جنرل ضیاء الحق بھٹو دور میں اٹارنی جنرل کا منصب سنبھالنے والے یحییٰ بختیار کو نشانِ عبرت بنانا چاہتے تھے

ضیاء الحق نے برسر اقتدار آنے کے بعد ناپسندیدہ سیاستدانوں کو ٹھکانے لگانے کیلئے Holders of representative offices (punishment for misconduct) order جاری کیا جس کے تحت عوامی نمائندوں کی طرف سے اختیارات کے ناجائز استعمال، انتخابات میں دھاندلی یا کسی قسم کی بےضابطگی کے ارتکاب پر کارروائی کی جا سکتی تھی۔ جنرل ضیاء الحق بھٹو دور میں اٹارنی جنرل کا منصب سنبھالنے والے یحییٰ بختیار کو نشانِ عبرت بنانا چاہتے تھے، اس لئے انہیں انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا کر خصوصی عدالت کے ذریعے پانچ سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی۔ یحییٰ بختیار نے 1977کے عام انتخابات میں محمود خان اچکزئی کے مقابلے میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور سرکاری نتائج کے مطابق جیت گئے۔ یحییٰ بختیار نے انصاف کے حصول کیلئے بلوچستان ہائیکورٹ سے رجوع کیا مگر شنوائی نہ ہوئی تو سپریم کورٹ کی زنجیرِ عدل ہلائی۔ 10فروری 1983کو چیف جسٹس محمد حلیم کی سربراہی میں سماعت کرنے والے بنچ نے خصوصی عدالت کی سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے یحییٰ بختیار کو باعزت بری کر دیا۔ جون 1994میں جب بینظیر بھٹو وزیراعظم جبکہ نواز شریف قائدِ حزب اختلاف تھے تو لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل اے یو سلیم نے ان کے خلاف مقدمہ درج کروایا جس میں الزام عائد کیا گیا کہ نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو انہوں نے علامہ اقبال ٹائون کے رچنا بلاک میں دو دو کینال کے کئی پلاٹ غیرقانونی طور الاٹ کئے۔ نواز شریف کے خلاف مقدمہ کی ایف آئی آر میں انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947اور جنرل ضیاء الحق کے بنائے گئے بدنامِ زمانہ PPOکی دفعات بھی شامل کی گئیں۔ خصوصی عدالت میں نواز شریف کے خلاف مقدمے کا چالان پیش ہو گیا مگر فردِ جرم عائد ہونے سے پہلے ہی نواز شریف نے سی آر پی سی کی دفعہ 265-Kکے تحت بریت کی درخواست دے دی جسے ٹرائل کورٹ نے مسترد کر دیا۔ نواز شریف نے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ پٹیشن میں اہم قانونی نکتہ یہ اُٹھایا گیا کہ اگر کسی قسم کی کوئی بےضابطگی ہوئی بھی ہے تو ایل ڈی اے قوانین موجود ہیں اور ایل ڈی اے ایکٹ کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے مگر متعلقہ قانون کی موجودگی میں پی پی او کے تحت مقدمہ چلانے کا کوئی جواز نہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے تین رُکنی بنچ نے نواز شریف کی یہ پٹیشن سنی اور سماعت کے بعد ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو یہ کہتے ہوئے کالعدم قرار دیا کہ اس مقدمے میں شامل دفعات کے تحت سزا کا کوئی امکان نہیں۔

ایک اور اہم فیصلہ پاکستان کے دوسرے چیف جسٹس، جسٹس منیر نے کیا جس کا ذکر حامد خان نے اپنی کتاب ’’A History of the Judiciary in Pakistan‘‘ میں کیا ہے۔ سندھ کے سابق وزیراعلیٰ ایم اے کھوڑو جو فیروز خان نون کی کابینہ میں وزیر دفاع تھے، بطور وزیر دفاع ان کا برتائو اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا نہیں تھا۔ ایوب خان مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے تو ایم اے کھوڑو کو بلیک مارکیٹ اور ذخیرہ اندوزی آرڈر کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ الزام تھا کہ ایم اے کھوڑو نے شیورلے کار خریدی اور چند ماہ بعد 49ہزار میں بیچ دی جبکہ اس کار کی کنٹرولڈ پرائس 23ہزار تھی۔ کھوڑو کو پانچ سال قید بامشقت اور ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی گئی۔جسٹس منیر اس مقدمے میں ایم اے کھوڑو کو ریلیف دینا چاہتے تھے ۔ اس موقع پر انہوں نے جو پالیسی اپنائی اس سے سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹی۔ جسٹس منیر نے اپیل منظور کرتے ہوئے یہ سزا اس بنیاد پر کالعدم قرار دیدی کہ مارشل لا آرڈر نمبر 10کے تحت کوئی ایسی شق نہیں کہ ڈپٹی مارشل لا ایڈمنسٹریٹر سزائوں کی توثیق کر سکے اور نہ ہی کوئی ایسی شق دستیاب ہے جس کے تحت مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اپنے اختیارات ڈپٹی مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کو منتقل کر سکے۔ جسٹس منیر نے لکھا کہ وہ نہ تو رٹ جاری کر رہے ہیں اور نہ ہی کسی مارشل لا حکم کو منسوخ کیا جا رہا ہے مگر چونکہ ایم اے کھوڑو کو سزا دینے کی توثیق ڈپٹی مارشل لا ایڈمنسٹریٹر نے کی ہے اس لئے قانونی اعتبار سے یہ غیر موثر ہے۔

ان واقعات کے تناظر میں ’’جنگ‘‘ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کے خلاف ہو رہی کارروائی کا جائزہ لیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ۔ اول تو الاٹیز کوئی اور تھے اور ان سے میر شکیل الرحمٰن نے زمین خریدی لیکن بالفرض کسی ضابطے کی خلاف ورزی ہوئی بھی تو آج تک کسی الاٹی کے خلاف مقدمہ نہیں ہوا بلکہ الاٹمنٹ کرنے والے کے خلاف کارروائی کی گئی۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ جب متعلقہ قانون موجود ہو تو کسی اور قانون کے تحت کارروائی نہیں ہو سکتی، یعنی نیب کو کارروائی کا اختیار نہیں۔ اس ضمن میں لاہور ہائیکورٹ کے محولا بالا فیصلے کے علاوہ کئی نظائر پیش کی جا سکتی ہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ اعلیٰ عدالتیں ٹرائل پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں لیکن اگر ٹرائل غیر قانونی ہو تو رٹ جاری کئے بغیر اس کارروائی کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ میر شکیل الرحمٰن کے وکلا کا تو شروع سے موقف یہی رہا ہے کہ ان کی گرفتاری غیر قانونی ہے۔ مارشل لا ادوار میں بھی یوں انصاف کا قتلِ عام نہیں ہوا تو اس نام نہاد سول دور میں کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں?Mohammad-Bilal-Ghouri-Jang