانیت کے لئے خوشگوار بنا دے۔ میری اس سے زیادہ بساط نہیں ہے۔ ہاں یہ وعدہ کرتا ہوں کہ دنیا کو خدا کے امیج پر ڈھالنے کے لئے وہ سب کچھ کروں گا جس کا میرا رب مجھے حکم دیتا ہے۔
Sajjad-Mir
-Daily92